شہداءکا لہو ہمیں پکار رہا ہے!

شہداءکا لہو ہمیں پکار رہا ہے!

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کے مقدس مشن کے لئے پوری قوم اپنی بہادر افواج کی پشت پر ہے ، ملکی دفاع کے استحکام کے لئے افواج اور عوام کے اس باہمی رشتے کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات یوم شہداءکے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کا دن ہمیں وطن عزیز کے ان بہادر جانبازوں کی یاد دلاتا ہے،جنہوں نے اپنی جانیں مادر وطن کے دفاع کی نذر کردیں اور اپنے لہو سے ایثار و قربانی کی تابندہ تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے کل کی خاطر اپنا آج قربان کر دینے والے یہ عظیم فرزند ہمارے محسن ہیں۔ ان شہیدوں کا مقدس لہو ہمیشہ مسلح افواج کے جوانوں اور افسرو ں کے دلوں میں دفاع وطن کے عزم کو زندہ رکھے گا۔ انہوں نے کہا قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جن کی آغوش میں قوم کے ان بہادر بیٹوں نے پرورش پائی۔ پوری قوم ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ شہدا مسلح افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ سرحدوں کا محافظ ہونے کے سبب شہیدوں اور غازیوں کی روشن تاریخ رکھنے والی مسلح افواج ہمارا قابل فخر قومی اثاثہ ہیں۔ پاکستان کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداءکے خاندانوں کی دیکھ بھال بھی ہمیشہ ہماری بڑی ترجیح رہے گی۔

یوم شہداءپر وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اپنی بہادر افواج، شہداءاور ان کے خاندانوں کے لئے پوری قوم کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ ملکی سیاست اور قیادت کے مزاج خواہ جیسے بھی ہوں یہ عوام اوران کا بہترین دفاع کرنے والی افواج ہیں،جنہوں نے اپنا رشتہ خود پیدا کر رکھا ہے۔ ہماری مسلح افواج نے جنگوں اور ملک کے اندرونی دشمنوں کے خلاف مسلسل جہاد کیا ہے۔ اپنی بہترین صلاحیتوں، فنی مہارت اور اعلی قیادت کے ساتھ قوم کے ان سپوتوں کا جذبہ شہادت بھی بے مثل ہے۔ قوم کا دفاع کرنے والے ان مسلح سپوتوں نے ہر موقع پر تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود بے مثل بہادری اور جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی صلاحیت اور قربانیوں کی ایک دنیا معترف ہے۔ اپنے شہیدوں کی لازوال روایات اور میدان جنگ میں دکھائی گئی شاندار کارکردگی ہمارے جوانوں اور افسروں کے لئے تاقیامت باعث صد افتخار رہے گی۔ ایک عام پاکستانی بھی اس بات کا پورا احساس رکھتا ہے کہ دشمنوں میں گھری عالمی فضا میں ہم مسلسل اپنی بقاءاور استحکام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

کوئی بھی جنگ عوام اور افواج کے درمیان گہرے تعاون اور مکمل ہم آہنگی کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ اسی لئے ہر شہری یہ خواہش رکھتا ہے کہ سول حکومتوں اور سیاست دانوں کی طرف سے کسی بھی طرح ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دی جائے، جس سے مسلح افواج کی توجہ اپنے دفاعی امور سے بٹ جائے اور انہیں اپنے کام میں یک سوئی نہ رہے۔ عوام کا مسلح افوا ج سے صرف سیاست دانوں ہی کے ذریعے رشتہ نہیں۔ یہ بہادر سپوت پاکستان ہی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اور خود ہم ہی میں سے ہیں، جس وجہ سے پاکستان کا بچہ بچہ اپنے دِلوں میں ان کے لئے اور خاص طور پر قوم کے محسنوں، اپنے شہداءکے لئے عزت و احترام کے جذبات رکھتا ہے۔ فوج کی وردی پاکستان کے عزم و استحکام کا نشان ہے۔ دشمن کی طرف سے ہماری صفوں میں خواہ جیسے بھی مغالطے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، لیکن عوام اور مسلح افواج کے رشتوں کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔ اپنے خون سے آزادی کے شجر کو سینچنے والے شہداءکو قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ رب العزت کے نزدیک شہداءکا جو مقام و مرتبہ ہے اس سے مسلمان غافل نہیں۔ ہمارے غاز ی اور شہید اللہ کی بے پایاں رحمتوں اور عنایات سے سرفراز ہونے کے لئے سینے کشادہ کر کے میدان میں اترتے ہیں اور وطن کے دفاع کے لئے جہاد کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ ایمان کی دولت سے مالا مال ایک مسلمان سپاہی بڑی شان کے ساتھ نذرانہ ¿ جاں پیش کرتا ہے۔ شہادت کو مسلمان سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔

وزیراعظم کی طرف سے یہ عزم بہت اہمیت کا حامل ہے کہ وہ عوام اور افواج کے درمیان رشتے کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیں گے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح مسلح افواج کے افراد اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی کی جنگ میں مصروف ہیں اور وطن کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، اسی طرح سیاسی قیادت بھی انتہائی خلوص، دیانت اور جانفشانی سے قوم کی خدمت کے لئے شفاف اور منصفانہ انداز میں تمام شعبوں میں کا م کرے۔ حقیقی یا غیر حقیقی انتخابات کی بنیاد پر ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جانے والوں کو کسی بھی طور بددیانتی سے قومی خزانے لوٹنے، بے جا اسراف اور قوم پر بلاجواز ٹیکسوں اور قرضوں کا بوجھ لادتے چلے جانے، روزگار کے مواقع میں اضافہ نہ کرنے اور جرائم پیشہ، قاتلوں، اغوا کاروں اور بھتہ خوروںاور رشوت کھانے والوں سے عام آدمی کو نجات دلانے اور عدالتوں کو انصاف دینے پر مجبور کرنے کے بجائے سیاست دان آپس میں گٹھ جوڑ اور مفادات کی تقسیم صرف اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے نہ کریں۔ مصائب میں گھرے ہوئے اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور اپنے لئے تعلیم اور علاج کی بہتر سہولتوں کے متمنی ہیں۔ سیاسی قیادت نہ ان میں ڈسپلن اور رواداری پیدا کرنے کی سوچتی ہے، نہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی میں اضافے کے لئے کوئی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ نہ اربوں کے فنڈز کے درست اور موثر استعمال کی کوئی پروا کی جاتی ہے، میرٹ کے بغیر بڑے سے بڑے عہدے اور وزارتیں محض سیاسی وابستگیوں اور وفاداریوں کی بنیاد پر دیئے جا رہے ہیں۔ رنگین اور روائتی انداز کے الفاظ اور بیانات کو عوام کی تشفی کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔

شہداءکا لہو ہمیں ہر وقت پکار پکار کر اپنے معاملات درست کر لینے اور اللہ رب العزت کی پسندیدہ راہ اپنانے کے لئے کہہ رہا ہے۔ شہداءکی روحیں ہمیں دیکھ رہی ہیں اور ہم سے وطن کے لئے ایثار و قربانی کی متمنی ہیں۔ ہمارا دین اور ایمان ہمیں ایثار و قربانی کے لئے کہہ رہا ہے۔ معاشرے کو انتہائی بگاڑ سے بچانے اور انسانی فلاح کے کاموں کے ذریعے افراتفری اور انتشار سے بچنے کے لئے ہمیں آگے بڑھنے اور ایک مومن کی شان بے نیازی سے کام کرنا آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم میں سے ہر کسی نے خود غرضی و بے مروتی کا برتاﺅ کر کے دیکھ لیا۔ ہم اللہ کے احکامات کو نظر انداز کر کے دنیا کی ہوس میں مبتلا رہ کر خوار ہوتے رہے۔ زمانے میں ہم نے اپنی عزت گنوا لی۔ دنیا کی راحت اور سکون بھی ہمیں نصیب نہ ہو سکا۔ بے حسی اور بے عملی نے ہماری پیشانیوں پر بدنامی کے داغ لگا دیئے۔ آپس کے تفرقہ اور نفرت نے ہماری قومی زندگی کی کشتی کو ڈگمگا دیا۔ عظیم شہداءاور ان کی قربانیوں کا ذکر عام ہے،لیکن ان کے جذبے اور ان کے راستے کو اپنانے کو کوئی تیار نہیں۔ کیا قوم اسی بے حسی کے رویے سے پنپ سکتی ہے؟

مزید : اداریہ