58 فیصد پاکستانیوں نے 8 فروری کے دن پولنگ کا عمل شفاف قرار دیدیا

       58 فیصد پاکستانیوں نے 8 فروری کے دن پولنگ کا عمل شفاف قرار دیدیا
       58 فیصد پاکستانیوں نے 8 فروری کے دن پولنگ کا عمل شفاف قرار دیدیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) 58 فیصد پاکستانیوں نے 8 فروری کے دن پولنگ کے عمل کو شفاف قرار دیدیا۔

 اپسوس پاکستان نے عوامی آراء پر مبنی سروے جاری کردیا جس کے مطابق ہر پانچ میں سے تین پاکستانیوں نے پولنگ کا عمل شفاف قرار دیا اور  شہری آبادی کی نسبت دیہی آبادی میں یہ تاثر زیادہ پایا گیا۔ سروے میں 58 فیصد پاکستانیوں نے 8 فروری کے دن پولنگ کے عمل کو شفاف قرار دیا اور کہا کہ پولنگ غیر جانبدار انہ اور منصفانہ طریقے سے ہوئی۔24 فیصد نے اعتراض کیا اور پولنگ کو غیر شفاف کہا۔سروے میں 54 فیصد پاکستانیوں نے الیکشن میں مجموعی طور پر بھی کسی قسم کی دھاندلی کو مسترد کردیا، البتہ 39 فیصد نے الیکشن میں دھاندلی ہونے کا الزام عائد کیا۔

صوبوں کی بات کریں تو پنجاب میں 63 فیصد، سندھ میں 62 فیصد، بلوچستان میں 55، وفاق میں 61 جبکہ خیبرپختونخوا میں 33فیصد افراد نے الیکشن ڈے پراسیس کو شفاف قراردیا۔ اگردھاندلی سے متعلق صوبائی سطح پر لوگوں کی آراء کی بات کریں تو سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں لوگوں نے اس سلسلے میں اپنا ووٹ دیا اور 73 فیصد افراد نے الیکشن کو دھاندلی زدہ (رگڈ) قرار دیاجبکہ سب سے کم صوبہ سندھ سے 28 فیصد افراد نے انتخابات میں دھاندلی ہونے کا کہا۔پنجاب میں یہ شرح 35 فیصد، بلوچستان میں 38 فیصد اور اسلام آباد میں 49 فیصد لوگوں نے اپنی رائے میں یہی خیال کیا۔ 

انتخابات والے دن موبائل سروس بند کرنے کے حکومتی فیصلے پر عوامی رائے تقسیم نظر آئی، 33 فیصد نے فیصلے کو اچھا تو 29 فیصد نے غلط قرار دیا جبکہ 38 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی ۔