محمد بن سلیمان کو جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کی رپورٹ ، امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹرنے بھانڈا پھوڑ دیا

محمد بن سلیمان کو جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کی رپورٹ ، امریکی ...
محمد بن سلیمان کو جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کی رپورٹ ، امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹرنے بھانڈا پھوڑ دیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ جس میں مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قرار دیا ہے نے پوری دنیا میں تہلکہ برپا کیا ہوا ہے تاہم اب امریکہ کے نیشنل انٹیلی جنس ادارے کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گرینیل نے رپورٹ بارے ایسا انکشاف کیا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ کے لئے نئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی ۔

عرب خبر رساں ادارے "العربیہ"کے مطابق امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس ادارے کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر رچرڈ گرینیل نےانکشاف کیا ہے کہ  جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق جاری کردہ خفیہ رپورٹ میں سیاسی مقاصد کے لیے ردوبدل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کی ٹیم کی طرف سے جاری کردہ خاشقجی رپورٹ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے،یہ بس مفت بری میں انٹیلی جنس کو نئے سرے سے پیک کرکے پیش کیا گیا ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے انٹیلی جنس معلومات میں قطع وبرید کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے  امریکی خفیہ اداروں کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس رپورٹ میں غلط معلومات شامل ہیں ،سعودی عرب نے خاشقجی کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کے لیے تمام ضروری عدالتی اقدامات کئے،سعودی عدالتوں نے متعلقہ افراد کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے انہیں سزائیں سنائیں اور خود جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے ان سزاؤں کا خیر مقدم کیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافی جمال خاشقجی شہزاد ہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں اور اقتدار پر ان کی گرفت پر نکتہ چینی کے لیے معروف تھے۔ انہیں 2018 ءمیں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر قتل کر دیا گیا تھا،بعد ازاں سعودی عرب نے اس قتل میں ملوث پانچ افراد کو بیس، بیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے افشاء کئے جانے پر برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ رپورٹ کا افشاء کیا جانا، مشرق وسطیٰٰ کے سب سے طاقتور ترین شخص شہزادہ محمد بن سلمان کی طاقت، عزت اور بین الاقوامی سطح پر حیثیت کے لیے ایک دھچکہ ہے۔ اس سے قبل  امریکی صدرجو  بائیڈن نے اشارہ دیا تھا  کہ وہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بجائے شاہ سلمان کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -