اُف یہ بابے،توبہ............

اُف یہ بابے،توبہ............
اُف یہ بابے،توبہ............

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کہا جاتا ہے کہ بوڑھوں اور بچوں کی عادتوں میں بہت یکسانیت ہو جاتی ہے۔ دوسرے معنوں میں جب انسان اپنی عمر کا بہترین حصہ گزارنے کے بعد بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہوتا ہے تو اس کی عادتیں بھی تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہیں، حتیٰ کہ بعض بزرگ تو باقاعدہ چرچڑے ہو جاتے ہیں، ہمارے بچپن اور لڑکپن میں کئی بابے ایسے گزرے ہیں، جن کو نوجوان تو نوجوان خود ان کے ہم عمر چھیڑ کر خوش ہوا کرتے تھے۔ یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے کہ آخری عمر یا ڈھلتی عمر میں کس بابے کی کیا افادیت ہے، جو بابا آمدنی والا ہو اس کا مزاج مختلف اور جو اپنی اولاد کے سہارے آ جائے اس کی حالت الگ ہو جاتی ہے۔ ایسے بابے جو صاحب حیثیت ہوں، ان کا رعب دبدبہ برقرار رہتا ہے اور جو کما نہ سکیں وہ گھر کا سودا سلف لانے اور بچے کھلانے پر مامور ہو جاتے ہیں۔

بہرحال بابے جہاں بھی ہیں جیسے بھی ہیں بابے ہی ہوتے ہیں اور وہ اپنی ایک اور ہی دنیا آباد کر لیتے ہیں، لیکن آج کل جن بابوں سے ہمارا واسطہ ہے، ہم اپنے سمیت ان میں سے کسی کو بھی بابا ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ یہ سبھی بابے ہوتے ہوئے بھی بابے نہیں ہیں اور سبھی کمائی والے ہیں، کچھ تو عمر کے لحاظ سے بزرگ بن گئے اور چند ابھی اس مقام پر آنے میں تھوڑا وقت لیں گے۔

یہ وہ بابے ہیں، جنہوں نے اپنی ایک الگ سی دنیا بھی آباد کر لی ہے۔ یوں تو لاہور کی تقریباً تمام سیر گاہوں میں ایسی دوستیاں اور جوڑیاں بن گئی ہوئی ہیں، جو روزانہ صبح سیر کے بعد گپ شپ لگا کر دن بھر کی کوفت اٹھانے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔ یہ حضرات سیر کا مزہ یا آکسیجن پھیپھڑوں میں اتارنے کے بعد کچھ دیر کے لئے بیٹھ کر دنیا بھر کی باتیں کرتے اور ہنستے کھیلتے گھروں کو واپس جا کر کام کاج کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

مصطفےٰ ٹاﺅن میں جہاں ہماری رہائش ہے، ایسی ہی ایک ٹیم بن گئی، جس میں اضافہ ہوتا گیا اور آج کل تعداد کے لحاظ سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ ہیں، ان میں تاجر، پروفیسر، وکیل، سرکاری ملازم اور ہم بھی شامل ہو گئے ہوئے ہیں، یہ سب ہی برسر روزگار والی کیفیت کے لوگ ہیں، اپنا کماتے اور بچوں کو کھلا کر خود بھی کھاتے ہیں۔ اس لئے ان میں سے کسی کو ابھی گھر والا بابا بننا نہیں پڑا، اگرچہ ان میں پوتے، پوتیوں اور نواسے، نواسیوں والے بھی ہیں اور کچھ جو ہیں تیار بیٹھے ہیں، یعنی ان کے بچوں کی شادیاں طے پا رہی ہیں، اس لئے متوقع طور پر یہ حضرات ان میں شرکت کے لئے بھی تیار رہتے ہیں۔

مصطفےٰ ٹاﺅن کے ان بابوں اور نیم بابوں کی شہرت ان کا بلند آہنگ اور کھابا ہے۔ ان میں ہم سمیت تین بائی پاس والے ایک دو انجیو پلاسٹی اور ایک دو کے سوا باقی سب ذیابیطس والے لوگ ہیں اور ان کو سیر پر ان کے معالجین ہی نے مجبور کیا ہوا ہے۔ ہم جیسے عادی چند ہی ہیں اور ان میں صحت مند وکیل اور18ویں گریڈ والے افسر بھی ہیں، جو افسر کم تحصیلدار زیادہ نظر آتے ہیں، ان کی کھابا گروپ کے واسطے سے شہرت بھی بلاوجہ نہیں، اس ٹیم یا گروپ آف باباز کے درمیان ناشتہ بازی ہوتی رہتی ہے اور چھٹی کے روز کسی کی باری آ جاتی ہے اور اگر یہ نہ بھی ہو تو یہ لسی، کلچہ پر بھی گزارہ کر ہی لیتے ہیں۔ موسم سرما میں تو ان حضرات نے وسیم ڈار کو مجبور کر کے اُس سے تلی ہوئی مچھلی کھا ہی لی تھی۔

یہ گروپ پورے علاقے میںشور شرابے کی وجہ شہرت بھی رکھتا ہے کہ پارک میں اکٹھے ہوں تو طارق بٹ (ماشاءاللہ گوجرانوالہ کے پہلوان نما ہیں) اور حاجی مقبول احمد کی آواز اور چودھری صدیق کی مغلضات دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔ قہقہوں کی تو دنیا اپنی ہے، اس میں تو حاجی خواجہ طارق، مرزا منور بیگ، گلزار بٹ، شیرازی صاحب، انوار الحق چودھری، رانا حنیف اور ہم بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ میاں اصغر بھی کسی سے کم نہیں ہے اور جناب عالیٰ جناب عالیٰ ان کا تکیہ کلام بھی مشہور ہے، جبکہ چودھری اسلم تو بولتے ہوئے غصہ میں دکھائی پڑتے۔ البتہ ان کے ہمسایہ ربانی صاحب دھیمے رہتے ہیں۔ نثار بھٹی غالباً زیادہ ذہنی حساب کتاب جوڑتے ہیں کہ کم بولتے اور ستھرا بولتے ہیں۔ یہ مختصر سا تعارف ہے اس گروپ کا جو آئندہ اتوار کو چودھری عنصر کے گھر حملہ آور ہونے والے ہیں کہ انہوں نے سب کو ناشتے کی دعوت دی ہے۔

ذکر طویل ہو گیا۔ مقصد سب بتانے کا یہ ہے کہ یہ بابے گزشتہ سال چھانگا مانگا میں پکنک منا چکے تھے اور اس مرتبہ دو دو ہزار روپے فی کس جمع ہونے کے علاوہ بعض حضرات نے کچھ زیادہ چندہ دیا تھا۔ چندہ یوں کہ پکنک کے لئے دو دو ہزار دینے والوں کو بھی جب کبھی امریکن سسٹم کے تحت کچھ کھانے پینے کو کہا جائے تو سبھی حضرات کنی کترانے لگتے ہیں اور یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ دو دو ہزار بھی تو امریکن سسٹم ہی طرح ہیں، طویل بحث و مباحثے کے بعد بمشکل فیصلہ ہوا کہ گئے اتوار ہیڈ مرالہ پر پکنک منائی جائے۔ ریسٹ ہاﺅس کے انتظام کے لئے ہمیں حکم دیا گیا، جو برادرم رانا سہیل اور شہزاد صاحب کے تعاون سے ممکن ہو گیا، ان کو محترم اطہر خان کی اجازت بہرحال حاصل تھی۔ جب سگنل مل گیا تو خواجہ طارق صاحب نے کھانے اور کوچ کا اہتمام کر لیا، اس کے لئے کوچ تو کرائے کی تھی اور کھانے کے لئے انہوں نے سیالکوٹ کے اپنے تاجر دوست سے کہا کہ وہ پکوا کر ریسٹ ہاﺅس تک پہنچا دیں۔

قارئین! اب اس سفر کی روائداد شروع ہوتی ہے، جو سیر سے شروع ہوئی اور ہیڈ مرالہ کے برادرم صاحبزادہ عالمگیر کی محبت سے شادی کے طعنے تک پہنچ گئی۔ لاہور سے روانہ ہوتے ہی یہ سب بابے اور نیم بابے جوش میں آ گئے اور اس امر کی پرواہ کئے بغیر کہ میاں اصغر اور اعظم گارڈن والے عالمگیر اپنے صاحبزادوں کو بھی ساتھ لائے ہیں، شروع ہو گئے اور پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ ہم جو اندرون اکبری/ موچی دروازہ کی پیدائش ہیں، جہاں کی بے تکلفی اور بے ساختگی مشہور ہے ، شرما کر رہ گئے کہ ان بابوں نے تو ہمارا لڑکپن بھی مات کر دیا تھا کہ اس دور میں لاہوریئے اپنی اس بے تکلفی سے پہچانے جاتے کہ دو دوست ملتے ہی ایک دوسرے کا استقبال گالی سے کرتے تھے، اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سبھی ایک ہی زبان بول رہے تھے۔ درمیان میں فقرے بازی اور لطیفہ گوئی بھی ہوتی اور قہقہے بھی گونجتے چلے جاتے تھے، انہی ہنسی کے گول گپوں کی وجہ سے سفر کٹتے پتہ ہی نہ چلا اور مزار حضرت سبز پیر والا موڑ آ گیا، جہاں برادرم صاحبزادہ عالمگیر مرالہ پریس کلب کے ساتھیوں کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے، راستے سے فون کر کے ان کو گاڑی کی نشانی بتا دی تھی، جو پُل پر روک لی گئی اور اس کے بعد تو ڈھول بجنا شروع ہو گیا، ہمیں احساس ہونے لگا کہ ہم تفریح کے لئے نہیں، حضرت سبز پیر کے عرس پر آئے ہیں کہ اس موقع پر یہ خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ بہرحال گاڑی سے باہر نکلے تو ہاروں سے لاد دیئے گئے، جبکہ خوش آمدید کے بینرز بھی لگائے گئے تھے، بہت ہی پُرجوش استقبال ہوا، تعارف ہوا اور پھر تصاویر بھی بنائی گئیں، بابے محظوظ ہوئے کہ مرالہ والوں نے خوش خلقی اور میزبانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب یہاں دلچسپ سین بن گیا کہ متعدد مانگنے والے جمع ہو کر مبارک دینے لگے، ان کے خیال میں تو یہ کوئی بارات تھی۔ بہرحال یہ لوگ اور ڈھول والے اپنا حصہ وصول کر گئے، لیکن انہی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جس نے ربانی صاحب کی جیب صاف کر کے اپنے جشے سے کہیں زیادہ حصہ وصول کر لیا۔ ربانی اور سب کو دُکھ ضرور ہوا، لیکن اتنے نقصان پر وہ اتنے ملول نہ ہوئے کہ تفریح کا مزہ کرکرا دیتے۔

ریسٹ ہاﺅس پہنچے تو وہاں پولیس اور رینجرز کی حفاظتی چوکی قائم تھی۔ یہ حضرات ملک کے مہمان چینی انجنیئروں کے تحفظ کے لئے تھے، جو یہاں مرالہ ہیڈ ورکس سے نکلنے والی ایک نہر پر پاور پلانٹ لگا رہے ہیں۔ اس نہر کے پانی سے 6میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی، کام تیزی سے جاری ہے، (یہ خوشخبری والی بات ہے) جب سیکیورٹی کلیئرنس مل گئی، تو رینجرز کے ایک جوان کا دلچسپ فقرہ بھی سننے کو مل گیا، گلے میں تلے والے ہار دیکھ کر اس نے بے ساختہ کہا:”اس عمر میں نیا ویاہ (نکاح) نہیں کرانا تھا؟“ مرزا منور بیگ بولے، یہ چوتھا ہے، ایک کو مار چکے ہیں۔

اب ریسٹ ہاﺅس تھا اور یہ بابے جنہوں نے بچوں کو مات کیا اور یہاں بھی نہ ٹلے۔ ظہر کی نماز محکمہ انہار کی کالونی میں ادا کر کے آئے اور کھانا کھاتے ہوئے بھی زبان کا چسکارہ لیتے رہے۔ اسی طرح واپسی کا سفر طے ہوا اور کم از کم ایک ماہ کا ہنسی کا کوٹہ پورا ہو گیا۔

قارئین! یہ مکمل روائداد تو ہے، لیکن تفصیل روکنا پڑی کہ کالم میں گنجائش نہیں۔ بات یہیں ختم کرتے ہیں کہ ربانی صاحب کو ہیڈ مرالہ پر دریا چناب میں کئی سال پہلے کی نسبت کم پانی کا احساس ہوا اور انہوں نے دُکھ کا اظہار کیا کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے، جبکہ اگلے روز جب میاں اصغر سے پوچھا کہ بچے نے اپنی والدہ سے بوریت کا شکوہ کیا اور بابوں کی بدتمیزی کی شکایت تو لگائی ہو گی، تو وہ بولے:”ایسی کوئی بات نہیں، بچہ عادی ہے کہ اس کو گھر میں عمومی گفتگو میں بھی گالیوں کا مزہ آ جاتا ہے“۔ ٭

مزید : کالم