محنت کشوں کو درپیش چیلنج

محنت کشوں کو درپیش چیلنج
محنت کشوں کو درپیش چیلنج

  

شکاگو (امریکہ) میں1886ءمیں اپنے محنت کش ساتھیوں کی اُن سے غلام کی طرح کام لینے اور حق انجمن سازی سے محرومیوں کے خلاف محنت کشوں کے عالمی دن یکم مئی کے موقعہ پر دُنیا بھر کے محنت کش طبقہ پاکستان سمیت عظیم قربانیاں دے کر اپنے مطالبات منوانے پر اس روز منظم جلسے، جلوس نکال کر انہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔ کم مئی تمام دنیا میں محنت کشوں کے معاشرے میں ان کی محنت سے تعمیر و ترقی کے اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے یہ عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ یہ عالمی دن مناتے ہوئے ملک میں ضروریات زندگی کی اشیاءمیں کمر توڑ مہنگائی، کارکنوں و نوجوانوں کی عام بے روز گاری، سماج میں بچوں اور جبری محنت اور خواتین کی پس ماندگی اور اس کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے، سماج میں جاگیرداری اور غریب و امیر کے مابین بے پناہ فرق کو دور کرانے کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

آج پاکستان کے غریب عوام اور محنت کش طبقہ ملک میں دہشت گردی، عام غربت، بے روزگاری، ضروریات زندگی کی اشیاءمیں کمر توڑ مہنگائی، قلیل اجرتوں اور زندگی کی بنیادی ضروریات مثلاً رہائش و بچوں کی تعلیم کے گو ناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔ ملک کے غیر منظم شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کی 90فیصدی تعداد سے کسی لیبر قوانین اور سماجی تحفظ سکیم کا استفادہ نہیں کر رہی۔ ملک میں آئے روز کام پر غیر صحت مند اور غیر محفوظ حالات کار ہونے کی وجہ سے محنت کشوں کی المناک اموات ہو رہی ہیں اور اسی وجہ سے پیشہ وارانہ بیماریوں میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے گاہے بگاہے لیبر پالیسیوں کا اعلان کیا، جس میں کارکنوں کی بہبود کے اعلان کئے گئے، لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا۔ حکومت پاکستان کی آئی ایل او کی توثیق شدہ کنونشنوں کے مطابق قانون سازی کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن ان اصولوں پر عمل درآمد کے لئے تاحال قانون سازی نہیں ہو سکی۔ حکومت نے قومی مفاد عامہ کے اداروں، بجلی، ریلوے، پورٹ، سول ایوی ایشن، آئل اینڈ گیس، پی آئی اے وغیرہ کی نجکاری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جہاں لاکھوں محنت کش خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لیکن حکومت اس پر عمل کرتے ہوئے ان سے کوئی مشورہ نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے اُن میں سخت بے چینی ہے۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ محنت کش تنظیمیں خود کو صنعتی و قومی سطح پر موثر طور پرمنظم کر کے نہ صرف اپنے حقوق کی بازیابی، بلکہ بانی ¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے فرمودات کے مطابق پاکستان کے معاشرے میں اسلامی مساوات و فلاحی مملکت کے قیام کی جدوجہد کو کامیاب کریں، جس سے ہر بچے و بچی کو صدر مملکت کے بچوں کی طرح مفت تعلیم کا مساوی حق حاصل ہو۔

ملک میں قومی اقتصادی خود کفالت کی پالیسی اپنا کر قومی صنعتی و زرعی ترقی سے ہر نوجوان و کارکن کو پُروقار روزگار کا حق ملے اور اُن کو اجرتیں ان کے خاندان کی جائز ضروریات کے مطابق ادا ہوں، انہیں کام پر صحت مند اور محفوظ حالات کار کی فراہمی کی ضمانت ہو۔ بڑھاپے یا حادثہ و بیماری میں معقول سماجی تحفظ اور اُن کو بہتر کارکردگی عزت و احترام حاصل ہو۔ سماج میں جاگیرداری و سرمایہ پرستی کی لعنت ختم کر کے ملک میں محنت و قومی خدمت کی قدروں کو پروان چڑھایا جائے اور سماج میں کمسن بچوں کی جبری محنت و خواتین کے ساتھ تشدد کی لعنتوں کو ختم کیا جائے اور تمام لیبر قوانین کا اطلاق بلا لحاظ تمام محنت کشوں کے منظم شعبہ مثلاً ٹرانسپورٹ، کنسٹرکشن، گھریلو ملازمین اور زرعی کارکنوں پر بھی ہو۔

حکومت پاکستان کے توثیق شدہ کنونشنوں کے مطابق لیبر قوانین میں ترقی پسندانہ ترامیم کی جائیں۔ گھریلو ملازمین اور گھر میں کام کرنے والی خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کیا جائے اور حکومت وفاقی بجٹ میں کارکنوں کی اجرتوں و تنخواہوں اور پنشنوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ کرے۔ حکومت پاکستان کا وفاقی بجٹ میں 10 فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی حال ہی میں اپنے فیصلوں میں کہا ہے کہ صرف ایک خاندان کو ماہانہ خوراک کے لئے مبلغ18000روپے ماہانہ درکار ہیں۔

حکومت پنجاب یکم مئی کو مجوزہ لیبر پالیسی کا اعلان کر رہی ہے، لیکن وہ لیبر پالیسی کے اعلانات تک خود کو محدود نہ رکھے گی، بلکہ کارکنوں کے درپیش سنگین مسائل حل کرانے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں، کیونکہ یہ مشہور مقولہ ہے کہ مطمئن محنت کش ہی بہتر کارکردگی سرانجام دے سکتا ہے۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محنت کشوں اور غریب عوام کی خوشحالی و بہبود کی جدوجہد میں کامیاب فرمائے۔آمین! ٭

مزید : کالم