آئین میں آٹھارویں ترمیم اور مزدوروں کے حالات

آئین میں آٹھارویں ترمیم اور مزدوروں کے حالات
آئین میں آٹھارویں ترمیم اور مزدوروں کے حالات

  

خواتین و حضرات پاکستان کی سیاسی اور حکومتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ملک کے اندر ایسے طبقات کی حکومت رہی ہے جن کا حقیقی طور پر عوام سے تعلق بہت کم تھا جس کی وجہ سے ملک کے اندر جمہوری ادارے زیادہ مضبوط نہ ہوسکے۔ ملک کے اندر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور قبائلی سوچ رکھنے والوں اور مراعات یافتہ طبقات برسر اقتدار رہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر مدت فوجی حکومتوں نے بھی گزاردی۔ یہی وجہ ہے کہ 1973ءمیں بننے والے متفقہ آئین پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ آئین کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات کبھی درست اور مکمل طور پر منتقل نہ ہوسکے۔ یوں عام آدمی کی رسائی، ریاستی اداروں سے دور ہوتی گئی۔

تاہم اپریل 2010ءمیں صوبوں کی قسمت جاگی اور پاکستان میں اس کے آئین میں متفقہ طور پر اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی ۔ اس ترمیم کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ 17وزارتیں صوبوں کو منتقل کردی جائیں گی ۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت مرکزی وزارت محنت کو ختم کردیا گیا اور مزدور قانون سازی، صوبوں کو منتقل کردی گئی۔ تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ وزارتوں کے فنڈ ہنوز مرکزی حکومت کی جھولی میں ہیں۔ خاص طور پر مزدوروں سے متعلق دو انتہائی اہم ادارے جومالی طور پر نہایت مستحکم ہیں مرکزی حکومت نے اپنے کنٹرول میں رکھے ہیں۔ یہ ادارے ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) اور ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس ہیں واضح ہو کہ ان دونوں اداروں میں جو خالصتاً ورکرز کی بہبود کے لئے بنائے گئے ہیں، حکومت کی کوئی کنٹری بیوشن (Contribution) نہیں۔ ان دونوں اداروں کے اکاﺅنٹس میں جو رقوم ہیں وہ صنعتی اداروں اور مزدوروں کی جانب سے ادا کردہ ہے۔ یہ ملک کے کروڑوں مزدوروں اور ورکرز کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہے کہ ان کا پیسہ حکومت اپنی صوابدیدی کے مطابق خرچ کررہی ہے جبکہ خاص طور پر اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ رقم صوبوں اور مزدوروں کے اداروں کے حوالے کی جانی چاہئے تھی۔ تاکہ وہ اپنا پیسہ اپنی ویلفیئر پر خرچ کرسکیں نہ کہ حکومت کے اللوں تللوں پر۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان اپنے ہی اعلان کردہ مزدوروں کی کم از کم تنخواہ پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔ اسی طرح سوشل سیکیورٹی کارڈاور EoBi کا اطلاق پر بھی عمل نہیں ہورہا۔ آج پنجاب میں ٹریڈ یونین بنانے پر پابندی ہے اور 50 سے کم ارکان اپنی ٹریڈ یونین نہیں بناسکتے ۔ صوبائی حکومت نے یوں تو فیکٹری انسپیکشن پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کردیا ہے تاہم غیر اعلانیہ طور پر اب بھی لیبر انسپکٹر فیکٹریوں میں داخل نہیں ہوسکتے ۔

آج دنیا بھر میں پاکستان سمیت مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب نے حال میں لاہور میں جنوبی ایشیائی لیبر کانفرنس کا انعقاد بھی کیا ہے۔ اور اسی صوبے کی حکومت نے لیبر پالیسی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین اور خواتین مزدوروں کے لئے عورتوں کی با اختیاری پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان اقدامات کی روشنی میں یہ بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ان پالیسیوں اور پیکج پر سنجیدگی سے عمل درآمد بھی کرے۔ خاص طور سے ورکرز ویلفیئر فنڈز اور EOBI کے فنڈز فوری طور پر صوبوں کو منتقبل کئے جائیں۔

خواتین و حضرات یہ تو ہماری معیشت کے منظم شعبے (Formal sector) کی صورت حال ہے جبکہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کا 73% غیر منظم شعبے میں کام کررہا ہے ۔ ان میں گھر مزدور، دکاندار، پھیری والے گھریلو ملازمین، ہوم بیسڈ ورکرز ، ٹرانسپورٹر اور دیگر شعبے اور ادارے شامل ہیں۔ ان مزدورون اور ورکرز کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اس غیر منظم شعبے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ مگر ان کے لئے کوئی قانون موجود نہیں۔ یہ ملکی لیبر کے کسی لاءکے تحت نہیں آتے، انکی کوئی پہچان یا قانونی تعریف بھی نہیں۔ ان کے کوئی مستند سرکاری اعداد وشمار یا ڈیٹا بھی موجود نہیں۔ انہیں کسی قسم کی سوشل سیکیورٹی بھی نہیں ملتی۔ جبکہ عالمی ادارہ محنت(ILO) نے ان ورکرز کے لئے کنونشن بھی پاس کئے ہیں جنہیں ممبر ملکوں کو توثیق کے لئے کہا گیا ہے۔ ان میں ہوم بیسڈ ورکرز کے لئے C177 اور گھریلو ملازمین کے لئے C189 کے معاہدے موجود ہیں جن کے تحت انہیں سہولتیں اور مراعات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مگر حکومت ان معاہدوں کی توثیق سے پہلوتہی کررہی ہے۔موجودہ حالات میں جبکہ معیشت کا 73 فیصد غیر منظم شعبے میں کام کررہا ہے پھر ان کے مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے بند ہورہے ہیں اور ان کا زیادہ تر کام گھروں میں خواتین اور مرد کررہے ہیں مگر ان گھر مزدوروں کو ورکر ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

ہماری صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ مزدوروں کو متحدہ نہ ہونے دیا جائے اور ان کی ٹریڈ یونین بننے کی حوصلہ شکنی کی جائے یہی وجہ ہے کہ آج منظم شعبے اور صنعتی اداروں میں ٹریڈ یونین صرف 2فیصد ہےں۔ باقی جگہوں پر مختلف لیبر لاءکا سہارا لے کر مختلف پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ حکومت پنجاب لیبر لاءاور مزدوروں کی فلاح کے لئے خاصی سرگرم نظر آتی ہے۔ اور یوم مئی کے موقع پر مختلف اعلانات بھی متوقع ہیں۔ تاہم ہم حکومت پنجاب کی توجہ اس طرف بندول کرانا چاہتے ہیں کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کی ادائیگی کے قانون کو موثر بنایا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوم بیسڈ ورکرز اور گھریلو ملازمین کی پالیسیوں پر قانون سازی کی جائے۔ مزدوروں کے مسائل مقامی طور پر حل کرنے کے لئے ریجنل سطح پر ورکرز ویلفیئر بورڈ تشکیل دیئے جائیں۔

حکومت کے تحت کی جانے والی مختلف کانفرنسز ، پالیسیز اور قانون سازی اور اٹھارویں ترمیم، اس وقت تک، فائدہ مند نہیں ہوسکتی اور اس کے ثمران مزدوروں اور ورکرز تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک ان پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہ ہو اور عمل درآمد کے لئے کوئی طریقہ کار واضح نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ مزدوروں کے لئے بنائی گئی پالیسی کو عملی جامہ پہنچانے کے لئے مزدوروں اور ان کے نمائندوں کو ہر مشاورت میں شامل کیا جائے ۔ مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے یہ کام اور پیغام وقت کی ضرورت ہے۔ ٭

مزید : کالم