مصرمیں ننگی فرعونیت

مصرمیں ننگی فرعونیت
مصرمیں ننگی فرعونیت

  

مصر کی مسلح افواج نے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر جس طرح جمہوریت پسند اخوان المسلمون کے کارکنان کو اپنے غصے اور انتقام کی بھینٹ چڑھانا شروع کر رکھا ہے۔کسی بھی ملک کی فوج کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر آئین و قانون کو بوٹوں تلے روند کر اقتدار پر قابض ہو جائے اور شہریوں کی آزادی سلب کرنے کے قوانین بنا کر پورے ملک کو یرغمال بنا لے۔

 اخوان المسلمون نے اقتدار پر قبضہ نہیں کیا تھا، بلکہ ملکی قوانین کے اندر رہتے ہوئے الیکشن لڑا اور پھر عوامی تائید سے اقتدار سنبھالا، لیکن جنرل سیسی نے اپنے پیش رو حسنی مبارک کی طرح دھاوا بول کر اپنے ہی شہریوں کو پابند سلاسل کرنا اور انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اخوان المسلمون کے سربراہ سمیت مزید 683 افراد کو سزائے موت سنا کر انتقام کا سلسلہ جاری ہے۔ نام نہاد مصری عدالتیں انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہیں۔ 683 افراد کو صرف ایک گھنٹے میں سزا سنائی گئی ہے۔ حالانکہ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر یہ افراد جرائم یا پرتشدد کارروائیوں یا ملک کیخلاف کسی بھی جرم میں ملوث ہیں تو ان کا باقاعدہ آزادانہ طور پر ٹرائل کیا جاتا۔ ملزموں کو صفائی کا موقع دیا جاتا، لیکن یہاں تو منٹوں سیکنڈوں میں فیصلہ سنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس کی مذمت کر رہی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے تو اس ٹرائل کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

مصری فوج نے گزشتہ سال مرسی کی زیر قیادت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ کچھ عرب ممالک نے فوجی اقدام کی تائید کی اور امریکہ کی طرف سے اس فوجی اقدام کو ناپسندیدہ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا گیا۔ ایسا ردعمل نہیں تھا جیسا کریمیا کے یوکرائن سے الگ ہو کر روس کے ساتھ الحاق پر سامنے آیا۔ مصر میں جمہوریت کو ایک سال بھی چلنے نہیں دیا گیا۔

گو کہ سینکڑوں افراد کو سزائے موت کا حکم مصر کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن6 سو سے زائد افراد کو ناجائز طریقے سے پھانسی لگا دی جائے اس پر عالمی برادری کی خاموشی کو ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ سیاسی مخالفت پر بدترین انتقام مہذب معاشروں میں روا نہیں ہے۔ اگر83 6 افراد ایسے جرائم میں ملوث ہیں جس کی سزا موت ہے تو بھی انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ محض دو سماعتوں میں سزا سنا دینا انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔

 مصر کے فوجی حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جبر و تشدد اور قوت کے بل پر مصر کے عوام کی جمہوری جدوجہد اور صدر مرسی کے حق میں جاری لہر کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 2 سال میں اخوان نے 5 مرتبہ عوام سے ووٹ حاصل کیا ہے اور عوام کی تائید سمیٹی ہے، مغربی میڈیا کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ خود اس نے جمہوریت کے حوالے سے جو معیارات اور پیمانے مقرر کئے ہیں، اس کے مطابق صدر مرسی کو حکومت کرنے کا حق ملنا چاہئے، اگر اس طریقے سے مینڈیٹ چھیننے کا رواج بڑھتا گیا تو پھر لوگ تشدد کا راستہ اختیار کریں گے۔

 مصر میںساڑھے تین ہزار سال بعد جمہوریت آئی ۔ باون فیصد ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب صدر مرسی نے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لئے فوج کی خوشنودی سے بے نیاز وہ اقدامات کیے جو فوج کے لئے ناقابل قبول اور امریکہ و اسرائیل کے لئے ناپسندیدہ تھے۔ مصر کا نیا آئین جسے اپوزیشن نے ”اسلامی آئین“ کا نام دیکر مخالفت کی، ریفرنڈم میں عوام کی جانب سے 60 فیصد حمایت حاصل کرنے والی حکومت نے بنایا اس پر عملدرآمد اس کا جمہوری حق بن گیا۔ فوج نے انتخاب کے بعد اقتدار کی منتقلی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور بعض یقین دہانیاں حاصل کیں پھر عدلیہ نے ایک غیر اہم قانونی نکتہ کی بنیاد پر پارلیمنٹ کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا ۔ صدر مرسی نے جو پالیسیاں تشکیل دیں اس سے اپنے اور غیر معاشی ماہرین حیران رہ گئے، نان روٹی کے مسئلہ پر مصری عوام کو امریکی غلامی سے نکال کر 70 فیصد خود کفالت حاصل کی۔ بحری جہازوں کی مرمت کے منصوبے پر سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ اس منصوبے سے اسرائیل اور دوبئی غضبناک ہوئے۔ مصری عوام کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع ملے ، کئی بیرونی کمپنیوں نے مصر میں اپنی برانچیں کھولیں۔ روزگار کے مزید مواقع کے لئے فیکٹری ایریا کی بنیاد رکھی۔ اس منصوبے کے لئے ترکی نے مالی امداد فراہم کی۔ حسنی مبارک دور میں 300 کھرب تک پہنچنے والے اندرونی و بیرونی قرضوں کی واپسی کے لئے عملی اقدامات پر سوچ بچار کا آغاز کیا۔ ملک میں سیکولر قوتوں کے ہاتھوں 60 سال کی مدت میں تباہی و بربادی ختم کرنے کے لئے اصلاحات کا آغاز کیا۔ ہزاروں بے گناہ قیدیوں کو ظلم و عذاب سے نجات دلائی۔ مصر کے صنعتی ہنرمندوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے۔ سب سے بڑھ کر فوج جو ملک کی 40 فیصد معیشت کو کنٹرول کرتی ہے اسے اپنی گرفت ڈھیلی ہونے کی فکر پڑ گئی۔

 حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ماخذ پر عشروں سے قابض نادیدہ عناصر اور بیرونی قوتوں نے مل کر اپنا کھیل کھیلا ہے، جو مصر کے عوام کی شکست کا ذریعہ بنا۔ فوج کے سربراہ جنرل السیسی کے امریکہ اور اسرائیل سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عدلی منصور و عبوری صدر کا تعلق یہودیوں کے ”سہتی“ فرقہ سے ہے، جبکہ وزیراعظم کا تعلق عیسائی قطبی فرقے سے ہے۔ صدر مرسی کے خلاف جو ہستیاں عوامی ”بغاوت“ کی قیادت کر رہی ہیں ان میں سرفہرست البرادعی ہیں جنہوں نے عراق کی تباہی میں شرمناک کردار ادا کیا۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

 اخوان المسلمون کا موقف یہ ہے کہ وہ صرف مصر میں اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا سامان نہیں کر رہی، بلکہ پورے خطے میں اسلامی تحاریک کے فروغ کی گنجائش پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اگر غیر ضروری لچک دکھائی گئی تو صرف خرابی پیدا ہوگی۔ اگر اس مرحلے پر خوف کا مظاہرہ کیا گیا تو مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ جمہوریت میں کچھ نہیں رکھا۔

امریکہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری مصر کی فوجی حکومت پر سیاسی قیدیوں کے فیئر ٹرائل کے لئے دباﺅ ڈالے۔مصر میں جس بڑے پیمانے پر فوجی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انسانوں کے ساتھ جو غیر انسانی اور حیوانی رویہ رکھا گیا ہے اس کی کھل کر مذمت کی جانی چاہئے۔ آج کے فرعونوں نے مصر میں ایک مرتبہ پھر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب آج کا فرعون بھی اپنے انجام سے دوچار ہو گا۔

اقوام متحدہ اس کا نوٹس لے اور اخوان المسلمون کے کارکنوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انصاف کے تقاضوں کا پورا ہونا بہت ضروری ہے۔ اب 59 سالہ عبدالفتاح السیسی 25 اور 26 مئی کو الیکشن کا ڈھونگ رچا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے جا رہے ہیں۔ یو این او ،امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک یکطرفہ الیکشن کا نوٹس لیکر مصری عوام سے چھینا گیا اقتدار دلوائیں۔  ٭

مزید : کالم