پاسپورٹ، جہاز کا ٹکٹ اور 5 ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ لیے ڈسکہ پہنچا تاکہ گھر والوں کو بتا سکوں کہ میں اب2سال کے لیے تعلیمی معرکے پر امریکہ جا رہا تھا

پاسپورٹ، جہاز کا ٹکٹ اور 5 ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ لیے ڈسکہ پہنچا تاکہ گھر ...
پاسپورٹ، جہاز کا ٹکٹ اور 5 ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ لیے ڈسکہ پہنچا تاکہ گھر والوں کو بتا سکوں کہ میں اب2سال کے لیے تعلیمی معرکے پر امریکہ جا رہا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:28
اگلے دن میں پاسپورٹ، جہاز کے ٹکٹ اور 5 ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ لیے ڈسکہ پہنچا تاکہ اپنے گھر والوں کو بتا سکوں کہ میں اب2سال کے لیے ایک تعلیمی معرکے پر امریکہ جا رہا تھا۔ مزیدار بات یہ کہ میں نے ان کو خبر تک نہ ہونے دی کہ میں کن چکروں میں پڑا ہوا تھا۔ اور نہ ہی اپنے منتخب ہونے کی داستان ان کو سنائی تھی۔ وہ یہ خبر سن کر ششدر رہ گئے اور بے حد خوش بھی ہوئے کیوں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ان کے خاندان میں سے کوئی فرد بیرون ملک جا رہا تھا۔ صرف میرے دادا جان ہی تھے جو 1950 میں حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔ میں دادا جان کے بہت قریب تھا، انھوں نے امی جی کو بلا کر پوچھا کہ کیا وہ میرے اس طرح ہزاروں کلو میٹر دور ایک ایسے ملک میں جانے پر فکرمند نہیں ہیں جہاں اس کو کوئی جانتا تک بھی نہیں ہے۔ میں ماں جی کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ وہی اللہ اس کی حفاظت کرے گا جس نے پہلے بھی ایک دفعہ اسے جلنے کے بعد صحت عطا فرمائی۔  
 خوش رہو اہلِ وطن ہم تو سفر کرتے ہیں 
غم، خوشی اور خوف کے ملے جلے جذبات اور گھر والوں کی دعاؤں کے ساتھ  2 جنوری 1961 کو میں نے لاہور کی ایک بس میں اپنے امریکہ کے سفر کا آغاز کیا۔ میرا بہت ہی خیال کرنے والا پیارا بھائی یوسف مغل مجھے رخصت کرنے ساتھ ہی آیا تھا۔ ان دنوں تمام بین الاقوامی پروازیں کراچی ہی سے اڑان بھرتی تھیں۔ اس لیے ہم لاہور سے کراچی پہنچے۔ کچھ ضروری خریداری اور شب گزاری کے بعد وہ وقت رخصت آن پہنچا جب مجھے کراچی سے لندن کے لیے اڑان بھرنا تھی۔ میرے بھائی نے آبدیدہ آنکھوں اور جذبات سے مغلوب آواز میں مجھے بہت ساری دعاؤں کے ساتھ ایک انجانی منزل کی طرف رخصت کیا۔ جہاز پر ہی میری ملاقات ان دوستوں سے بھی ہوگئی جو میرے ساتھ ہی اسی وظیفے پر امریکہ جا رہے تھے۔ ان میں چوہدری لطیف، نور محمد میمن اور ریاض شفقت شامل تھے جب کہ ہمارا پانچواں ساتھی خالد عزیز پہلے سے ہی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اس کا اس وظیفے کے لیے انتخاب بغیر کسی ٹیسٹ یا انٹرویو کے لیے ہو چکا تھا، کیوں کہ وہ حکومت پاکستان کے ایک سیکرٹری کا بیٹا تھا۔ جب ہم اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اور آپس میں بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے عالم تجسس میں ان سے استفسار کیا کہ ان کا انتخاب کیسے ہوا تھا۔ تب ہی انکشاف ہوا کہ میرے علاوہ ان میں سے ہر ایک کے پیچھے کوئی نہ کوئی اثر و رسوخ والی شخصیت ضرور موجود تھی۔ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میرے پیچھے بھی ایک بہت بڑی طاقت تھی اور وہ میرا رب تھا جو قدم قدم پر میرے لیے منزل تک پہنچنے کے راستے آسان کرتا جا رہا تھا۔ اور جو کہتے تھے کہ پاکستان میں تگڑی سفارش کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا، وہ یہاں آ کر غلط ثابت ہوئے۔ 
لندن والی اس فلائٹ کے دوران ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں تفصیلی تعارف حاصل کیا۔ ان میں سے لطیف پہلے سے ہی سرکاری ملازمت میں تھا۔ وہ سی اینڈڈبلیو ڈیپارٹمنٹ میں ایگزیکٹو انجنیئر کی حیثیت سے کام کرتا تھا تاہم بعد میں اس کا تبادلہ ٹاؤن پلاننگ ونگ میں ہو گیا، وہ لاہو ر کا ہی رہائشی تھا۔ وہ عمر اور تجربے میں ہم سب سے کہیں زیادہ تھا۔ میمن اور ریاض کا تعلق با لترتیب سندھ اور خیبر پختون خوا سے تھا۔ لطیف اور میمن کا داخلہ یونیورسٹی آف پینسلوانیہ میں ہوا تھا اور میں اور ریاض مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی جا رہے تھے۔ ہمیں یونیورسٹیاں منتخب کرنے کا اختیار نہیں تھا یہ ہمارے کفیل فورڈ فاؤنڈیشن والوں نے پہلے ہی سے طے کر رکھا تھا کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -