جی ایچ کیو کے خطاب میں جنرل راحیل شریف کھل کر آئین کے ساتھ کھڑے نظر آئے

جی ایچ کیو کے خطاب میں جنرل راحیل شریف کھل کر آئین کے ساتھ کھڑے نظر آئے
جی ایچ کیو کے خطاب میں جنرل راحیل شریف کھل کر آئین کے ساتھ کھڑے نظر آئے

  

 تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  یوم شہداء کے موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)میں جوخطاب کیا ایساہی خطاب وقت کی ضرورت تھی ۔ ان کی تقریر میں دہشت گردوں کیلئے کھلاپیغام تھا کہ وہ آئین کی غیر مشروط اطاعت قبول کرکے قومی دھارے میں واپس آجائیں ، ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ، آرمی چیف کی جانب سے یہ اتمام حجت بھی ہے کہ اگر کوئی ’’آئین کی غیر مشروط اطاعت‘‘قبول کرتا ہے تو اس کے لئے ’’قومی دھارے میں واپس آنے ‘‘کی گنجائش موجود ہے ۔ جب سے مذاکرات شروع ہوئے تھے دوطرح کی آراء منظر عام پر آرہی تھیں ایک تویہ کہ ان عناصر کے ساتھ طاقت کے استعمال کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتاہے ۔ جو عناصر مذاکرات کی مخالفت کررہے تھے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سے کچھ حاصل نہ ہوگا اور اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر یہ لوگ اور مضبوط ہو جائیں گے لیکن ’’طاقت کے سمبل‘‘ادارے کے سربراہ نے بھی ان لوگوں سے کہا ہے کہ وہ آئین کی اطاعت قبول کرکے قومی دھارے میں واپس آسکتے ہیں گویا طاقت کے استعمال سے پہلے انہیں ایک موقع دیا جاسکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے آئین کی اطاعت پر جو زور دیا ہے ایک فوجی سربراہ کی طرف سے اس طرح کا اظہار خیال وطن عزیز کے موجودہ حالات میں آئین کی اہمیت کا واضح اظہار بھی ہے ، انہوں نے واضح کردیا ہے کہ آئین کے باغیوں کیلئے بھی آئین کی اطاعت قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اگر وہ ایسا کرکے قومی دھارے میں آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جاسکتا ہے۔

طالبان کے اندر کچھ عناصر ایسے ہیں جو آئین وقانون کے بارے میں کماحقہ ادر اک نہیں رکھتے وہ شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں مگر شریعت کا تصور بھی ان کا اپنا ہے اور ان کے نزدیک ہر وہ بات ’’شریعت‘‘ہے جسے وہ اپنے کاز کیلئے درست سمجھتے ہیں حالانکہ اسلام کے نزدیک شریعت ایک ہی ہے اور وہ وہی شریعت ہے جس کی تعلیم رہبراول و آخر حضور اکرمؐ نے دی تھی ، شریعت وہی قابل قبول ہے جو حضور اکرمؐ کی تعلیمات کے تابع ہے۔ اس دائرے سے نکل کر کسی بات کو نہ تو شریعت تسلیم کیا جاسکتاہے اور نہ کو ئی مسلمان ایسی شریعت کو قبول کرنے کا پابنداور مکلف ہے طالبان کا فہم دین بھی محدود ہے وہ پاکستان کے آئین کو اسلامی نہیں مانتے حالانکہ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو پاکستان میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ کی پکی ضمانت دیتی ہے اس آئین کے اندر لکھا ہوا ہے کہ پاکستان کی ریاست کا کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں ہوگا اب اگر اس آئین کے ہوتے ہوئے بھی اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا تو یہ مسلمانوں کی بدقسمتی اور کم کوشی ہے ۔ آئین بنانے والوں نے تو اس کے اندر کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ، اب یہ مسلمانوں پر ہے کہ وہ کس حد تک اس کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ جہاد کے نام پر یا کسی اور حیلے سے آئین کو ہدف تنقید بناتے اور اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ، انہوں نے یا تو آئین کا مطالعہ ہی نہیں کیا یا اس سلسلے میں ان کا فہم ناقص ہے ۔

آرمی چیف اپنے خطاب میں کھل کر آئین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے بھی ایک خفی پیغام ہے جو ان سے کسی ماورائے آئین اقدام کی امیدیں باندھ بیٹھے تھے اور شب وروز اس انتظار میں گزار رہے تھے کہ جو حالات پیدا ہوگئے ہیں اس میں ان لوگوں کی بات بن جائیگی جو ہمیشہ اسی طرح کے حالات کے منتظر رہتے ہیں ۔ آرمی چیف نے آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ریاست کے باغیوں کے ساتھ نمٹنے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس پیغام کا رخ بھی واضح ہے اگر کوئی عناصر راہ راست پر نہیں آتے تو ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا یا بقول غالب ان کے دامن کو حریفانہ کھینچا جائیگا۔

آرمی چیف نے’’ ریاست کے باغیوں‘‘ کو جو پیغام دیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ پیغام ہے کہ وہ گفت وشنید کے ذریعے اپنے معاملات درست کرلیں اگر ایسا نہ ہوا تو ان کے ساتھ طاقت کی زبان میں بھی بات کی جاسکتی ہے۔ ہمارے خیال میں اس واضح پیغام کے بعد مذاکرات کا راستہ ہموار ہوگا اور جن لوگوں نے کسی زعم میں جنگ بندی کا سلسلہ ختم کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ طاقت کی زبان میں بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں دو ٹوک پیغام دے دیا گیا ۔

جو لوگ اس بات پر شادیانے بجارہے تھے کہ حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات ہیں ان کے لئے بھی اس تقریر کے اندر ایک واضح پیغام ہے کہ فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر یہ پیغام دینا بھی ضروری سمجھا کہ افواج پاکستان میڈیا کی آزادی کی مخالف نہیں ہیں انہوں نے کہا ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ قومی تعمیرمیں سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار بھی قابل تعریف ہے ہم میڈیا کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا افواج پاکستان جمہوریت کے استحکام اور آئین وقانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہیں۔

مزید : تجزیہ