موسم سرما میں اباجان اور بہن بھائی کچھ دن میرے ساتھ مری ٹھہرے، ابا نے آتے ہی نہانے کی خواہش کی، میں نے گھبرا کر دروازہ پیٹ ڈالا

 موسم سرما میں اباجان اور بہن بھائی کچھ دن میرے ساتھ مری ٹھہرے، ابا نے آتے ہی ...
 موسم سرما میں اباجان اور بہن بھائی کچھ دن میرے ساتھ مری ٹھہرے، ابا نے آتے ہی نہانے کی خواہش کی، میں نے گھبرا کر دروازہ پیٹ ڈالا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:197
مہمانوں کی زیادہ تر آمد اتوار کو متوقع ہوتی تھی، اور ہم سب اپنی محدود آمدنی کے ہاتھوں مجبور ہوکر ان بن بلائے مہمانوں سے اپنی قربت کا اظہار نہیں کر سکتے تھے اس لیے ان سے نجات پانے کے لیے گھر کے مرکزی دروازے کو تالا لگا کر عقبی دروازے یا کھڑکی سے اندر چلے جاتے اور خوب سو کر سارے ہفتے کی تھکن اتارتے رہتے۔ جبکہ مہمان تالا لگا دیکھ کر مایوس ہو کر لوٹ جاتے۔ موبائل فون ان دنوں موجود نہیں تھے اس لیے پکڑے جانے کا اندیشہ بھی نہیں تھا۔
عام حالات میں مہمان نعمت ہوتے ہیں لیکن یہاں کے مہمان ہر طرف سے زحمت ہی زحمت تھے۔ اس طرح باقاعدگی سے گھر پہنچنے والوں سے تو جان چھوٹ گئی لیکن جو سیدھے بینک میں آ جاتے تھے ان سے نبٹنا اتنا آسان نہ تھا، اس کا حل بھی جعفری نے یہ بتایا کہ جب مہمان بینک میں آئیں تو ان کی چائے  بسکٹ اور سموسوں سے خوب تواضع کرو اور بعد میں انتہائی معصومیت سے دریافت کرلو کہ آپ کا بجٹ کہاں تک اجازت دیتا ہے تاکہ اسی کے حساب سے میں کسی ہوٹل میں آپ لوگوں کے لیے بکنگ کروا دوں۔ غرض ایسا ہی کیا گیا۔ ایک منٹ کے لیے تو یہ سن کر ان کا رنگ فق ہو جاتا تھا کیونکہ حملہ اچانک اور شدید ہوتا تھا۔ کچھ تو خفت مٹانے کو کہتے کہ رہنے دیں ہم خود ہی دیکھ لیتے ہیں، جو ذرا دلچسپی ظاہر کرتے تھے، اُن کا کمرہ بک کروا کر چپڑاسی کو ساتھ وہاں روانہ کر دیتے۔ ان حفاظتی انتظامات کی وجہ سے اگلے سیزن قدرے بہتر گزرے اور ہم کامیابی سے اپنا دفاع کرتے رہے۔ اس بات کا ہمیشہ افسوس رہتا تھا کہ اپنے قریبی بہن بھائی اور رشتے دار زیادہ نہیں آتے تھے شاید اس لیے کہ وہ ہماری مالی صورت حال اور مجبوریوں سے واقف تھے، ان کے علاوہ ہر بندہ سیزن میں حاضری دینا اپنا فرض منصبی سمجھتا تھا۔
ایک دفعہ موسم سرما کے ابتدائی دنوں میں میرے اباجان اور دوسرے بہن بھائی آکر کچھ دن میرے ساتھ ٹھہرے، قدرتی بات ہے بہت اچھا لگا۔ ابا جان ان دنوں فوج سے ریٹائر ہو چکے تھے اور بڑھاپے کی منزل سے گزر کر قدرے بزرگی کی طرف مائل تھے۔ آتے ہی نہانے کی خواہش کی، میں نے پانی گرم کرنے کا راڈ بالٹی میں لگا دیا اور جب پانی کی سطح سے بھاپ اٹھنے لگی تو اسے باہر نکال کر ابا جان کو نہانے بھیج دیا گیا۔
کافی دیر ہو گئی اور غسل خانے سے کسی قسم کی کوئی آواز نہ آئی تو میں نے گھبرا کر دروازہ پیٹ ڈالا لیکن جواب ندارد!! میں بھاگ کر گھر کے باہر سے غسل خانہ کے پچھلی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف گیا تو اسے کھلا ہوا پایا، اندر جھانکا، ابا جان وہاں موجود نہیں تھے۔ ڈُھنڈیا پڑی تو وہ گھر کے قریب ہی ایک کھوکھے والے کے پاس بیٹھے چائے پیتے اورکانپتے ہوئے پائے گئے۔ پوچھا کیا ہوا ہے، کہنے لگے کہ”یار آج تو تم نے مجھے مروا ہی دیا تھا۔ راڈ سے پانی اوپر اوپر سے تو گرم ہو گیا تھا لیکن نیچے وہ بہت ٹھنڈا ہی تھا، میں نے ایک لوٹا تو ڈال لیا دوسرے کی ہمت نہ ہوئی اور میں کپڑے پہن کر باہر بھاگا اور اب یہاں بیٹھا چائے پی رہا ہوں کہ خون کی روانی کو جاری رکھ سکوں۔“ ہر چند کہ میں نے ان کو بھاگتے ہوئے تو نہیں دیکھا تھا،لیکن ان کا ایسی حالت میں دوڑ لگانے کا تصور بڑا ہی مزاحیہ اور روح پرور تھا۔ 
اسی طرح ایک دن ہم سب گھر کے پیچھے لان میں بیٹھے تھے جہاں سے بڑی گہری ڈھلوان شروع ہوتی تھی اور نیچے دور تک جاتی تھی۔ بہت دور گہری کھائی میں ایک مُنا سا چیڑ کا درخت نظر آرہا تھا جو ظاہر ہے مُنا ہرگز بھی نہیں تھا، بس فاصلے پر ہونے کی وجہ سے ایسا نظر آتا تھا، شفیق اور خالد میں ٹھن گئی کہ کون پہلے اسے ہاتھ لگا کر واپس آ سکتا ہے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق وقت کااندازہ لگایا، خالد کا خیال تھا کہ وہ 15منٹ میں یہ کام کر لے گا اور شفیق نے آدھ گھنٹے میں یہ کر گزرنے کا دعویٰ کر دیا۔ میں نے 2گھنٹے کا وقت مانگا،کیونکہ یہاں رہتے ہوئے اب مجھے پہاڑی راستوں کو سمجھنے کا کچھ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا۔ اسی دوران کسی نے ابا جان سے بھی یہی سوال کر لیا۔ انھوں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا ”ٹھیک ہے تم لوگ کہتے ہو تو میں چلا جاتا ہوں، روٹی باندھ کر میرے ساتھ کر دو، شام تک تو میں لوٹ ہی آؤں گا۔“ ان کی بات سن کر سب قہقہہ مار کر ہنسے، باتیں سب نے کیں لیکن کوئی بھی نیچے اترنے کی جرأت نہ کر سکا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -