ایران نے انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا داخلہ روکنے کے لیے سرحد پر دیوار بنانا شروع کر دی

ایران نے انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا داخلہ روکنے کے لیے سرحد ...

                                    لاہور(زاہد علی خان) ایران نے انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا داخلہ روکنے کے لئے سرحد پر دیوار بنانی شروع کر دی ہے یہ دیوار میدانی علاقوں کے بارڈر پر بنائی جا رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں چیک پوسٹیں بنانے کے علاوہ سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی سرحد حکام نے حکومت پاکستان کے متعلقہ اداروں ایف آئی اے فرنٹیر کانسٹیبلری کو بھی آگاہ کر دیا ہے اور کہا کہ انسانی سمگلنگ سمیت دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو روکا جائے ۔باخبر ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ایران نے پاکستانی حکام سے شکایت کی ہے کہ سب سے زیادہ انسانی سمگلنگ پاکستان سے ہوتی ہے اور با اثر انسانی سمگلر ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے ذریعے ایرانی راستے استعمال کرتے ہیں۔ جس کے باعث ایرانی سرحدی سکیورٹی فورسز کے لئے پریشانی بن گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے میدانی علاقوں میں دیوار بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کوئٹہ ڈاکٹر شفیق نے بھی دیوار بنانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے روزنامہ ”پاکستان“ کو بتایا کہ ایران کے راستے انسانی سمگلنگ جاری ہے جس پر ایران نے احتجاج بھی کیا اور دیوار بنانے کے علاوہ سکیورٹی فورسز کو سخت ہدایات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی سمگلنگ روکنے کے لئے فرنٹیر کانسٹیبلری بھی ایف آئی اے کی حدود کے لئے میدان میں آ گئی ہے، ڈاکٹر شفیق نے بتایا کہ چمن، تفتان سمیت اہم بارڈر بھی سیل کر دیئے گئے ہیں اور گزشتہ دو ماہ کے دوران 84انسانی سمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم انسانی سمگلنگ کے معامل پر سخت ناراض ہیں اور انہوں نے وزیر داخلہ اور ڈی آئی جی ایف آئی اے کو بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ڈاکٹر شفیق نے کہا کہ ایف آئی اے نے بھی سخت اقدامات کئے ہیںا ور کرپٹ ملازمین کے خلاف کارروئای کی جا رہی ہے۔ انسانی سمگلنگ، سائیبر کرائم اور جرائم کی دیگر وارداتوں کی روک تھام کے لئے بھی اچھی شہرت کے حامل افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔

سرحد پر دیوار

مزید : صفحہ آخر