پاکستانی آئین اور قوانین 3کروڑ 71 لاکھ سے زائد مزدوروں کو ان کے حقوق نہ دلا سکے

پاکستانی آئین اور قوانین 3کروڑ 71 لاکھ سے زائد مزدوروں کو ان کے حقوق نہ دلا سکے

                                لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) ملکی آئین اور بیسیوں قوانین مل کربھی مزدوروں کو ان کے حقوق نہ دلاسکے ہیں۔ملک بھر کے 3کروڑ71لاکھ سے زائد مزدوروں کو دستورپاکستان کا آرٹیکل 11، 17، 18،25، 37(e)کے ساتھ ساتھ 1947سے لیکر 2014تک بننے والے متعد د لیبر قوانین، لیبر رولز اور لیبر پالیسیاں عملی طورپر تحفظ فراہم نہیں کرسکے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج مزدوروں کا عالمی دن منا یا جارھا ہے۔آج کے روز ملک بھر میں مزدوروں کے حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں۔ جلسے ، جلوس اور سمیناز منعقد کئے جاتے ہیں۔ لیکن عملی طورپر مزدوروں کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کی مجموعی تعداد 3کروڑ 71لاکھ ہے۔ جس میں سے 47فیصد مزدور زراعت سے وابستہ ہیں۔ 10فیصد کان کنی اور پیداوار سے اور 42فیصد دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔ملک میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے نہ صرف وقتاً فوقتاً بنائے جانے والے بیسیوں قوانین، رولز اور پالیسیاں ہیں۔ بلکہ 1973کا آئین بھی مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 11کے تحت 14سال سے کم عمر بچے کو کسی بھی کارخانے، کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائیگا۔اسی آرٹیکل کے تحت ملک میں بیگار اور انسانوں کی خریدوفروخت کو منع کیا گیا ہے۔ لیکن نہ صرف ملک میں 14سال سے بھی چھوٹے بچوں کو ملازمت پر رکھا جاتا ہے۔ بلکہ مختلف شعبوں اور علاقوں میں پیشگی رقم کے عوض بیگار جیسی ملازمت اور انسانوں کی خریدوفروخت بھی کی جاتی ہے۔آرٹیکل 17کے تحت مزدوروں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے انجمن سازی کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن بہت سے شعبوں اور سیکڑز میں مزدوروں کو انجمن سازی کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 18کے تحت شہریو ں کو جائز پیشہ ، تجارت یا اجرت کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ملک کے بہت سے علاقوں میں بعض کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آرٹیکل 25کے تحت جنس کی بنا پر فرق اور امیتاز کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ لیکن ملک بھر میں خواتین مزدوروں کو مردوں کی نسبت اجرت اور دیگر معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل 37(e)کے تحت بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہیں لیا جائیگا۔ جو ان کی عمر اور جنس کے لیے نامناسب ہوں،اور خواتین کو ز چگی کے دوران رخصت دی جائیگی۔ لیکن مذکورہ آرٹیکل پر عمل درآمد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح ملک میں مختلف شعبوں سے وابستہ مزدورں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ، دی ورکرز کمپینسیشن ایکٹ 1923،مائنز ایکٹ 1923،فیکٹریز ایکٹ 1934، پے منت ویجز ایکٹ 1936، انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ1947، مغربی پاکستان میٹرنٹی بینفٹ آرڈیننس 1958،انڈسٹریل ڈسپیوٹ آرڈیننس 1959، پروونشل ایمپلائزسوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965،مغربی پاکستاننڈسٹریل ڈسپیوٹ آرڈیننس 1968،کمپنیز پرافٹ ایکٹ 1968،انڈسٹریل ریلشنز آرڈیننس 1969،دی ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس اینڈ رولز1969،ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس 1971،ورکز چلڈرن(ایجوکیشن) آرڈیننس 1972، ایمپلائز کاسٹ آف لیونگ (ریلیف ) ایکٹ 1973ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس رولز1976،لیبر پالیسی2002،انڈسٹریل ریلشنز ایکٹ2008،پنجاب انڈسٹریل ریلشنز ایکٹ2010،انڈسٹریل ریلشنز (ریوائیول ایندامینڈمنٹ )ایکٹ 2010،اورانڈسٹریل ریلشنز آرڈیننس2011جیسے بیسیوں قوانین کی مل کربھی مزدوروں کو ان کے حقوق دلانے میں ناکا م رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر