پوزیشن میں ہونے کے باوجود آصفہ بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ نہ بنائے جانے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

پوزیشن میں ہونے کے باوجود آصفہ بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ نہ بنائے جانے ...
پوزیشن میں ہونے کے باوجود آصفہ بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ نہ بنائے جانے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی، اسلام آباد (ویب ڈیسک) پوزیشن میں ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب سے  آصفہ بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ نہ بنائے جانے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی اور قرار دیا گیا ہے کہ ماضی میں ان کے خاندان کی طرف سے کسی نے بھی صوبائی اسمبلی سے اپنی سیاست شروع نہیں کی اور یہی روایت چلی آرہی ہے ، انہیں کراچی کے علاقے لیاری یا سندھ کے دیگر شہری و دیہی علاقوں کے محفوظ حلقوں سے الیکشن لڑوا کر با آسانی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کروایا جاسکتا تھا۔

جیونیوز کیلئے نسیم حیدر نے لکھا کہ ’’دو وجوہات کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے پوزیشن میں ہونے کے باوجود آصفہ بھٹو زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ بنانے سے گریز کیا۔ پہلی اور سب سے اہم بات شاید یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو ہوں، ان کی اہلیہ اور سابق خاتون اول نصرت بھٹو، خود بھٹو کی بیٹی بے نظیر ہوں یا ان کے شوہر آصف زرداری اور اب تیسری پیڑھی میں بلاول بھٹو زرداری، ان میں سے کسی نے بھی صوبائی سطح سے سیاست کا آغاز نہیں کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ میں بطور وزیر کامرس اپنی سیاست کا آغاز کیا، کئی اور وزارتیں سنبھالیں اور پھر ملک کے صدر اور وزیراعظم بنے۔شوہر کو آمر جنرل ضیاالحق کے دور میں پھانسی دی گئی تو بیگم نصرت بھٹو سیاسی طورپر متحرک ہوئیں اور 1988 میں لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئیں، وہ بے نظیربھٹو کی کابینہ میں وزیر اور نائب وزیراعظم بھی رہی تھیں۔

پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو، بے نظیر ہوں یا ان کے شوہر آصف زرداری اور اب تیسری پیڑھی میں بلاول بھٹو زرداری میں سے کسی نے بھی صوبائی سطح سے سیاست کا آغاز نہیں کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جانشین اور بڑی بیٹی بے نظیربھٹو بھی 1988 ہی میں پہلی بار لاڑکانہ ہی سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

اتفاق یہ ہے کہ حاکم علی زرداری نے بھی 1972، 88 اور 93 میں تین الیکشن قومی اسمبلی کے لڑے، آصف زرداری کی بہنیں فریال تالپور  اور ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ کر ہی عملی سیاست کا آغاز کیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ اب ایک عرصے سے وہ سندھ اسمبلی کی فعال رکن ہیں، انہیں بھی وزیراعلیٰ سندھ بنایا جاسکتا تھا مگر پیپلزپارٹی نے شاید جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔

 جہاں تک بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا تعلق ہے تو اس نے بھی قومی سطح سے ہی عملی سیاست کا آغاز کیا۔ بھٹو کے سیاسی وارث اور بے نظیر بھٹو کے جانشین بلاول بھٹو نے اپنے نانا کی طرح لاڑکانہ ہی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ بختاور بھٹو زرداری نے ان کے جلسوں میں تو شرکت کی مگر عملی سیاست سے تاحال گریز کیا ہے۔لباس اور انداز سے بے نظیربھٹو جیسی آصفہ بھٹو انتخابی مہم میں غیرمعمولی حد تک فعال رہیں۔ جلسوں، ریلیوں میں شرکت اور جیالوں کے اہل خانہ کی دلجوئی کرنیوالی آصفہ بھٹو کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ یہ الیکشن لڑیں گی۔صوبائی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑتیں تو با آسانی منتخب ہو کر سندھ کی کم عمر ترین اور پہلی وزیراعلیٰ بھی بن سکتی تھیں لیکن پارٹی قیادت نے ایسا نہیں کیا۔