یوم مئی کا پیغام

یوم مئی کا پیغام
یوم مئی کا پیغام

  

یوم مزدوراں پوری دنیا میں ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔یہ دن ان ورکرز اور مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔جو یکم مئی 1886ءکو اپنے حقوق کے لئے شکاگو شہر میں پُرامن احتجاج کررہے تھے کہ ان پر گولیاں برسائی گئیں اور ان کا قتل عام کیا گیا۔

اس دن مزدوروں، کاریگروں، ورکرز اور کم اجرت اور نچلے طبقے والے لوگوں کی مجموعی ،قومی، ملکی،سماجی اور معاشی خدمات کا اعتراف اور کردار کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ معاشرے میں مزدوروں،ورکرز، چھوٹے ملازمت پیشہ لوگوں کے کردار اور اہمیت کو مدنظر رکھ کر معاشرے میں ان کو صحیح عزت و احترام، سماجی و معاشی اور تعلیمی سہولتوں دی جائیں۔ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتوں اور مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے۔حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا اعلان کرتی ہے۔ان کے اوقات کار کا تعین اور ان کے خاندان اور بچوں کے لئے سہولتوں، وظائف اور تعلیمی مراعات کا پیکیج پیش کیا جاتا ہے۔

کسی بھی معاشرے اور ملک میں مزدوروں کے کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہ ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، انہی کے دم سے بڑی بڑی صنعتیں، فیکٹریاں، ملز ، کارخانے چلتے ہیں۔تمام شعبے، دیوہیکل عمارات، سڑکیں، پل اور ملکی معیشت و کاروبار کا پہیہ انہی کے دم سے گھومتا ہے۔مزدور اور ورکرز کسی بھی تنظیم، ادارے اور ملک و قوم کا عظیم اثاثہ اور ورثہ و سرمایہ ہیں۔ذرا اندازہ کیجئے کہ اگر مزدور اور ورکرز کا کردار ختم ہوجائے تو ادارے، تنظیمیں، شعبے، صنعتیں، ملز فیکٹریاں، کارخانے سب بند اور ویران ہو جائیں گے۔ملکی معیشت کا پہیہ گھومنا بند ہو جائے گا اور اس قوم کا مستقبل گردش میں پڑ جائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ مزدوروں اور ورکرز کی اہمیت اور کردار کو صحیح عملی معنوں میں تسلیم کرکے ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جائے، تاکہ وہ مجموعی قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار دلجمعی سے بہتر طور پر ادا کر سکیں۔یوم مئی کا حقیقی پیغام یہی ہے۔

وطن عزیز پاکستان کے مزدور پیشہ طبقے ، ورکرز اور کم آمدن والے ملازم پیشہ لوگوں کے بارے میں پوری دنیا میں مشہور ہے کہ وہ محنتی، جفاکش اور ہنر مند لوگ ہیں۔وہ سخت حالات، موسم اور صورت حال میں بھی مصروف عمل رہنے والے لوگ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، عرب ممالک، انگلینڈ، کینیڈا غرض ہر جگہ پاکستانی لوگ اپنی محنت و دیانت کا لوہا منوا رہے ہیں اور وہاں کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

پاکستان میں پوری دنیا کی طرح لیبر ڈے یا یوم مئی باقاعدگی سے منایا جاتا ہے، اس دن عام سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔تمام سرکاری و نجی ادارے بند ہوتے ہیں۔مختلف تنظیموں، اداروں اور یونینز کی طرف سے ریلیاں ،مارچ، مظاہرے ،جلسے جلوس، خصوصی تقاریب اور پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔سرکاری طور پر حکومت کی طرف سے صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور نامور شخصیات اس دن مزدوروں کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں اور ان کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔بعض اوقات مزدوروں اور ورکرز کے لئے ان کی تنخواہوں میں اضافے اور خصوصی مراعات اور پیکیج کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ان کے بچوں اور اہل خانہ کو سہولتیں دی جاتی ہیں۔

جہاں تک پاکستان میں مزدور پیشہ لوگوں کا تعلق ہے تو یہ بات قدرے اطمینان بخش ہے کہ موجودہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے لئے بہت سے اقدامات اور مراعات و پیکیجز دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔مزدور کے لئے کم از کم تنخواہ 15ہزار ، زیادہ سے زیادہ اوقات کارِ 8گھنٹے، مزدوروں کے بچوں کے لئے تعلیمی وظائف، مالی امداد کا اعلان، قرضوں کی سہولتیں، انکم سپورٹ پروگرام، باقاعدہ لیبر پالیسی کا اعلان، شادی بیاہ میں مالی تعاون، سوشل سیکیورٹی، انشورنس کی سہولتیں، اولڈ ایج بینیفیٹ سکیم، مفت علاج و معالجے کی سہولیات رہائشی منصوبہ جات، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور منافع میں مزدوروں کا حصہ وغیرہ وہ چند اقدامات ہیں جو پاکستان میں مزدوروں کی بہتری کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے آئین میں بھی مزدوروں ،ورکرز اور عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ملازمت اور معیار زندگی کے مواقع کی فراہمی کے لئے باقاعدہ شقیں موجود ہیں۔ ٭

مزید : کالم