اسرائیلی افواج نے مسجد سمیت کئی مکانات منہد کر دئیے

اسرائیلی افواج نے مسجد سمیت کئی مکانات منہد کر دئیے

                                               خربت التاویل(این این آئی)اسرائیلی افواج نے ایک فلسطینی گاو¿ں میں ایک مسجد سمیت کئی مکانات منہدم کردیئے ہیں جبکہ اسرائیلی مانیٹرنگ گروپ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی نگرانی میں اسرائیل اور فلسطین کے امن مذاکرات کے دوران نئے مکانات اور بستیوں کی تعمیر جاری رکھی اور 1400کے قریب نئی تعمیرات پر کام شروع کردیا غیر ملکی میڈیا کے مطابق خربت التاویل کے علاقے میں سینکڑوں اسرائیلی فوجی آئے جو مغربی کنارے پر واقع ہے اور مسجد سمیت کئی مکانات مسمار کر دیئے دیہاتیوں نے بتایا کہ پتھروں پر مشتمل مسجد 2008 میں تعمیر کی گئی تھی۔ سپاہیوں نے مسجد گرانے سے پہلے وہاں سے نماز کی چٹائیاں اور دینی کتابیں ہٹادی تھیں۔اس کے علاوہ ایک تین منزلہ مکان گرایا گیا ایک جانوروں کا اصطبل اور ایک بڑی دیوار کو توڑا گیا جس سے 30 لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔اسرائیلی افواج کے مطابق آٹھ عمارتیں جن میں استعمال ہونے والی مسجد بھی شامل ہے انہیں گرایا گیا ہے کیونکہ وہ ایک ملٹری ٹریننگ کے علاقے میں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ابو الفتح المعروف نے بتایا کہ میں فجر کی نماز پڑھنے مسجد پہنچا تو معلوم ہوا اسے فوجیوں نے گھیر لیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے ( مسجد کو) مسمار کردیا ایک ممتاز فلسطینی رہنما یاسر عبد ربو نے کہا کہ اب امریکہ کی جانب سے شروع کردہ امن بات چیت کی جانب لوٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کئے بغیر اسے ' نسل پرست قابض ' قرار دیا۔دوسری جانب امن مذاکرات کے نو ماہ کے دوران اسرائیل نے فلسطینی زمینوں پر سینکڑوں نئی تعمیرات اور مکانات پر کام شروع کردیا ہے۔ پیس ناو¿ نامی گروہ نے بتایا کہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر تعمیرات تیزرفتاری سے جاری ہیں اور بنجامن نتن یاہو کی حکومت روزانہ پچاس نئے مکانات کی منظوری دے رہی ہے جو 1500 مکانات ماہانہ کے برابر ہے۔ نتین یاہو نے نو ماہ کے امن مذاکرات کے درمیان مکانات کی تعمیر کے ریکارڈ توڑدیئے ہیں

مزید : عالمی منظر