پیغام کوئی خیر سگالی نہیں دیتے ۔۔۔

پیغام کوئی خیر سگالی نہیں دیتے ۔۔۔
پیغام کوئی خیر سگالی نہیں دیتے ۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پیغام کوئی خیر سگالی نہیں دیتے 
کج فہم تو تہذیب مثالی نہیں دیتے

ہم حرمت ِ الفاظ کے پابند ہیں اتنے 
ہم جان کے دشمن کو بھی گالی نہیں دیتے

احساس کا زر رکھنا پڑے گا سر دہلیز 
اب مفت دعائیں تو سوالی نہیں دیتے

مزدور کو بازار تعیش کے دکاں دار 
مرنے کے لیے زہر کی پیالی نہیں دیتے

دربار ِ ولایت کے سخن ور سر قرطاس 
قاری کو سخن فکر سے خالی نہیں دیتے

بدنام کیا شہر تعفن نے کچھ ایسا 
خوشبو کی خبر باغ کے مالی نہیں دیتے

عباس یہ بیعت کے بھکاری کو بتا دو 
دے دیتے ہیں سر، ہاتھ حلالی نہیں دیتے

کلام :حیدر عباس

مزید :

شاعری -