کیا تحفظ پاکستان آرڈ ی نینس قانونی دہشتگردی ہے ؟

کیا تحفظ پاکستان آرڈ ی نینس قانونی دہشتگردی ہے ؟
کیا تحفظ پاکستان آرڈ ی نینس قانونی دہشتگردی ہے ؟

  

جعلی پولیس مقابلے بعض حکمرانوں کی مرغوب ڈش رہی ہے ۔ اس ڈش کا نام انہوں نے فوری انصاف رکھا ہواتھا۔ اس دور میں ہر روز پولیس مقابلوں کی فہرست بنتی تھی اور رات کے سناٹوں میں عوام کو” فوری انصاف“ فراہم کردیا جاتا تھا۔حکمرانوں کا تصور یہ تھاکہ عدالتوں سے مجرموں کو سزا دلوانے میں طویل عرصہ لگتاہے پھر کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے مجرم بری کر دیے جاتے ہیں اس لیے ”خس کم جہاں پاک“ کا اصول اپناتے ہوئے عوام کو مجرموں سے خود ہی نجات دلا دی جائے ۔ اس دور میں یہ کام اتنے دھڑلے سے ہوتاتھاکہ میرے پاس ہنجروال کا ایک عمر رسیدہ شخص آیا اس نے روتے ہوئے کہاکہ” میرے نواسے کو آج رات پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا کچھ کریں ۔ وہ اگر مجرم ہے تو ساری عمر کے لیے اسے جیل میں ڈال دیں ۔ بے شک عدالت سے اسے سزائے موت دلوادیں لیکن اس طرح تو اسے نہ ماریں “۔میں نے اسی وقت ایس ایس پی کو فون کیا ۔ ساری بات بتائی ۔ میرا خیال تھاکہ وہ شدت سے تردید کریں گے اور بتائیں گے کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں کی فہرستیں محض افواہ ہے اور یہ کہ ہم یہ غیر قانونی کام نہیں کرتے ، لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے مجھے قدرے توقف کرنے کا کہاکہ میں فہرست دیکھ کر بتاتا ہوں اور پھر بتایا کہ ہاں اس کا نام شامل ہے ،تاہم آپ کے کہنے پر ہم اسے سردست ملتوی کر دیتے ہیں ۔

میں نے بزرگ کو بتایا، اسے یقین نہ آیا ، لیکن اگلے دن وہ شکریہ ادا کرنے آیا کہ واقعی رات کو اس کا نام فہرست سے نکا ل دیا گیاتھا ۔ مجھے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہم ایک مجرم کو گرفتار کر کے لاہور لارہے تھے ۔ صبح کا وقت تھا ہم نے گاڑیاں کاہنہ روڈ پر ڈال دیں ۔ ہم پولیس اہلکاروں میں سے بعض ایک پرائیوٹ سفید گاڑی میں منتقل ہو گئے اور ہم نے وردیوں پر چادریں ڈال لیں ۔ اب پولیس وین اور ہمارے درمیان” جعلی مقابلہ“ شروع ہوا ۔ ہمیں مجرم کے ساتھی بنا دیا گیا ۔ باہمی فائرنگ کے اندر ہی مجرم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ۔ عوام دیکھ رہے تھے کہ مقابلہ ہورہاہے حالانکہ دونوں طرف ہم پولیس والے ہی تھے ۔ تحفظ پاکستان آرڈی نینس بھی ایک طرح سے جعلی پولیس مقابلہ ہے ۔

حکمران اپنے پولیس سسٹم کو ٹھیک کرنے ، پراسیکیوشن کے نظام کو درست کرنے ، عدالتی نظام میں اصلاحات کرنے ، زیادہ عدالتیں قائم کر کے انصاف کو تاخیر سے بچانے ، مجرموں کے پشت پناہ سیاستدانوں اور جاگیرداروں کو لگام دینے کی بجائے دوربادشاہت کی طرح کے اختیارات حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ قدیم بادشاہوں کی طرح وہ بھی جس کو چاہیں قتل کر نے کا حکم دیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو ۔

ظاہر ہے کہ دہشتگردی ، لاقانونیت ،ٹارگٹ کلنگ ، نوگوایریاز ، بھتہ خوری ، سٹریٹ کرائمز ، اغوا برائے تاوان وغیرہ ہمارے بڑے مسائل ہیںجس سے پورا معاشرہ انتہائی پریشان ہے اور بے گناہوں کی ہلاکت پر ہر دردمند شہری مضطرب و بے چین ہے لیکن حکمران اپنی نااہلیوں اور ناکامیوں کا ملبہ اختیارات کی کمی پر ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیناچاہتے ہیں حالانکہ اصل کمی قانون پر عملدرآمد اور قانون کی حکمرانی کی ہے ۔اگر قانون پر صحیح عملدرآمد ہو ، اگر ایجنسیاں اورقانون نافذکرنے والے ادارے عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو جوابدہ ہوں اور اربوں روپے کے بجٹ آڈٹ کرائے جائیںاوراگر کوئی بھی فرد یا جماعت قانون سے بالاتر نہ ہو تو دہشتگردی پر ہر صورت قابو پایا جاسکتاہے ۔

پاکستان سرزمین بے آئین نہیں ، یہاں آئین بھی موجود ہے اور اس میں انسانی حقوق سے متعلق آرٹیکلز بھی ۔ قرار داد مقاصد بھی موجود ہے اور قرآن وسنت کی بالادستی سے متعلق دفعات بھی ۔ اس لیے یہاں قانون سازی کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے اختیارات لامحدود نہیں اور قانون سازی اللہ کی حاکمیت ،اعلیٰ تعلیمات ، قرآن و سنت کی پاسداری اور بنیادی حقوق سے ہم آہنگی کی شرائط کے تابع ہے ۔

تحفظ پاکستان آرڈی نینس کو بظاہر تو کہا گیاہے کہ یہ دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کا نام ہے لیکن حقیقتاً یہ نو آبادیاتی طرز کا قانون ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محکموں کو کسی صورت بھی تڑپنے پھڑکنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ دور غلامی میں رولٹ ایکٹ بھی اسی طرح کا ایک قانون تھا بلکہ پی پی او اس سے بدرجہا زیادہ بدتر قانون ہے لیکن غلام انڈیا نے اس قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ جلیانوالہ باغ کا مظاہرہ اسی کے خلاف تھا کہ جہاں جنرل ایڈوائر نے بدترین مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے ، اسی قانون کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے امپریل لیجسلیٹو کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور استعفیٰ میں یہ لکھاتھاکہ اس قانون کو تیار کرنے والے مہذب کہلانے کے کسی صورت حق دار نہیں۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام اور ان کی جدوجہد آزادی کو دبانے اور 32 سے زیادہ ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکوں پر کنٹرول پانے کے لیے ”ٹاڈا“ جیسے قوانین بنائے ہیں جنہیں خود بھارت کے جمہوریت پسندطبقات نے کالے قوانین قرار دے کر مسترد کر دیاہے جبکہ ایسے کالے قوانین دنیا بھر میں بھارت کی نام نہاد جمہوریت نوازی کا پول کھولتے ہیں ۔

تحفظ پاکستان آرڈی نینس کے دو مسودات پارلیمنٹ کے سامنے لائے گئے :آرڈی نینس نمبر ۹ تحفظ پاکستان آرڈی نینس 2013 ءاور آرڈی نینس نمبر ۱ تحفظ پاکستان آرڈ ی نینس 2014 ء۔ 2014 ءکا آرڈی نینس 2013 ءکے آرڈ ی نینس میں بعض ترامیم پر مشتمل ہے ۔ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی قانون پر بحث ، ترامیم ، خواندگی کے مختلف مراحل کا ایک مقررہ طریقہ ہے ۔ ترامیم پر مکمل بحث ہوتی ہے لیکن حکومتیں اپنی اکثریت کے زعم میں مقرر ہ طریق کار کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ جماعت اسلامی کے ممبران نے دونوں آرڈی نینسز میں 16ترامیم جمع کرائی تھیں لیکن ان میں سے صرف 2 کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ۔

تحفظ پاکستان آرڈ ی نینس کے چند اہم قابل اعتراض پہلو حسب ذیل ہیں :۔

خصوصی عدالتیں :۔

 خصوصی عدالتیں ہمیشہ فوجی آمریتوں کی ضرورت ہوتی ہیں انہیں اپنے فیصلے ہر قیمت پر صادر کروانے ہوتے ہیں جبکہ عام عدلیہ قانون اور انصاف کے ہر پہلو کو مد نظر رکھتی ہے ۔ وہ حکمرانوں کی مرضی کے فیصلے نہیں دے سکتی اس لیے آمرانہ طرز سیاست میں خصوصی عدالتیں جنم لیتی ہیں جب حکمران خصوصی عدالتوں کا ڈول ڈالتے ہیں تو وہ ایک طرح سے پورے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہوتاہے ۔ تحفظ پاکستان آرڈی نینس کے تحت بھی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا راستہ کھولا گیاہے ۔ ان عدالتوں کے قیام میں بھی من مانے مرضی کے ججوں کی تقرری کو آسان بنادیا گیاہے ایسی 21 خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی ۔

مشتبہ افراد کو گولی مارنے کا حق :۔

کسی عدالتی اتھارٹی کے بغیر قانون نافذ کرنے والے افراد کو گولی مارنے اور کسی کی جان لینے کا پورا حق اور اختیار دے دیا گیاہے ۔ یہ ماورائے عدالت قتل کرنے اور پولیس مقابلوں کے ذریعے کسی کو بھی مارنے کا کھلا لائسنس ہے ۔یہ اختیار اس ہتھ چھٹ پولیس اور رینجرز کو دیا جارہاہے جو شوقیہ انسانوں کو قتل کر دیتے ہیں کراچی میں پولیس اور رینجرز کے ایسے اوقعات سامنے آ چکے ہیں حالانکہ تحفظ جان ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسلام بغیر حق کسی فرد کو قتل کرنے کا اختیار ریاست کو بھی نہیں دیتا ۔ یہ دہشتگردی کو دہشتگردی سے ختم کرنے کا طریق کار ہے جو بجائے خود ایک قانونی دہشتگردی ہے اس سے اپنے مخالفین کو مروانے کا ایک قانونی راستہ کھل جائے گا ۔ ماورائے عدالت انسانی جان لینے کا کام طالبان کریں یا حکمران ہر صورت یہ غیر قانونی ، غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے ۔

زیرحراست رکھنے کا قانونی حق :۔

لاپتہ افراد کے سلسلہ میں عدلیہ کو ناکام کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 90دن تک کسی کو بھی حراست میں رکھنے کا اختیار دے دیا گیاہے اور اس اختیار کو موثر بہ ماضی بھی کر دیا گیاہے تاکہ اب ان تمام افراد کو جنہیں اٹھایا گیا غائب کیا گیا ، وحشیانہ تشدد کے ذریعے مردہ یا نیم مردہ کر دیا گیا ، ان کی حراست قانونی بن جائے اور سپریم کورٹ کو اس سلسلہ میں پوچھ گچھ کرنے ، طاقتور ایجنسیوں کو طلب کرنے اور لاقانونیت کو عدالتی کٹہرے میں لانے سے روکا جاسکے ۔ کہتے ہیں کہ اب اتنی ترمیم کر دی گئی ہے کہ پندرہ دن کے بعد ڈاکٹر چیک کر سکتاہے ۔ غیر قانونی حراست ایک دن کی ہو یا پندرہ یا 90دنوں کی وہ بنیادی طور پر اغوا ہے ۔ اغوا برائے تاوان ہو یا برائے اطمینان دونوں صورتوں میں غیر قانونی ہے ۔ آخر عدالت کو پہلے دن سے شامل کرنے اور گرفتار شدہ فرد کے اہلخانہ کو مطلع کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔

زیر حراست فرد کو کہیں بھی رکھنے کا حق :۔

حراستی مراکز اور سیف ہاﺅسز کہ جہاں مدت دراز کے لیے انسانوں کو اٹھا کر پھینک دیا جاتاہے اور جن کے خلاف رائے عامہ میں انتہائی تشویش پائی ہے اب اس کو بھی قانونی شکل دینے کے لیے تحفظ پاکستان آرڈی نینس میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ زیر حراست فرد کو پاکستان بھر میں کہیں بھی رکھا جاسکتاہے ۔ غیر قانونی جیلوں کا سلسلہ جن کے لیے جاگیرداراور وڈیرے بدنام ہیں ان کو ہی پی پی او کے تحت قانونی حراستی مراکز بنایا جارہاہے

شہریت ختم کرنے کا اختیار :۔

کسی بھی پاکستانی کی شہریت کو ختم کرنے یا کسی بھی غیر پاکستانی کو بغیر کسی عدالتی کاروائی کے دشمن قرار دینے کا اختیار دیا گیاہے ۔ ہمارے ملک میں کتنے ہی محصور پاکستانی یعنی بہاری اور مسلم کش فسادات کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے برمی موجود ہیں ممکن ہے ان کے پاس ضروری دستاویزات نہ ہوں لیکن صفائی کا موقع دیئے اور کسی بھی عدالت میں پیش کیے بغیر ان کو دشمن قرار دینا کس طرح قرین انصاف ہے ۔

ہم حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس قانون کو محض قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے زور پر منظور کرانے اور سینیٹ میں مخالفین کی اکثریت سے خائف ہو کر مشترکہ اجلاس بلانے کی روش کو ترک کرے ۔ کھلے دل سے تمام دینی و سیاسی جماعتوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کرے ۔ ماضی گواہ ہے کہ ایسا قانون جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہو ، وہ بسااوقات قانون سازوں کے ہی گلے کا پھندا بنتاہے اور دوسروں کے لیے کھودے جانے والے کنویں سے انسان خود بھی محفوظ نہیں رہتا۔ ٭

مزید : کالم