ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب

ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب
ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق 199 ووٹ لے کر تیسری مرتبہ سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عامر ڈوگر نے 91 ووٹ حاصل کیئے ۔

تفصیلات کے مطابق ایاز صادق نے سپیکر منتخب ہونے کے بعد عہدے کا حلف لیا جس کے بعد راجہ پرویز اشرف سبکدوش ہونے کے بعد ایوان میں اپنی نشست پر چلے گئے، قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ایاز صادق نے سنبھال لی ہے اور اب وہ ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کروائیں گے  ۔ ڈپٹی سپیکر کیلئے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار غلام مصطفیٰ ہیں ۔

سپیکر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری تھا کہ اس دوران گیلری میں بیٹھے مہمانوں کی جانب سے گھڑی چور کے نعرے لگانا شرو کر دیئے گئے، جس پر شور شرابہ ہوا ، ن لیگ اور سنی اتحاد کے اراکین آمنے سامنے آ گئے اور جھگڑا شروع ہو گیا، سپیکر نے سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر گیلری میں موجود نعرے لگانے والوں کو ایوان سے باہر نکال دیا۔ 

  مہمانوں کی گیلری میں جھگڑے پر سکیورٹی کال کرلی گئی، سپیکر نے شور مچانے والے مہمانوں کو باہر نکالنے کا حکم دیدیا،سنی اتحاد کونسل کے ارکان  سپیکر ڈائس کے گرد جمع ہو گئے ، ارکان نے  احتجاج اور نعرے  بازی کی،سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے تمام گیلریاں خالی کروانے کا مطالبہ کر دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز 19 ویں قومی اسمبلی کے پہلے سیشن میں 336 رکنی ایوان کے 302 ارکان نے حلف اٹھایا تھا۔

ایاز صادق

 اپوزیشن کے بینچوں سے گزارش ہے کہ اختلاف ضرور کریں کیونکہ یہ جمہوری حسن ہے ، اختلاف ملکی بہتری کیلئے کریں، حکومت کا کام ہے کارکردگی دکھانااور ملک کو درپیش مسائل سے نکالنا اور اپوزیشن کا کام اس کی اصلاح کیلئے تنقید کرناہے۔

ایا ز صادق نے قومی اسمبلی کا سپیکر منتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری کے ساتھ سر نگوں ہوں جس نے مجھے تیسری مرتبہ اس باوقار منصب پر فائز کیا ، تیسری مرتبہ اس منصب کیلئے نامزد کرنے پر نوازشریف کا شکریہ ادا کرتاہوں  انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، ن لیگ کے صدر شہبازشریف اور ان کے ساتھ گزشتہ پانچ سال کام کرنے کا موقع ملا، ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں صدر آصف علی زرداری کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے تیسری مرتبہ اعتماد کے ووٹ سے نوازا، میں بلاول بھٹو کا بھی اعتماد ظاہر پر شکریہ ادا کرتاہوں ۔خالد مقبول صدیقی اور ان کی جماعت کا بھی شکر یہ ادا کرتاہوں جنہوں نے مجھے دوسری مرتبہ سپیکر بنانے کیلئے ووٹ دیا ۔

عبدالعلیم خان ، بلوچستان عوامی پارٹی کے لیڈر خالد مگسی ، این اے 120 کے عوام اور ووٹرز کا شکریہ ادا کرتاہوں جنہوں نے مجھے اس منصب پر فائز کیا ۔ میں عامر ڈوگر کا بھی شکریہ اداکرتاہوں جنہوں نے جمہوری عمل میں حصہ لے کر اپنا کردار ادا کیا، عامر ڈوگر نے مجھے ہمیشہ عزت دی اور بھائی کہہ کر بلایا ہے میں آپ کو بڑا بھائی بن کر دکھاوں گا۔

سپیکر اسد قصیر جنہیں میں ہمیشہ سپیکر کہتاہوں ، یہاں بے شمار میرے دوست بیٹھے ہیں جن کے ساتھ سیاست سے ہٹ کر دل کا رشتہ بھی ہے ، مجھ میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ، میں آپ کی ہی طرح رکن اسمبلی ہوں، یہ ذمہ داری وقتی ہے ، میں بطور سپیکر پوری کوشش کروں گا کہ قانون کو ذہن میں رکھ کر اپنے فرائض انجام دوں گا۔

سپیکر میں اس کرسی پر ہوں اور اس کے علاوہ میں آپ کا بھائی اور دوست ہوں ، میرے 23 سالہ سیاست کے دور میں ایسی دوستیاں بنیں جو ساری عمر رہیں گی، اختلافات اپنی جگہ لیکن عزت کا رشتہ ہمیشہ قائم رہےگا، سپیکر آفس کے دروازے آپ کیلئے کھلے ہیں، اسے اپنا ہی دفتر سمجھیں ۔ میں یہاں 16 ویں صدی کے برطانوی سپیکر ولیم کے تاریخ الفاظ ضرور دہراوں گا" اس ایوان میں میری اپنی کوئی آنکھ نہیں جو دیکھ سکے، اور نہ ہی اپنی کوئی زبان ہے جو بول سکے ، ماسوائے اس کے کہ جو یہ ایوان مجھے دکھاتاہے اور مجھ سے بلواتاہے ، میں اس ایوان کا خادم اور وفادار رہوں گا"۔

میری حکومتی اور اپوزیشن کے بینچوں سے گزارش ہے کہ اختلاف ضرور کریں کیونکہ یہ جمہوری حسن ہے ، اختلاف ملکی بہتری کیلئے کریں، حکومت کا کام ہے کارکردگی دکھانااور ملک کو درپیش مسائل سے نکالنا اور اپوزیشن کا کام اس کی اصلاح کیلئے تنقید کرناہے ۔ آج ہمارے ملک کی سیاست میں جو تلخیاں آ گئیں ہیں وہ ملک کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں ، میری خواہش اور کوشش ہو گی کہ آپ سب کے تعاون سے قومی اتفائے رائے بنائیں ، دوسرے کی بات کو برداشت کریں اور ذاتی تنقید کی بجائے قومی مفاد کی بات کریں ۔

میری خواہش ہے کہ ملک کو درپیش مسائل پر سیاست کرنے کی بجائے مفاہت کے ساتھ ان مسائل کو حل کریں ، حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں ، ان کو ساتھ بٹھانا اور مشاور کرنا میری ذمہ داری ہو گی ۔

بیرسٹر گوہر 

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ہاوس کے کسٹوڈین ہیں ، آپ کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں بلکہ اس ہاوس سے ہے ، آئین کا آرٹیکل 51 کہتا ہے کہ مخصوص نشستوں کے بغیر ایوان مکمل نہیں ہے ، اتنی گزار ش نے ہم کل کر دی تھی ، آپ سے اس پر رولنگ مانگی ہے ، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ الیکشن کو روکا تھا، اس وقت پنجاب اسمبلی میں 25 ممبران کی کمی تھی، اس وقت آپ کے ہاوس میں 23 ممبران کی کمی ہے ، اس میں تین اقلیتی اور 20 خواتین کی نشستیں ہیں، ہماری 8 خواتین نے کے پی کے اور 12 نے پنجاب سے آنا ہے ۔

بیرسٹر گوہر کا کہناتھا کہ  ناردرن آئرلینڈ میں سپیکر کا انتخاب ایک مہینے سے زیادہ لیٹ ہو گیاہے ، کیونکہ آئین میں نہیں لکھا کہ اگلے روز آپ نے الیکشن کروانا ہے ، ہاوس کا مکمل ہونا ضروری ہے ، کانگرس میں سپیکر کا الیکشن 18 مرتبہ ہواتھا کیونکہ وہ ایک امیدوار پر اتفاق نہیں کر پا رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ فارم 45 کے بغیر جو ایوان میں ہے وہ ممبر نہیں ہے ، ان کے بچے اور فیملی ممبرز بھی  یہ بات نہیں مان رہے کہ یہ لوگ جیتے ہوئے ہیں، ہم نے مخصوص نشستوں پر آپ سے رولنگ مانگی ہے ۔

عمر ایوب

 عمر ایوب نے اظہار خیال  کرتے ہوئے کہاکہ اس ہاؤس میں گھس بیٹھیے آکر بیٹھ گئے ہیں،یہ یہاں آ کر جعلی مینڈیٹ سے ایوان میں بیٹھےہوئےہیں، وہ کس حیثیت میں ووٹ ڈال سکتے ہیں،جناب سپیکر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والوں کو ایوان سے باہر نکالیں۔

 سنی اتحاد کونسل کے وزیراعظم کیلئے نامزد امیدوار نے کہاکہ ہماری خواتین کی سیٹیں مکمل نہیں،ہماری خواتین ہاؤس میں نہیں، کیسے سپیکر کا الیکشن کنڈکٹ کر سکتے ہیں،فارم 45کچھ اور کہہ رہا، فارم 47کچھ اور کہہ رہا،اصلی مینڈیٹ کے حقدار بانی پی ٹی آئی ہیں،ان کا کہناتھا کہ آپ نے ہمارے سر کے تاج ہمارے ورکر کو جیل میں رکھا،ہاؤس نامکمل ہے، آپ کیسے پراسیس کو مکمل کر سکتے ہیں،آپ اس ہاؤس کو کیسے چلا سکتے ہیں۔

عمر ایوب نے کہاکہ الیکشن نتائج نامکمل ہیں یہ ایوان کیسے چلایا جا سکتا ہے،ایوان میں ہماری خواتین ارکان ہی نہیں، ہماری خواتین ارکان عالیہ حمزہ، ڈاکٹر یاسمین اور دیگر کو جیلوں میں  رکھا ہے،انہوں نے کہاکہ گلا خراب ہو یا کٹ جائے ہم نے آواز اٹھانی ہے۔