حقوق سے محروم محنت کش اور یوم مزدور

حقوق سے محروم محنت کش اور یوم مزدور
حقوق سے محروم محنت کش اور یوم مزدور

  

پاکستان میں یوم مزدور کیوں منایا جاتا ہے؟ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا،جس ملک میں 66سال کے دوران صرف سرمایہ دارانہ کلچر پروان چڑھا ہو اور جہاں ہاریوں پر وڈیروں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی ہو، وہاں یوم مزدور کی یہ حیلہ سازی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ پاکستان غالباً اُن چند ممالک میں شامل ہے، جہاں طبقاتی خلیج بڑے رحمانہ انداز سے بڑھتی چلی گئی ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا ہے۔ کس قدر شرمناک حقیقت ہے کہ اب بھی ہمارے ہاں کم سے کم اُجرت 9ہزار روپے مہینہ مقرر ہے، یعنی 300 روپے روزانہ، جہاں آٹا50روپے کلو بِک رہا ہو، وہاں ایک گھرانے کی آمدنی اگر300روپے روزانہ ہو تو سوائے خود کشی یا خود سوزی کے اور کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اس اُجرت کو بھی یقینی نہیں بنایا جا سکا، حتیٰ کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی پانچ سے چھ ہزار روپے ماہانہ پر ملازمت کرنی پڑتی ہے، کیونکہ روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں۔

پاکستان کوئی امیر ملک نہیں، ملک کی90فیصد آبادی کسی نہ کسی لحاظ سے مزدور ہی کے زمرے میں آتی ہے۔ صرف10فیصد مراعات یافتہ طبقہ ایسا ہے کہ جس نے امارت کے تمام تر لوازمات سمیٹ رکھے ہیں اور بدقسمتی سے یہی طبقہ اقتدار پر بھی قابض ہے۔ اس طبقے میں بیورو کریسی، سیاست دان، سرمایہ دار، وڈیرے اپنے اپنے علاقوں کے سردار اور تمن دار شامل ہیں۔ اس طبقے نے پاکستان کے90فیصد لوگوں کو اپنا غلام رکھنے کے لئے اتحاد کر رکھا ہے۔ ان کے اختلافات دکھاوے کے ہیں اور عوام کے ساتھ ہمدردی صرف منافقت ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں کہ عوام کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں، بس فکر ہے تو اس بات کی کہ اُن کی چودھراہٹ قائم رہے اور ملک کے تمام تر وسائل اُن کے چشم و ابرو کے اشارے پر ڈھیر ہوتے رہیں۔ ایسے ملک میں جہاں66سال میں کوئی ڈھنگ کی لیبر پالیسی نہ بن سکی، وہاں یوم مزدور منانے کا ڈرامہ رچانا اور وہ بھی سرکاری سطح پر ایک عجیب سا ڈھونگ دکھائی دیتا ہے۔ معمول کی طرح آج بھی ایوان صدر و وزیراعظم ہاﺅس سے مزدوروں کے حق میں بیانات جاری ہوں گے۔ انہیں ملک کی تقدیر کا وارث قرار دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اُن کی زندگی جنت نظیر بنانے کے وعوے کئے جائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کی نوید سنائی جائے گی۔ یہ سب کچھ صرف آج کے لئے ہو گا اور زبانی کلامی دعووں سے آگے نہیں بڑھے گا۔ مزدوروں کے حالات وہی رہیں گے، جو66سال سے چلے آ رہے ہیں اور انہیں اسی طرح کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنی پڑے گی، جو اُن کا شروع دن سے مقدر چلی آ ر ہی ہے۔

جس طرح کوئی عمارت مزدوروں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، اسی طرح پاکستان میں سیاست کا پیٹ بھی مزدوروں کا ذکر کئے بغیر نہیں بھرتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار کے شاہی ایوان تک پہنچنے کے لئے بھی مزدوروں کا کندھا ہی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ہاری، مزدور، کسان، محنت کش اور ہنر مند ہر سیاسی جماعت کا ہدف ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھ ملانے اور اُن کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کیسے کیسے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ ظلم و زیادتی اور اُن کے حقوق کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے دعوے ہوتے ہیں، کس قدر سفاکی کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں سرمایہ داروں، وڈیروں اور سرداروں کو انتخابی ٹکٹ دیتی ہیں اور بات مزدور، کسان اور ہاریوں کی کرتی ہیں۔ اس سے زیادہ شرمناک بات کوئی ہو نہیں سکتی کہ دن دیہاڑے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے۔ آج تک کسی سیاسی جماعت نے کسی مزدور کو، کسی عام کارکن کو، کسی ہنر مند کو ٹکٹ نہیں دیا۔ حتیٰ کہ ٹیکنو کریٹ کی مخصوص نشستوں پر بھی کبھی عام طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ اپنے طبقے کی نمائندگی کر سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے باقاعدہ ایک مشن کے تحت مزدوروں کو سیاسی شناخت عطا کی۔ اُن کے نظریہ¿ سیاست میں مزدور کی بڑی اہمیت تھی۔ پہلی بار جب سرمایہ دارانہ سماج کے خلاف بھٹو نے مزدوروں کے حقوق کا نعرہ لگایا، جاگیرداروں کی بجائے کسانوں، کاشت کاروں اور ہاریوں کی بات کی، تو ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ بھٹو کی شخصیت کا سحر درحقیقت اِسی نعرے کا مرہون منت تھا، کیونکہ اس نعرے نے اسی 98فیصد طبقے کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، جو خود کو بے بس و لاچار سمجھتا تھا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی تھی اور ایک بڑے سیاسی انقلاب کی بنیاد بن سکتی تھی، مگر بدقسمتی سے جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آ گئے تو انہی سرمایہ داروں اور وڈیروں نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا، جو مزدور اور عوام دشمنی کی اپنی ایک تاریخ رکھتے تھے۔ وڈیروں نے زرعی اصلاحات کو عملی جامہ نہ پہنانے دیا تو سرمایہ داروں نے لیبر پالیسی نہ بننے دی۔ رفتہ رفتہ بھٹو عوام سے دور ہوتے چلے گئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کو اُن کے حقوق کا شعور تو دیا، مگر حقوق نہ دے سکے۔ مزدوروں کا ہاتھ سرمایہ داروں کے گریبانوں تک تو پہنچ گیا، لیکن ان کے معاوضوں میں اضافہ ہوا اور نہ ہی لیبر لاز کے تحت ملنے والے حقوق کو یقینی بنایا جا سکا۔ حقوق کے شعور کو لیبر یونین کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں نے آجر اور اجیر کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی میں تبدیل کر دیا، جس سے حالات میں بگاڑ تو پیدا ہوا، انہیں عملی طور پر ملا کچھ نہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی مزدور اپنے حقوق سے محروم ہے، کیونکہ حقوق کے لئے بنائے گئے قوانین میں اس قدر ابہام ہے کہ مزدوروں کو حق لینے کے لئے پُل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج بھی مزدوروں کو ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں، انہیں کم معاوضوں پر رکھا جاتا ہے، انہیں علاج معالجے کی سہولتیں نہیں دی جاتیں، اُن کے بچوں کو تعلیم کے مواقع نہیں ملتے، ملتے ہیں، تو وسائل فراہم نہیں کئے جاتے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ سب کچھ ہی ایسے ملک میں ہو رہا ہے، جہاں ہر سیاسی جماعت مزدوروں کا نعرہ لگاتی ہے، جہاں کی سیاست مزدوروں کے گرد گھومتی ہے، جہاں سبھی کو غریبوں، محنت کشوں اور کسانوں کا غم کھائے جاتا ہے۔ یوم مئی پر یہ نعرہ خاص طور پر گونجتا ہے ”دنیا بھر کے مزدورو ایک ہو جاﺅ“۔ دنیا کے مزدور تو جانے کب ایک ہوں گے البتہ پاکستان کے مزدوروں کو اب ایک ضرور ہو جانا چاہئے۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے چکنے چپڑے نعروں میں آ کر اپنی طاقت کو تقسیم کر لیتے ہیں، حالانکہ انہیں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہئے، مجھے یہاں ایم پی خان یاد آ رہا ہے۔ وہ پہلے ملتان اور پھر لاہور میں لیبر پارٹی بنا کر مزدوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی دعوت دیتا رہا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے باربر تھا، مخنی سے جسم کا مالک، مگر بہت پُرعزم۔ مجھے اپنے لڑکپن کا ایک منظر نہیں بھولتا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو گھیر محلہ کینٹ میں واقع کھر ہاﺅس میں بہت سے لوگوں میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایم پی خان وہاں آ دھمکا اور آتے ہی کہا:”بھٹو صاحب آپ ہر وقت وڈیروں اور جاگیرداروں میں گھرے رہتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو مروا دیں گے“۔ بھٹو صاحب کا چہرہ مجھے ابھی تک یاد ہے۔ وہ تھوڑا سا مسکرائے اور پھر کھڑے ہو کر ایم پی خان کو گلے لگایا، پیٹھ تھپتھپائی اور کہا: ”تم جیسے کارکنوں کے ہوتے ہوئے مجھے کچھ نہیں ہو گا“۔ ایم پی خان اسی پر خوش ہو گیا اور بھٹو زندہ باد کے نعرے لگانے لگا۔ آج مَیں سوچتاہوں کاش بھٹو صاحب انتخابی ٹکٹیں تقسیم کرتے وقت ایم پی خان جیسے کارکنوں کو یاد رکھتے تو انہیں اپنی جماعت میں کوفے والوں کے پیروکار نہ ملتے اور مشکل وقت میں انہیں سیاسی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا، لیکن یہ صرف بھٹو صاحب پر منحصر نہیں، ہر سیاسی جماعت میں مزدوروں، ہاریوں اور کارکنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ جب تک یہ رویہ برقرار ہے، پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ حقیقی خوشحالی آ سکتی ہے۔ مزدور دوست پالیسیوں کی بجائے مزدور دشمن اور سرمایہ دار دوست پالیسیاں بنتی رہیں، تو حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا جائے گا۔ یوم مزدور مناتے ہوئے حکومت اور سیاست دانوں کو صرف اس نکتے پر اظہارِ فخر نہیں کرنا چاہئے کہ اجرت اتنی بڑھا دی ہے، بلکہ اصل کام یہ ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کو اپنی صفوں میں جگہ دیں، انہیں اقتدار میں شامل کریں اور انہیں خود اپنی تقدیر بنانے کا موقع دیں، کیونکہ66سال سے پاکستان کے محنت کش یہی سوال کر رہے ہیں:

جانے دور وہ کب آئے گا جب اس دیس کا ہاری

اپنے ہاتھوں سے خود اپنی تقدیر لکھے گا جاناں

مزید : کالم