تحریک عدم اعتماد 

 تحریک عدم اعتماد 
 تحریک عدم اعتماد 

  

اردو بازار لاہور کے باہر ایک مداری ہوا کرتا تھا جو اپنے گھر سے نکلتا اردو بازار  کے باہر اپنی دری بچھاتا  مجمع جمع کرتا ایک سٹیل کی گڑو ی  جس کے منہ پر کپڑا بندھا  ہوتا تھا زور سے زمین پر مارتا  اور بلند آواز میں کہتا کہ دیکھنا ابھی  اس میں  سے  خرگوش نکلے گا، جب اسے یقین ہو جاتا کہ سب تماشائی متوجہ ہوگئے ہیں تو وہ بواسیر،پیٹ  کے درد،اعصابی کمزوری، رنگ سرخ اور جسم کو توانا بنانے والی ادویات بیچنا شروع کر دیتا جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ عوام کی توجہ بھٹک رہی ہے تو وہ پھر سے گڑوی   زمین پر مارتا اور بلند آواز میں کہتا کے دیکھنا ابھی  خرگوش نکلے گا اور پھر سے اپنی دوائیاں فروخت کرنا شروع کر دیتا دو تین گھنٹے  یہ تماشا جاری رہتا ہے آخر میں وہ اپنی دری   لپیٹا اور گھر کو چل دیتا ۔

موجودہ حکومت نے بھی ہمارے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا چور،ڈاکو،غدار،کرپشن،مہنگائی،بے روزگاری، غربت،پچاس  لاکھ گھر،تین سو ڈیم، آئی ایم ایف سے آزادی،لوٹی دولت واپس قومی خزانے میں، ایک ارب درخت،خوشحالی سستی بجلی، گیس،پیٹرول، اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کا خرگوش  نکالنے کا کہہ کر عوام کی توجہ اور  ہمدردیاں حاصل کیں  اور ملک برباد کردیا۔ 

اس وقت پاکستان میں کرپشن،اور مہنگائی  کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوچکا ہے    پٹرول گیس بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت، خزانہ خالی،ملک میں انفراسٹرکچر نام کی کوئی چیز نہیں حتیٰ کہ تمام وعدے جھوٹے اور فراڈ نکلے  ایسی صورت حال میں جب حکومت نے عوام سے دو وقت کی روٹی تک چھین لی فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے  بیروزگاری میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے مہنگائی نے امیر غریب اور سفید پوش تمام  افراد کی درگت نکال دی ہے۔تب جا کر حزب اختلاف کی جماعتوں کو خیال آیا کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لانی  چاہیے میرے مطابق ملک میں ان حالات میں جتنی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اتنی قصوروار حزب  اختلاف بھی ہے کیوں کہ جب پی ٹی آئی حکومت ملک برباد کر رہی تھی تو اس وقت حزب اختلاف خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی، اسے تقریبا چار سال گزرنے کے بعد ہی عوام کا خیال کیوں آیا۔

  جہاں پر  اپوزیشن اتنا لمبا عرصہ خاموش رہی ہے ان سے گزارش ہے کہ ابھی بھی  خاموش رہیں  حکومت کو سیاسی شہید ہونے سے بچائیں،انہیں گڑوی سے خرگوش نکالنے دیں اگر اب حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا تو یہ پھر سے عوام میں آئیں گے،اگرچہ عوام سے بات کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے لیکن یہ پھر بھی کہیں گے کہ اگر ہمیں پانچ سال پورے کرنے دیے جاتے تو ہم نے خرگوش نکال دینا تھا۔اس لئے میں حزب  اختلاف کی تمام جماعتوں سے بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں میں یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر حکومت کو پانچ سالوں کا وقت مکمل کرنے دیا جاتا ہے تو اس کا انجام مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی سے مختلف نہیں ہوگا عوام کی فکر کرنا چھوڑ دیں ہم گزارا کر جائیں گے عوام پہلے ہی حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے غربت کے ہر پیمانے سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان حالات میں قوم یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکے گی کہ اپوزیشن جماعتیں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت گرانے میں کامیاب ہوجائیں،کیونکہ اگر موجودہ حکومت اپنا مقرر وقت پورا کر جاتی ہے تو اگلے الیکشن میں جانے کے لیے ان کے پاس کوئی جواز نہیں رہے گا۔

جناب شہباز شریف سے عاجزانہ اپیل ہے کہ براہ کرم حکومت کو وقت پورا کرنے دیں تاکہ اگلے پانچ سال آپ پھر سے باوقار طریقے سے حکومت بنائیں  اور چلائیں اس حکومت نے عوام کا جس طرح جینا دو بھر کیا ہے عوام کبھی نہیں بھولیں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر کام کرنے والے افراد انہیں  بھولنے دیں گے جس طرح چار سال سے عوام اور آپ خاموشی سے ہر ظلم برداشت کر رہے ہیں تھوڑا اور کرلیں ایک سال رہ گیا ہے ۔

شاید یہ گڑوی سے خرگوش نکالنے میں کامیاب ہوجائیں آپ اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کی جنگ لڑیں  ویسے بھی اپوزیشن  چار سال  سے چھٹیاں گزار رہی ہے تھوڑا اور وقت اور گزار لیں،اگر اب تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو پی ٹی آئی گورنمنٹ سیاسی شہید کا درجہ پا جائے گی اور عوام کسی صورت ان کی شہادت برداشت  نہیں کر سکیں گے برائے کرم عدم اعتماد روک لیں  عوام کی جان ہمیشہ کے لئے چھوٹنے والی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -