اسلامی طرز بینکاری کے فروغ کے لیے 5سالہ حکمت عملی واضع کر لی ۔ڈیپٹی گورنر سٹیٹ بینک

اسلامی طرز بینکاری کے فروغ کے لیے 5سالہ حکمت عملی واضع کر لی ۔ڈیپٹی گورنر ...

                                                                                                                                   لاہور(کامرس رپورٹر) اسلامی طرز بینکاری کو فروغ دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ سالہ جامع حکمت عملی وضع کرلی ہے۔ یہ بات ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان سعید احمد نے لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کاروباری برادری کو اسلامی بینکاری سے متعلق درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جبکہ نائب صدر کاشف انور ، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید احمد اور طلحہ طیب بٹ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ چونکہ حکومت اسلامی طرز بینکاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے لہذا اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ پانچ سالہ حکمت عملی کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان موجودہ مارکیٹ شیئر دس فیصد کو بڑھاکر بیس فیصد کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف کاروباری برادری ہی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کو بھی اعتماد میں لیکر ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ اسلامی طرز بینکاری پر تحقیق کا آغاز کریں۔ سنٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے سٹیٹ بینک انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ،کراچی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے ،جلد ہی پہلا سنٹر قائم ہوجائے گا جبکہ تین مزید ایسے سنٹر لاہور ،اسلام اور کراچی میں قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامک فنانس بھی تیزی سے فروغ پارہاہے کیونکہ یہ روایتی فنانشل سسٹم کی جگہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ اسلامی طرز بینکاری کو صحیح طرح متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اس کی افادیت سے بھرپور آگاہی ہو اور وہ فائدہ اٹھاسکیں۔ اسلامی بینکاری صرف مضاربہ اور مشارقہ تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ زرعی قرضوں ، مائیکروفنانس، ہاﺅسنگ ، ایس ایم ای فنانس، مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری اور مانیٹری مینجمنٹ کا بھی احاطہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر معلومات کے فقدان کی وجہ سے اسلامی طرز فنانسنگ کی کامیابی سست رفتار ہے جس پر توجہ دینا ہوگی۔

 انہوں نے کہا کہ منی مارکیٹ سود سے منسلک ہیں جبکہ حکومتی ٹریژری بلز، منظور شدہ سکیورٹیز اور لوکل بینک بلز ربّہ فری نہیں، سٹیٹ بینک آگاہ کرے کہ اسلامی بینکس اپنے اضافی فنڈز کہاں انویسٹ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشین حکومت نے 2016تک اسلامک فنانس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو خصوصی مراعات دے رکھی ہیں جن کا مقصد ملائیشیا کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانا ہے ، اگر اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو پاکستان بھی اس شعبے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے موجودہ سٹرکچر کی تنظیم نو کرنا ہوگی تاکہ انہیں اسلامک فنانس سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو شریعہ کمپلینٹ پراڈکٹس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے حکومت ٹیکس کریڈٹ کی صورت میں سہولت دے۔ آگاہی مہم، معیشت دانوں اور مذہبی سکالرز کے مشترکہ لیکچرز، کالجوں، یونیورسٹیوں میں خصوصی کورسز کے اجراءکے ذریعے اسلامی بینکاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کے تحت قرضہ سکیم جاری کرنے والے کچھ بینک روایتی بینکاری سے متعلقہ شقوں کے ذریعے اپنا فائدہ یقینی بناتے ہیں، ایسی تمام سکیموں کی تصدیق سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ہونی چاہیے ۔

مزید : کامرس