چین سے ریلوے انجنوں کی درآمد

چین سے ریلوے انجنوں کی درآمد

ایک خبر کے مطابق چین سے درآمد کردہ مزید 9ریلوے انجن کراچی پہنچ گئے ہیں۔ جون تک 43ریلوے انجن پاکستان پہنچ جائیں گے ، ....جب سے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کے محکمے کا چارج سنبھالا ہے وہ اس اہم قومی ادارے کو خسارے سے نکالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ان کی یہ کوششیں قابل تحسین ہیں لیکن بعض امور کی جانب ان کی توجہ دلانا ضروری ہے۔

چین سے جو ریلوے انجن درآمد کئے جا رہے ہیں ان کے بارے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کا معیار کیا ہے، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے عہد میں بھی چین سے ریلوے انجن اور بوگیاں درآمد کی گئی تھیں۔ بوگیاں تو شاید ابھی کچھ نہ کچھ چل رہی ہیں لیکن اس دور میں منگوائے گئے سارے ریلوے انجن ایک ایک کر کے کھڑے ہو گئے اور کوئی آپریشنل نہیں رہا۔ یہ سب کچھ بہت تھوڑے عرصے میں ہی ہو گیا حالانکہ ریلوے انجنوں کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے کوئلے سے چلنے والے انجن تو طویل عرصے تک چلتے رہے، ڈیزل انجن بھی جو ابتدائی دور میں امریکہ سے آئے تھے۔اب تک چل رہے ہیں ان کی عمر کسی بھی لحاظ سے پچاس سال سے کم نہیں، جو انجن خراب ہوئے ان کے بارے میں بھی اطلاعات تھیں کہ ان کے پرزے نکال لئے گئے اور بعض جگہوں پر تو ملاوٹی تیل استعمال کر کے انجن کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔

ماضی میں چین سے جو انجن درآمد کئے گئے تھے ان کے تلخ تجربے کے پیش نظر اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جو انجن دوبارہ درآمد کئے جا رہے ہیں ان کا معیار کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ انجن قرضے پر حاصل کئے گئے ہیں لیکن ان کا معیار بہرحال پیش نظر رہنا چاہئے۔ چین بلاشبہ پاکستان کا بہترین دوست ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری بھی وسیع پیمانے پر کر رہا ہے لیکن چینی مصنوعات کے بارے میں بہت سی شکایات ہراس ملک میں کی جاتی ہیں جہاں جہاں چینی مصنوعات درآمد کی گئیں، خود پاکستان ناقص ریلوے انجنوں کے تجربے سے گزر چکا ہے اس لئے اب احتیاط ضروری ہے اور متعلقہ انجینئروں کو یہ تسلی کر لینی چاہئے کہ جو انجن درآمد کئے جا رہے ہیں ان کا معیار اے ون ہے ایسا نہ ہو کہ اگلے چند سال بعد ہم پھر اس سلسلے میں رونا دھونا شروع کر دیں۔ رسال پور میں ہم نے ریلوے انجن اوورہال کرنے اور تیاری کے لئے ایک کارخانہ بنایا تھا، یہ کس حال میں ہے اور یہاں انجنوں کی مرمت وغیرہ کا کیا نظام ہے یہ بات بھی سامنے آنی چاہئے۔

جہاں تک بوگیوں کا تعلق ہے پاکستان کی لاہور اور اسلام آباد کی کیرج فیکٹریوں میں ضرورت کے مطابق مسافر ڈبے بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں ہم نے کچھ کوچز بنگلہ دیش کو برآمد بھی کی تھیں۔ خواجہ سعد رفیق کو یہ جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم یہاں مسافر کوچز نہیں بنا سکتے۔ بنا سکتے ہیں تو کب اور اگر نہیں تو کیوں؟ بدقسمتی سے ریلوے کے معاملے میں ہم نے ترقی معکوس کا سفر تیزی سے کیا ہے اور اس کی جہاں بنیادی وجہ کرپشن ہے نا اہلی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن جہاں اوپر سے نیچے تک کرپشن ہو گی وہاں ایک وزیر کی کوششیں کس حد تک نتیجہ خیز ہوں گی یہ بات مستقبل قریب ہی میں معلوم ہو گی۔ ہم خواجہ صاحب کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں لیکن اس ضمن میں جو گزارشات کی ہیں انہیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ