جذبے کو جنون بننے مت دیں

جذبے کو جنون بننے مت دیں
جذبے کو جنون بننے مت دیں

  

زندگی کے اس طویل سفر کی منزلیں بہت کٹھن ہیں ، ہم میں سے ہر کوئی اپنے اندر بہت سی خواہشات رکھتا اور اس دنیا کو پل بھر میں فتح کرلینا چاہتا ہے ۔ لیکن اکثر اوقات ہمیں ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے شاید اس لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ’’ میں نے اللہ تعالی کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ۔ ‘‘ 

مسلسل محنت اور جدوجہد سے عبارت زندگی کے اس سفر میں خوشیاں بھی ہیں ، ناکامیاں بھی اور ادھورے کام رہ جانے کی حسرت بھی ۔ لیکن پھر بھی انسان کی سرشت میں کوشش کرنا ہمہ وقت موجود ہے  اور یہ قرآن پاک میں بھی ہے کہ ’’ انسان کو اتنا ہی ملے گا جس کے لئے اس نے کوشش کی ۔ ‘‘ 

بات ہو رہی ہے انسانی ان گنت خواہشات اور ان کی تکمیل کے لئے جذبوں کے پروان چڑھنے کی ۔ جذبہ ہر ذی شعور انسان میں موجود ہے یعنی کوئی کھیل کے میدان میں سبقت لینا چاہتا ہے تو کوئی  تعلیم کے مدارج طے کرنے کے لئے  اپنی صلاحیتں وقف کرتا نظر آتا ہے ۔ کسی کے نزدیک کامیاب بزنس کامیابی ہے تو کوئی اپنے دل میں اپنے گھر کی  تعمیر کی تمنا لئے محنت کیے جا رہا ہے ۔ 

 لیکن  کیا ان سب جذبوں کو جنون بننے سے نہیں روکنا چاہیے ؟ یقینا آپ سب بھی مجھ سے ضرور اتفاق کریں گے کہ جذبوں کی تکمیل کے لئے  کوشش اور جستجو کی بھی ایک حد متعین ہونی  چاہیے ۔ ورنہ اعتدال سے بڑھی ہوئی کوئی بھی چیز یا عادت باعث ہلاکت  بن جاتی ہے ۔ 

حالیہ کوہ پیمائی کا واقعہ ابھی آپ بھولے نہیں ہوں گے ، محمد علی سدپارہ کی کوہ پیمائی کے لئے خدمات رہتی دنیا تک نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ باہر کے لوگ بھی یاد رکھیں گے ۔ لیکن کیا کوہ پیمائی کے لئے کوئی واضح ضابطے اور احتیاطی تدابیر ضروری نہیں ؟ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کوہ  پیمائی  تو کیا تمام ایسے سپورٹس کے لئے حدود متعین ہونی چاہیں  جو انسانی جان کے لئے رسک یا خطرہ ہو؟ 

بل فائنٹنگ دیکھ لیں یا ریس ، ریسلنگ  یا کوہ پیمائی ، سوئمنگ یا باکسنگ  یقینا ایسے کھیلوں اور مہم جوئی میں  بچنے کی بجائے رسک زیادہ ہے ۔ میں اس کھیل کو کھیل ہی نہیں مانتی  جس سے انسان کو صرف اور صرف تباہی ملے ۔ 

یہاں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ملک میں  سوائے کرکٹ کے کسی اور کھیل کو  کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ، چاہے وہ کبڈی ہو باکسنگ یا مہم جوئی کا کوئی اور طریقہ ، نہ تو ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے  نہ ہی انہیں  کسی قسم کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے ۔ 

کوئی ادارہ ایسا نہیں ہوتا جو ان گیمز کو سپورٹ کر سکے ، پھر حال وہی ہوتا ہے جو محمد علی سدپارہ کا ہوا ۔ جذبات میں آکر انسان بہت کچھ کر بیٹھتا ہے ، نام شہرت یہ سب اپنی جگہ رہی لیکن جان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے کیونکہ یہ زندگی اللہ تعالی کی امانت ہے ۔  اس بیش قیمت زندگی کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے اور ہر چیز ایڈونچر نہیں ہونی چاہیے ۔  

کیا یہ ذمہ داری حکومت اور ارباب اختیار کی نہیں تھی کہ کوہ پیمائی کے لئے محمد علی سدپارہ  کو ہر طرح کی سہولت باہم پہنچائی جاتی ؟ مالی لحاظ سے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جاتا  تاکہ انھیں اپنی روزی روٹی کے لئے اتنی سخت مشقت والا کام نہ کرنا پڑتا ؟ انھیں اس سرد موسم میں کے ٹو سر کرنے کے ضمن میں خطرات سے عملی طور پر آگاہ کیا جاتا ؟ جس کمپنی کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے اس کو بھی بھرپورتعاون  کا یقین دلایا جاتا ۔ قوم کے سپوت اسی طرح  اپنی جانیں گنواتے رہے  تو سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہونا ۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -