پاکستان میں حقیقی معنوں میں انسداد دہشت گردی کا کوئی قانون اور پالیسی نہ بن سکی

پاکستان میں حقیقی معنوں میں انسداد دہشت گردی کا کوئی قانون اور پالیسی نہ بن ...

                                                            لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 11برسوں کے دوران 5ہزار سے زائد جوانوں اور19ہزار سے زائد شہریوں کی شہادت کے باوجود ملک میں حقیقی معنوں میں انسداد دہشت گردی کا قانون اور پالیسی نہ بنائی جاسکی۔ نیکٹااوراور وقتاً فوقتاً بنائی جانے والی نئی فورسز اور ادارے بھی ناکام رہے۔معلوم ہوا ہے کہ 2002سے لیکر تاحال پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے۔ لیکن پاکستان کو اس اتحاد کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔اگرچہ وطن کی مٹی کے لیے قربان ہونے والے ان جوانوں نے اپنے خون سے دہشت گردوں کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹوں کی لائنیں کھینچیں۔اور ان کے بہت سے منصوبوں اور مذموم ارادوں کو خاک میں ملایا۔ لیکن ان گیارہ برسوں کے دوران قائم ہونے والی تین حکومتوں میں سے کسی ایک نے بھی ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر کام نہ کیا۔ نہ تو انسداد دہشت گردی کا قانون بنایا جاسکا اور نہ ہی اینٹی ٹیررازم پالیسی تشکیل پاسکی۔ اور نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف کچی پکی پالیسی کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہیں۔موجودہ حکومت کی طرف سے سامنے لائے جانے والے مجوزہ تحفظ پاکستان ایکٹ بھی منظوری سے پہلے ہی مشکوک ہوگیا ہے۔ معلوم ہواہے کہ پاکستان 2002سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ جب پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوںسے شناسائی ہوئی۔ گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران ملک میں 20ہزار سے زائد شہری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے جبکہ اس سے تین گنا زائد زخمی ہوئے ، زخمیوں میں 15ہزار سے زائد شہری اپنے کسی ایک عضوکے اتلاف کا شکار ہوئے جبکہ ان میں سے 10ہزار سے زیادہ عمر بھرکے لیے معذور ہوگئے۔اسی طرح اس جنگ میں 5 ہزار سے زائد جوانوں نے وطن کی آبروکے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کیا۔جبکہ 15ہزار سے زائد جوان زخمی ہوئے جن میں سے سینکڑوں اتلاف عضو کا شکار بھی ہوئے۔پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور انسداد کے لیے مناسب قانون اور پالیسی کی عدم موجودگی ہی کے باعث ملک میں دہشت گردی پروان چڑھی ہے۔ اور اس کی روک تھام ایک خواب محسوس ہوتی ہے۔

مزید : صفحہ اول