بڑی تحقیق کے بعد اِس اندھیر گردی کا حل نکالا، پلک جھپکتے گئے پلیٹ بھری آدھی آتے کھالی آدھی بیٹھتے بٹھاتے اور پھر چل دئیے دوسری کیلیے

 بڑی تحقیق کے بعد اِس اندھیر گردی کا حل نکالا، پلک جھپکتے گئے پلیٹ بھری آدھی ...
 بڑی تحقیق کے بعد اِس اندھیر گردی کا حل نکالا، پلک جھپکتے گئے پلیٹ بھری آدھی آتے کھالی آدھی بیٹھتے بٹھاتے اور پھر چل دئیے دوسری کیلیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:61
عام گھروں میں پلک جھپکتے گئے پلیٹ بھری آدھی آتے کھالی آدھی بیٹھتے بٹھاتے اور پھر چل دئیے دُوسرے تیسرے چوتھے سپلیمینٹ کے لیے۔ حارث بھائی نے بڑی تحقیق کے بعد اِس اندھیر گردی کا حل نکالا ہے۔ زباں سے تو حارث بھائی نے خدا جھوٹ نہ بلوائے کہا کچھ بھی نہیں لیکن آنکھوں کا  بار بار جھپکنا صاف ظاہر کرتا تھا کہ لگاؤ تو سیڑھیوں پر اُتنے چکّر جِن کا اپنے آپ کو سپلیمینٹ لینے کا عادی تم بنا چکے ہو۔ کئی تو مجھ جیسے ایک ہی بار میں بازی ہار گئے۔ کچھ دوسروں کو ایک بار پھر سیڑھیاں چڑھتے ہی بنی۔ 
اگلا پیریڈ پچھلے گارڈن کے حدود اربعہ اور اُس میں لگی باڑ۔ گھاس کے تختے اور پودوں کی دُنیا سے تھا۔ کیا روانی ہے حارث صاحب کے تجربات کے خزینے میں۔ ہر بات یُوں کھول کھول کر بیان کردی جیسے پروفیسر ”شور علیگ“ گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں دیوانِ غالب سے صرف ایک شعر دُم سے پکڑتے تھے اور سارا پیریڈ اِسی ایک شعر کی تشریح و توصیف میں گذار دیتے۔ مجال ہے جو کوئی روکے کوئی ٹوکے! 
تیسرا پیریڈ اِسی رقبے میں بنے ایک 5-1/2 مرلہ کے ایک دو بیڈ کے پورشن پر صرف ہوا۔ وہاں جا کر دیکھا ہر چیز دلآویز رُوح پرور۔ سلیقہ اور نفاست، سارے پورشن کے پینٹ کرنے کا سہرہ حارث صاحب نے اپنے سر پر سجایا ہمیں کیا اعتراض تھا۔ نفاست میں نمبر اور بڑھا دئیے۔ حارث صاحب سے اجازت لے کر جاتے جاتے حارث صاحب نے گیراج کو بھی رَوند ڈالا۔ اُس کے اندر گئے پتہ چلا اسے اندر سے سٹڈی رُوم کا رُوپ دے چکے ہیں۔ ماشاء اللہ۔ اللہ نظرِ بد سے بچائے ویسے گاڑی کی بددُعاؤں سے حارث صاحب کو اللہ ہی ہے جو اپنی امان میں رکھّے۔
عائشہ کی دعوت اور New Castle میں انکل رامے سے ملاقات 
یہ کوئی 2 گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع شہر ہے۔ سمندر کے کنارے واقع ہے۔ بندرگاہ ہے۔ یہاں سے بیسیوں بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر گائیں اور Processed Meat لے کر روانہ ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا خریدار غالباً جاپان ہے۔ راستے میں Eleven/7 پٹرول پمٹ سے کوفی لی۔ اِن پٹرول پمپوں پر کافی کا چھوٹا گلاس ایک ڈالر اور بڑا دو ڈالر میں ملتا ہے جو اِس ریٹ پر آسٹریلیا میں کہیں نہیں مِلتا۔ لہٰذا گاڑیاں رُکتی جاتی ہیں پٹرول بھی ڈلواتی ہیں، ورنہ صرف کوفی لے کر چلتی بنتی ہیں۔ وہاں پٹرول پمپ کی شاپ سے بچّوں نے بھی کچھ کھانے پینے کی چیزیں لیں۔ 
ہمارے سامنے موٹر وے ایم ون تھا اور سپیڈ 100-110 کے بورڈ لگے تھے۔ New Castle کی آبادی Cardiff میں انکل عباس کی صاحبزادی عائشہ کا گھر ہے۔ وہاں پہنچے تو اعظم صاحب کا انتظار کچھ دیر کرتے بنی۔ وہ آئے تو لنچ شروع کیا گیا۔ وہاں انکل عباس کے دونوں داماد، عمران بمعہ فیملی اور ہماری فیملی مدّعو تھے۔ کھانے کے بعد میٹھے کا دَور چلا اور پھر بعد میں چائے پی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -