محاذ جنگ پر جانے والا سعودی عرب کا نوجوان جنگ مخالف علماءکی تلقین پر محاذ سے لوٹ آیا

محاذ جنگ پر جانے والا سعودی عرب کا نوجوان جنگ مخالف علماءکی تلقین پر محاذ سے ...

ریاض(آن لائن)شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف اکسانے والے مبلغین کی تعلیمات سے متاثر ہو کر محاذ جنگ پر جانے والا سعودی عرب کا ایک نوجوان جنگ مخالف علماءکی تلقین سے محاذ سے لوٹ آیا ہے۔خلیجی ٹی وی چینل کے مطابق سعودی نوجوان کی شامی محاذ جنگ سے واپسی پر مشتمل ایک رپورٹ نشرکی گئی۔

 اس رپورٹ میں جنگ سے توبہ کرنے والے نوجوان مسفر محمد، اس کی والدہ ام محمد اور کئی دوسرے عزیز و اقارب کے تاثرات بھی پیش کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں مسفر کا کہنا تھا کہ آغاز میں اس کا شام جانے اور جنگ میں حصہ لینے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ شامی جنگ کے حامی بعض علماءجن میں سخت گیر مبلغ الشیخ عدنان العرعور اور دیگر کی جانب سے شامی جنگ میں حصہ لینے کو فرض عین قرار دیا گیا تو میں بھی ان کے کہنے پر کئی دوسرے سعودی نوجوانوں کے ہمراہ شام چلا گیا۔بقول مسفر وہاں جانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایسی جنگ ہے جس میں مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔ میں نے مائیکرو بلانگ ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر سعودی علماءکے فتوے دیکھے جن میں انہوں نے شام کے محاذ جنگ میں شرکت کوحرام قرار دیا تھا تو میرا جنگ سے اور اچاٹ ہو گیا۔ چنانچہ جید علماءکی آراءسامنے آنے کے بعد میں نے شام کا محاذ جنگ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

مزید : عالمی منظر