پانی آگ ہورہا ہے

پانی آگ ہورہا ہے
پانی آگ ہورہا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کہا جاتا ہے کہ اگلی عالمگیر جنگ پانی کے مسئلے پر ہو گی.... ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو، لیکن ہمہ وقت غصے سے بھرے، چہرے لال بھبوکا کئے کف اُڑاتے پاکستانیوں کو اِس سے کوئی سروکار دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی اِس مسئلے پر کسی کی نیند حرام ہونے کا اندیشہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ہاں پانی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ تمام تر بھیانک مضمرات کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس کی سنگینی میں مزید اضافہ بھی ہوناہے ، لیکن اگر آپ گلی میں کھڑے کسی شخص سے اس مسئلے کے بار ے میں دریافت کریں، تو وہ پہلے تو حیرت سے آپ کو دیکھے گا، پھر اُداس چہرہ بنا کر جواب دے گا:” پانی“ ہمارے پاس تو کھانے کوروٹی بھی نہیں ہے“۔
اِس وقت ہمارا ملک تبدیلی کے جن مراحل میں سے گزررہا ہے، اُن کے بارے میں اُردو زبان کے عظیم ترین شاعر مرزا غالب نے کہا تھا ....”نے ہاتھ باگ پرہے نہ پا ہے رکاب میں “.... اور اس وقت صورت ِ حالات یہ ہے کہ کوئی صورت ِ حالات نظر نہیں آتی ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے چند روز بعد کتاب ِ زیست کا کون سا صفحہ پلٹا جائے گا۔ اِس کشاکش کے عالم میں پانی کا مسئلہ کسی سرد خانے میں پڑا ہے، کیونکہ یہ سٹریٹ پالیٹکس کا حصہ نہیںہے۔ میرا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد اِس ملک میں پانی کی واحد دستیاب شکل ” دیدہ ِ تر کی صورت“ ہی ہو گی، لیکن اِس ناکام ہوتی ہوئی ریاست کے کامیاب ہونے والے حکمران جب مسند ِ اقتدار پر براجمان ہو چکے ہوںگے، تو اُن کے پیش ِ نظر بہت سے آفاقی اور عالمگیر معاملات ہوںگے، پانی تو تہہ ِ خاک ہوتا ہے، اس کے ذکر سے زبان تر کرنا اُن کو زیب نہیں دیتا۔
 بڑھتی ہوئی بدعنوانی، عقربی نااہلی اور ڈھٹائی سے وعدہ خلافی ہمارے قومی اوصاف ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں ۔ اب توقومی معاملات پر اہم فیصلے ایسے ہوتے ہیں، جیسے بسنت پر جب کسی منچلے کے ہاتھ کسی کٹی پتنگ کا سرا لگ جاتا ہے، تو وہ اُس اتفاق کو اپنی عظیم مہارت اور ہنرمندی قرار دیتا ہے۔ کیا اب بھی آپ اِس بات کی مکمل تفہیم نہیں کر سکتے کہ ہمیں کس چیز نے برباد کر دیا؟اِس وقت ملکی خزانہ بالکل خالی ہے، اِس میں ایک پائی بھی نہیںہے، ہم نے بھاری بھرکم غیر ملکی قرضے لے کر اُنہیں نام نہاد قومی ترقی، قومی استحکام اور دیگر دفاعی منصوبوں پر اُڑا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری معیشت ایک گیند ہو، جس کے سامنے لمبے بالوں اور مضبوط بازوﺅں والا کرس گیل بیٹنگ کررہا ہو اور وہ اپنے موڈ میں ہو.... اِس وقت ہماری معیشت سٹیڈیم سے باہر جا گری ہے۔ اِس دھواں دار ٹیم میں دفاعی اداروںکے افسران،بیورو کریٹس اورمکار سرمایہ دارشامل ہیں اور ان کی شراکت مضبوط بنیادوں(ذاتی منافع) پر استوار ہے۔ ان کے سامنے احتساب کا سونامی ایک کمزور سی لہر ہے جو اُس پانی کا حصہ ہے، جہاں بقول مرزا غالب.... ”گھستا ہے جبیںخاک پر دریا میرے آگے“۔
 ان سے پوچھ گچھ؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا!یہ لوگ دن رات دولت سمیٹ رہے ہیں، ان کے کھیلنے کے لئے بہترین گالف کلب ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ غریب افراد، لاچار ہی نہیں، کم عقل بھی ہیں۔ وہ اس ٹیم کے خلاف باﺅلنگ کیوں کرارہے ہیں؟.... بہرحال یہ بھی درست ہے کہ اب اخلاقی وعظ و نصیحت کا وقت نہیںہے، یہاں کبھی بھی نہ تھا۔ اب ہم ایک تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ غلط نہیںہے ، لیکن یاد رکھیں، پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہو تو رکھے، اس کی مرضی، اس کی کمی کا مسئلہ جوں کا توں نہیں رہے گا۔ اس میں ہنگامہ خیز اضافہ ناگزیر ہے۔ بہت جلد ہمارے ہاں بل کھاتے ہوئے خشک بے آب و گیاہ صحرا ہوں گے، تاہم اِس میں سفاری جیپوں پرسفر کرنے والے خوبرو شہزادے اور سبمیں جلد ، جس پر پسینے کے حسین قطروں کی جمنا رنگ جمارہی ہو، والی شہزادیاں نہیں ہوںگی ، بلکہ اِس خار زار کو ہماری آبلہ پائی ہی تر کرے گی۔ خاطر جمع رکھیں، عوام اِس قومی خدمت کو بھی بجا لانے کو تیار ہیں، لیکن پانی کے بغیر یہاں زندگی کس سیاسی نعرے کی بدولت قائم رہے گی؟کون سا کارڈ جسم و جان کا رشتہ قائم رکھے گا؟کس سے وفاداری کا عہد خشک زمین پر غلہ اُگا دے گا؟
اب ذرا بنیادی مسئلے پر غور کیجئے، یہ پانی کا بحران کیا ہے؟ یہ بحران ہے بھی یا محض ہمارا التباساتی خوف ہے؟ گزشتہ سال کے شروع میں مشہور اخبار ”دی اکانومسٹ“نے اس خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی ، لیکن ہمارے قانون سازوں، جن کی انگوٹھا چھاپ مہارت کا ایک جہاں گواہ ہے، اس خوفناک رپورٹ کو نظر انداز کر دیا۔ کچھ نے اسے ”پاکستان مخالف پراپیگنڈہ“ قرار دیا، جبکہ کچھ اہل ایمان نے اسے اُمت ِ مسلمہ کے خلاف ”یہودو ہندو “ کی سازش سے تعبیر کیا۔ جہاں تک ہمارے بیوروکریٹس کا تعلق ہے، تو جب تک اُن کے غسل کے لئے شاور اور ان کے سرسبز لان میں اُگے پھولوں اور گھاس کو سیراب کرنے کے لئے پانی موجود ہے، تو اُن کو کس بات کی فکر ستا سکتی ہے۔ کیا آپ نے کوئی گالف کا میدان خشک دیکھا ہے ؟....(ہمارے ملک میں گالف کھیل نہیں سٹیٹس سمبل ہے
اگرچہ یہاں سیلاب تواتر کے ساتھ آتے ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان دُنیاکے خشک ترین ممالک میںسے ایک ہے۔ یہاں سالانہ اوسط بارش 240 ایم ایم سے بھی کم ہوتی ہے، جبکہ فی کس دستیاب پانی صرف 1100 کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔ 1950ءکی دھائی میں فی کس دستیاب پانی 5000 کیوبک میٹر تھا۔ ماہرین ہماری موجودہ حالت کو پانی کی شدید قلت کے مساوی قرار دیتے ہیں۔ کم بارش کی وجہ سے زیر ِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جبکہ پانی کے صارفین کی تعداد میں برق رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس عالم میں، جبکہ پانی ناپیدہوتا جارہا ہے، ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں، چنانچہ ہم زندگی (آبادی) میں اضافہ ناگزیر قومی خدمت سمجھتے ہیں۔ آج لاہور سرسبز اور شاداب تو ہے، لیکن باقی پاکستان خشک اور بنجر ہو رہا ہے۔ ہماری صرف ایک چوتھائی زرعی زمین ہی سیراب ہوتی ہے، جبکہ90فیصد پانی غلط نظام کی وجہ سے زمین میں جذب ہو کر سیم و تھور کا باعث بن کر زمین کو شورزدہ کر رہا ہے۔ کیا اِس سے بھی زیادہ کوئی بُری خبر ہو گی ؟
2025ءتک پانی کی سالانہ دستیابی ضرورت سے ایک سو بلین کیوبک میٹر کم رہ جائے گی۔ پانی کی یہ مقدار دیائے سندھ کے نصف بہاﺅ کے مساوی ہے۔ اس وقت 70 ملین افراد کو پینے کا صاف پانی حاصل نہیںہے.... اگر اسلام آبادکو سپلائی کیا جانے والا پانی بھی آلودہ ہو تو پھر باقی ملک کا اندازہ کیا جا سکتا ہے؟.... شہری آبادیوں میں اکثر مقامات پر سیوریج کا گندہ پانی اور صاف پانی پائپ لیک ہونے کی وجہ سے آپس میں مل جاتے ہیں۔ شمال کی طرف سے بھی اب کوئی کمک آنے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ ہمالیہ کے گلیشیرز ہم سے سرد مہری برت رہے ہیں۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق ہمارے دریاﺅں میں پانی کا بہاﺅ 30 سے 40فیصد کم ہو چکا ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے ڈیم نو سو دنوں کے استعمال کے لئے پانی کا ذخیرہ جمع کر سکتے ہیں، جبکہ ہم 30روز کا پانی بھی سٹاک نہیں کر سکتے، تاہم اب تو پانی سر سے گزر چکا ہے ، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ کوئٹہ میں زیر ِ زمین پانی کی سطح 1200 فٹ کی گہرائی پر ہے اور اس میں12 فٹ سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس شہر میں 2000 کے قریب ٹیوب ویل خشک ہو چکے ہیں۔ کوئٹہ کی 60 فیصد آبادی کو پانی کی سپلائی کا کوئی نظام نہیںہے۔ کسی حکومت نے بھی اِس معاملے پر توجہ نہیںدی ہے۔
 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اب کیا کر سکتا ہے؟دن رات پاکستان کو سنگاپور ، جرمنی یا جاپان بنانے کے دعویداروں سے عرض ہے کہ خواب سے جاگیںاور اُس بلا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں جو دروازے پر کھڑی ہے۔ ہمیں اپنے طرز ِ زندگی میں بنیادی تبدیلی لانا ہو گی۔ بچوں کو سکول کے نصاب کے ذریعے بتایا جائے کہ یہاںمیٹھے پانی کے وسائل لا محدود نہیںہیں۔ بننے والے تمام قومی منصوبوں میں پانی کا بحران سرفہرست ہونا چاہئے، کیونکہ ہماری زندگی کا انحصار اس پر ہے۔ ہمارے ہاں موجود نہری نظام کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ نہروں کو پختہ کیا جائے اور قانون سازی کرتے ہوئے پانی کی چوری کو سنگین جرم قرار دیا جائے۔ گاڑیاں دھونے کا رواج کم کیا جائے اور سروس سٹیشنوں کی تعداد کم کرتے ہوئے ان کو چند دنوں تک محدود کیا جائے۔ عوام کو پانی کی کمی سے آگاہ کرنے کے لئے مہم چلائی جائے تاکہ وہ اس کا کفایت شعاری سے استعمال کرنا سیکھ لیں۔ ہمارے گھروں میں پانی کے پائپ لیک کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم پروا نہیں کرتے۔ کراچی میں نہایت طاقتور واٹر مافیا لوگوں کو لوٹ رہا ہے، لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ۔
اِس مسئلے کا ایک حل ڈیم تعمیر کرنا ہو سکتا تھا، لیکن یہ ہمارے ملک میں ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ ہم گزشتہ 40سال سے کالا باغ اور دیگر چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈیم بنانے پر لا حاصل بحث کر رہے ہیں۔ چند سال پہلے مَیں افغانستان اور پاکستان کے درمیان واقعہ کوہ سلیمان کے ایک مقام پر گیا۔اگر آپ اِس مقام پر کبھی نہیں گئے، تو آپ یقینا اسے ایک بنجر اور خشک مقام سمجھیںگے، لیکن انگریز ہم سے زیادہ زمین شناس تھے۔ انہوںنے یہاں گومل زام نامی مقام دریافت کیا تھا ،جو ڈیم بنانے کے لئے بہترین جگہ ہے۔ یہاں کابل سے آنے والا ایک چھوٹا، لیکن پانی سے بھرا ہوا دریا بہتا ہے۔ یہاں طرفین میں موجود پتھریلی چٹانیں اسے ایک قدرتی ڈیم بنا دیتی ہیں۔ اِس سے استفادہ کرتے ہوئے اِس خطے میں رہنے والے لوگوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلی برپا کی جاسکتی ہے۔ اِس میںکوئی شک نہیں کہ یہاں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ ہم کچھ مقامات پر سے گزرے، جہاں فرانس اور یوگوسلاویہ کی کمپنیوںنے جرا¿ت آزمائی کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن اُنہیں جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ ہمیں ان دشوار حالات میں صرف چینی ماہرین نظر آئے، تاہم جب یہاں دو چینی انجینئروں کے اغوا اور قتل کا واقعہ پیش آیا، وہ بھی چلے گئے۔ بہرحال حکومت نے انہیں پھر کام پر واپس آنے پر راضی کر لیا۔ مَیں نہیں جانتا کہ ان حالات میںکیا یہاںکبھی کوئی ڈیم تعمیر کیا جا سکے گا یا نہیں؟ تاہم اس وقت یہاں کے مقامی باشندوں نے اِس کی ”بنیاد “ رکھ دی ہے۔ وہ یہاں بارش کا پانی جمع کرکے گزارہ کر تے ہیں۔ اس وقت پانی کا بحران اتنا سنگین ہے کہ ہمیں باقی معاملات سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے اس پر جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا، تاہم اس وقت تک تو قوم سوئی پڑی ہے۔ اگر اس معاملے کو تادیر نظر انداز کئے رکھا تو پھر محاورتاً، نہیں بلکہ حقیقتاً.... ”خاک ہوجائیںگے ہم“ اور اب یہ انجام زیادہ دور نہیںہے۔   ٭

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔

مزید :

کالم -