کیا رشیا۔ چائنا بلاک حقیقت بننے والا ہے؟

        کیا رشیا۔ چائنا بلاک حقیقت بننے والا ہے؟
        کیا رشیا۔ چائنا بلاک حقیقت بننے والا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  روس اور یوکرین کی جنگ کو شروع ہوئے دو سال گزر گئے ہیں۔(فروری 2022ء میں اس جنگ کا آغاز ہوا تھا)…… اس جنگ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مگر یہ ”سب کچھ“ مغربی میڈیاکے توسط سے ہم پاکستانیوں کو بالواسطہ مل رہا ہے،براہِ راست معلومات تو صرف یورپین اور امریکن قارئین کے حصے میں آتی ہیں اور یا پھر رشین میڈیا کے توسط سے ہمیں بھی کچھ نہ کچھ جاننے سمجھنے کو مل جاتا ہے۔

لیکن رشین میڈیا کی رسائی ہم تک شاذ ہی ہوتی ہے۔ کوئی رشین اخبار ہم تک نہیں پہنچتا۔ صرف ایک وسیلہ ہے جو ”رشین ٹیلی ویژن“ (RT) کے نام سے یوٹیوب سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم آج کل RT پر اس جنگ کے بارے میں جو خبریں دی جا رہی ہیں وہ محض رشین پراپیگنڈہ نہیں، بلکہ ان کی توثیق مغربی پریس اور الیکٹرونک میڈیا سے بھی ہو رہی ہے۔ رائٹر،AFP اور الجزیرہ وغیرہ  کے علاوہ مغرب کا پریس میڈیا ایک ہی راگ الاپ رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب دو سال بعد یوکرین اس جنگ میں ایک بڑی شکست کے آثار سے دوچار ہے۔ اس کی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یوکرین کو اس جنگ کے لئے جس مقدار اور تعداد میں ایمونیشن (گولہ بارود) درکار ہے، وہ اسے نہیں مل رہا۔

یہ جنگ، پاکستان سے دور لڑی جا رہی  ہے لیکن جنگ تو ہے! اس سے جو اسباق ہم مشرق کے مسکینوں کو مل رہے ہیں وہ اگرچہ مغرب کی ”عطا“ ہیں لیکن اس ضمن میں درج ذیل پہلوؤں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے:

1۔ہم جیسے ایشیائی ممالک کو ”خواہ مخواہ“ باور کروایا جا رہا ہے کہ روس اور یوکرین  دو برابر کے فریق ہیں۔

2۔ اول اول (فروری 2022ء سے لے کر فروری 2023ء تک) یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ یوکرین اس جنگ میں جیت رہا ہے۔

3۔پھر کہا جانے لگا کہ روس نے یوکرین کے بعض مشرقی ”صوبوں اور شہروں“ پر قبضہ کر لیا ہے۔ (ان صوبوں اور شہروں کا کل رقبہ ہمارے صوبہ سندھ سے بھی ایک چوتھائی ہے۔)

4۔روس کی جنگی ہلاکتیں، روسی عسکری قائدین کے لئے باعثِ تشویش ہیں۔ درجنوں روسی جرنیل یوکرینی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

5۔ یوکرین کو امریکہ اور مغربی یورپ سے جس مالی اور اسلحی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ نہیں مل رہی۔ وغیرہ وغیرہ 

لیکن اس کے مقابلے میں اصل حقیقت یہ ہے کہ:

1۔مغرب کے ممالک جن کا سرخیل امریکہ  ہے، یوکرین کو ”ٹاپ آف دی لائن“ اسلحہ اور ایمونیشن فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد بھی ”اربوں ڈالر“  کے دائرے میں ہے۔

2۔روس کی جنگی اتلافات (Casualties) سینکڑوں میں ہیں اور ان کے مقابلے میں یوکرین کی جنگی صنائعات ہزاروں لاکھوں میں ہیں۔

3۔ مغربی (ناٹو) ممالک کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ اور ایمونیشن کی جس امداد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ اب دو برس گزرنے کے بعد محض برائے نام رہ گئی ہے…… برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور سویڈن وغیرہ کی طرف سے جو امداد دی گئی تھی وہ یوکرین کی ڈیمانڈ سے بہت کم تھی۔

4۔ یوکرین کی اپنی ”وار پروڈکشن“ روسی اسلحہ اور گولہ بارود کے حجم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

5۔ناٹو ممالک، اب تک یوکرین کو جو امداد دیتے رہے ہیں وہ ان کی اپنی کم سے کم سیکیورٹی ضروریات کے پیشِ نظر زیادہ نہ تھی۔کل کلاں اگر اس جنگ کا دائرہ پھیلتا ہے تو اِن ناٹوممالک کو اپنے دفاع کے لئے جس اسلحی حجم کی ضرورت ہو گی، وہ ان ممالک کے دفاعی کرتا دھرتاؤں کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔

6۔ ہر ملک کا جنگ لڑنے کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے…… ہم پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ 1948ء،1965ء اور 1971ء کی پاک۔ بھارت جنگوں میں ہمارا یہ  دورانیہ (War Stamina) محض چند دنوں تک تھا۔ آج بھی پاکستان ملٹری کا روائتی جنگ لڑنے کا ”وار سٹیمنا“ تین ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوگا۔ قارئین کو معلوم ہے کہ 1965ء کی جنگ 6ستمبر کو شروع ہوئی تھی اور 23ستمبر کو جنگ بندی ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان کا وار سٹیمنا بھی صرف 17دنوں کے بعد ”جواب“ دے گیا تھا۔اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی درخواست سب سے پہلے بھارت نے کی تھی اور پھر پاکستان نے بھی اسے ”بادلِ نخواستہ“ منظور کرلیا تھا۔ یہی حال 1971ء کی جنگ کا بھی تھا۔ یہ جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئی تھی اور 16دسمبر کو ڈھاکہ فال ہوگیا تھا۔ لیکن جس پہلو کو ہم پاکستانی فراموش کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نے مغربی پاکستان میں جنگ بندی کیوں قبول کر لی تھی؟ تاریخِ جنگ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مغربی پاکستان کی فورسز کے ”دانے“ بھی ختم ہو گئے تھے۔ ایک طرف ہمارے GHQنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے تو دوسری طرف بھارت کی فورسز نے بھی مشرقی پاکستان کی فتح کے بعد ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔ ان کا وارسٹیمنا بھی ختم ہو گیا تھا!

7۔ امریکہ اب تک یوکرین کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کر چکا ہے لیکن یوکرینی فوج پھر بھی روسی فوج کا کچھ بگاڑ نہیں سکی۔ آج بھی صدر بائیڈن نے یوکرین کے لئے کانگریس کو اربوں ڈالر امداد کا بل بغرضِ منظوری بھیجا ہے، کانگریس کی طرف سے اس کی منظوری نہیں دی جا رہی۔ پینٹاگون کے کمانڈروں نے برملا، وائٹ ہاؤس کو کہہ دیا ہے کہ امریکہ مزید اسلحی اور مالی امداد یوکرین کو فراہم نہیں کرسکتا۔

8۔حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اپنے مغربی اتحادیوں سے مل کر فتح کا جو خواب دیکھا تھا، وہ چکنا چور ہو چکا ہے۔ مغربی مبصروں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ روس اور یوکرین کا آپس میں کیا مقابلہ؟ ناٹو ممالک مل کر بھی روسی دفاع میں کوئی دراڑ(Dent) نہیں ڈال سکتے۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ نے یوکرین کو ”ہلہ شیری“ دی، اس کے 60ہزار فوجیوں کو مروایا، دو لاکھ کو گھائل کروایا اور آج زیلنسکی (یوکرینی صدر) یہ فریاد کررہا ہے کہ میرا ملک مزید جنگ نہیں لڑ سکتا۔ آج یوکرین کا سارا مواصلاتی انفراسٹرکچر تباہ ہو کے رہ گیا ہے، بڑے بڑے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، زرعی اجناس کی پیداوار اتنی کم ہو چکی ہیں کہ قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، ٹاپ ملٹری کمانڈرز ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں اور ان کو فائر (Sack) کرنا پڑا ہے اور روسی افواج کا بال تک بیکا نہیں کیا جا سکا۔

قارئین محترم! سوال یہ ہے کہ یوکرین کی اس بربادی کا اصل ذمہ دار اور معمار کون تھا اور اس نے یوکرین کی ”جنتا“ کو کیا گولی دی تھی کہ وہ روس جیسی عظیم ملٹری پاور سے جنگ آزمائی کا ”پنگا“ لے بیٹھی!……

ہم پاکستانیوں کو اور کچھ نہیں تو مغرب کی اس چال سے کچھ سبق تو حاصل کرنا چاہیے…… امریکہ اور اس کے دوسرے یورپین حواری یہ جنگ ہار چکے ہیں۔امریکہ  مشرقِ وسطی سے بھی پنگا لے کر دیکھ چکا ہے اور یہاں بھی اس کی ہار نمایاں ہے۔ حماس کے حملے کے بعد وہ اگرچہ اسرائیل کی ہر طرح کی حمائت کررہا ہے لیکن سٹرٹیجک سطح پر امریکی بلاک، شکست و ریخت کا شکار ہے۔عالمی مبصرین ایک عرصہ سے پیشگوئی کر چکے ہیں کہ توازنِ اقتدار اب مغرب کے ایوانوں سے نکل کر مشرق کے محلات میں جا چکا ہے اور ایک نیا روس۔ چین بلاک ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں رفتہ رفتہ زور پکڑ رہا ہے۔

پاکستان کے امروزہ سیاسی حالات بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔8فروری کے الیکشنوں میں ”آزاد امیدواروں“ کی کامیابی کس طرف اشارہ کررہی ہے؟ امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کا چہار رکنی اتحاد لڑکھڑاتا معلوم ہو رہا ہے۔ دو تین ماہ بعد انڈیا میں جو الیکشن ہونے والے ہیں ان میں نریندر مودی کی جیت نوشتہ ء دیوار ہے لیکن کیا انڈیا اس ”چہار رکنی اتحاد“ کے معاہدوں پر عمل پیرا ہو سکے گا یا ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو سنٹو اور سیٹو کی طرح کے بہت سے معاہدوں کا ہو چکا ہے۔

روس۔ یوکرین کی اس جنگ میں اگر روس کی کامیابی اظہر من الشمس ہے تو نئے ”رشین۔ چائنا بلاک“ کا ”شمس“طلوع ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا!

مزید :

رائے -کالم -