کوئی یہ کہے، تمہارے پاس کاروبار کرنے کیلئے مناسب سرمایہ نہیں تو پھر کسی ایسے شخص کے ساتھ مشورہ کیجئے جو آپکے خوابوں کیلیے تقویت کا باعث بنے

 کوئی یہ کہے، تمہارے پاس کاروبار کرنے کیلئے مناسب سرمایہ نہیں تو پھر کسی ...
 کوئی یہ کہے، تمہارے پاس کاروبار کرنے کیلئے مناسب سرمایہ نہیں تو پھر کسی ایسے شخص کے ساتھ مشورہ کیجئے جو آپکے خوابوں کیلیے تقویت کا باعث بنے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:15
اور اس سے بھی اچھا اور شاندار تجربہ اور واقعہ میرے ایک دوست کے متعلق ہے۔ ایک عشرے قبل وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ مایوسی اور پریشانی کا بھی شکار تھا۔ پھر کسی نے اسے کہا کہ وہ ایموے(Amway) کے ساتھ کاروبار شروع کر دے کیونکہ اس کے ذریعے ہر ماہ 60 ڈالر اضافی کما سکتا ہے اور اس طرح یہ رقم اس کی تنخواہ (بطور استاد) میں ایک قابل قدر اضافہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اور پھر اس نے100سے بھی کم ڈالر کے ذریعے اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کر دیا۔ کیا وہ کامیاب ہوگیا؟ یقینا، اور پھر گذشتہ موسم گرما میں میں 20 کمروں پر مشتمل ایک نہایت ہی پرتعیش مکان میں منتقل ہوگیا۔ وہ دنیا پھر میں سیر و تفریح کے لیے اکثر جاتا رہتا ہے اور اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
اور پھر آئندہ اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے، تمہارے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب سرمایہ نہیں ہے ”تو پھر کسی ایسے شخص کے ساتھ مشورہ کیجئے جو آپ کے خواب چکنا چور کرنے کے بجائے آپ کے خوابوں کے لیے تقویت اور مضبوطی کا باعث بنے۔“
آپ کے خواب چکنا چور کرنے کرنے والے افراد کی تیسری قسم: اس قسم کے لوگ مسلسل آپ کو یہ بتاتے رہتے ہیں یہ دنیا خوابوں کی نہیں بلکہ حقیقت کی دنیا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ نے خوابوں کو چکنا چور کرنے والے یہ الفاظ کتنی ہی مرتبہ سنے ہوں۔ لیکن یہ الفاظ کوئی حقیت نہیں رکھتے، ان کا تجزیہ کیجئے، اور ان کا جائزہ لیجئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے آغاز کی بنیاد ایک  ”تخیل اور خواب“ ہے۔ ہر کاروبار، ہر عمارت، ہر شاہراہ، ہر سکول، ہر چرچ، ہر گھر، حتیٰ کہ ہر ملک حقیقی وجود میں منتقل ہونے سے قبل ایک تخیل، ایک تصور اور ایک خواب ہی ہوتا ہے۔ انتہائی محتاط قسم کے لوگ اپنامقصد حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ وہ خواب دیکھنے سے اس لیے گھبراتے اور خوف زدہ ہوتے ہیں کہ کہیں یہ خواب تشنہ ہی نہ رہ جائیں۔
مثال کے طور پر ورنروان براؤن (Wernher von Braun) ان لوگوں کے بہکاوے میں آگیا تھا، جنہوں نے اس کی طرف سے چاند پر انسان بھیجنے کی خواہش مضحکہ اڑایا تھا اور یا پھر ہنری فورڈ نے اپنے قریبی رفقا ء کے مشورے پر عمل کیا اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے گاڑی تیاری کے منصوبے سے دستکش ہوگیا؟
خواب، مختلف اقسام، نوعیت اور جسامت کے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ خود کو لاحق شدید مرض سے نجات حاصل کرنے کا خواب نہیں دیکھتے، لہٰذا وہ صحت یاب بھی نہیں ہوتے۔ لیکن اکثر لوگ اپنی بیماری سے نجات کے لیے ہر دم خواب دیکھتے رہتے ہیں اور بالآخرمکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی معمولی ملازمت پر ہی اکتفا کیے بیٹھے ہوتے ہیں اور کسی بڑے اور اعلیٰ عہدے کے حصول کے متعلق اپنے خیال، تصور او رخواب کو اپنی آنکھوں میں نہیں سجا سکتے۔
اور اس طرح وہ زندگی بھر اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں اعلیٰ مقام و عہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اس کے برعکس معمول ملازمت پیشہ افراد مستقبل میں اعلی عہدے اور اعلیٰ ملازمت کے حصول کے خواب مسلسل دیکھتے رہتے ہیں اور بالآخر بہت جلد وہ اعلیٰ اور بہترین کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -