اسرائیل نے فلسطینیوں پر اقتصادی پابندیاں عائدکردیں

اسرائیل نے فلسطینیوں پر اقتصادی پابندیاں عائدکردیں

                                                                                    یر وشلم (آن لائن)مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی مدت ختم ہو نے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف اقتصادی پابندیاں نافذ کرنا شروع کر دی ہیں۔اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت اسرائیل فلسطینی انتظامیہ کے نام پر جمع کردہ ٹیکس کے پیسوں سے فلسطینی علاقوں کو دی جانے والی بجلی اور پانی کے قرضے ادا کرے گا۔ اس عہدیدار کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر پابندیوں کے سلسلے میں یہ پہلا قدم ہو گا، جس کا اطلاق فوری طور پر کیا جا رہا ہے۔اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات گزشتہ ہفتے اس وقت معطل کر دیے گئے تھے جب فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح پارٹی نے اسلام پسند گروہ حماس کے ساتھ اتحاد کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔اسرائیل حماس کو دہشت گرد گروہ خیال کرتا ہے۔ فریقین کے درمیان براہ راست امن بات چیت کا آغاز گزشتہ برس ہوا تھا، جس میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے فریم ورک کے لیے 29 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، تاہم نو ماہ تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں فریقین کوئی فریم ورک طے کرنے میں ناکام رہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد کاری کی کوششوں کو بھی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا رہا ہے۔انسانی حقوق کے ایک اسرائیلی گروپ ’پیس ناو¿‘ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق اسرائیل نے تیرہ ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر کا منصوبہ امن مذاکرات کے دوران آگے بڑھایا۔ ان میں سے تقریبا نو ہزار گھروں کی تعمیر کا منصوبہ مغربی کنارے کے لیے ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد کا مشرقی یروشلم کے لیے۔پیس ناو¿ کے ترجمان لیﺅر امیہائی کا کہنا ہے: ”آبادکاریوں میں تقریبا چودہ ہزار گھر تعمیر کرنے یا ایسے منصوبے کی حوصلہ افزائی کرنے والی حکومت‘ فلسطینی ریاست اور پر ا±من دو ریاستی حل ڈھونڈنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔“

مزید : عالمی منظر