افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ غیر قانونی حراستی مرکز چلا رہے ہیں،حامد کرزئی

افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ غیر قانونی حراستی مرکز چلا رہے ہیں،حامد ...

                                                    کا بل (آن لائن)افغان صدر حامد کرزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی اور برطانوی فوجیں اب بھی افغانستان میں متعدد حراستی مرکز قائم رکھے ہوئے ہیں غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق اپنے بیان میں صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ملک کے متعدد حصوں میں ایسے حراستی مراکز موجود ہیں، جن کا کنٹرول افغان حکومت کے پاس نہیں اور یہ ایک غیرقانونی عمل ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر کرزئی کے اس بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیرحراست طالبان قیدیوں کے حوالے سے کابل حکومت اور مغربی دنیا میں کس قدر شدید اختلافات ہیں۔اس سلسلے میں تفتیش کے لیے صدر کرزئی نے ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا تھا۔ اس پینل کے مطابق قندھار میں ایک برطانوی فوجی اڈے میں چھ جبکہ جنوبی افغان صوبے ہلمند میں ایک برطانوی حراستی مرکز میں 17 افغان قیدی موجود ہیں۔ اس کمشین کے سربراہ جنرل غلام رسول بارک زئی کے مطابق کسی امریکی حراستی مرکز میں کوئی افغان قیدی نہیں ملا، تاہم ان حراستی مراکز کا اب تک موجود ہونا، باعث تشویش ہے۔واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی فورسز کی جانب سے ہزاروں افغان قیدیوں کو افغان انتظامیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد حراستی مرکز بھی کابل حکومت کی نگرانی میں دیے جا چکے ہیں۔ تاہم رواں برس کے آغاز پر جب صدر حامد کرزئی نے درجنوں قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، تو امریکا اور برطانیہ کی طرف سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ امریکا اور برطانیہ کا مو¿قف ہے کہ ان قیدیوں کو آزاد کرنے کے بجائے ان پر عدالتوں میں آزادانہ مقدمات چلائے جانا چاہیے تھے۔برطانوی فوجی انتظامیہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں برطانوی حراستی مراکز میں ان قیدیوں کو افغان حکام کی درخواست پر رکھا گیا ہے، کیونکہ ان کے جرائم میں ملوث ہونے کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔برطانوی بیان کے مطابق ان قیدیوں کا حراستی مراکز میں رہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ افراد افغانستان میں فوجیوں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ترجمان ایلسا اسمتھ نے کہا ہے کہ افغانستان میں قائم تمام امریکی حراستی مراکز افغان حکومت اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے علم میں ہیں۔

مزید : عالمی منظر