کیا اداروں نے عدالت سے سچ نہ بولنے کا باہمی نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے ،سپریم کورٹ

کیا اداروں نے عدالت سے سچ نہ بولنے کا باہمی نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے ،سپریم ...

                                                اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں حسن عبداللہ اور خالد خلیل لاپتہ کیس میں جسٹس عظمت سعید نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا اور پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ کیا ادارو ں نے آپس میں کوئی نوٹیفکیشن جاری کررکھا ہے کہ کبھی عدالت سے سچ نہیں بولنا ہے‘ کیا سب اتنے بے حس ہیں کہ ابھی تک لاپتہ افراد کا پتہ ہی نہیں چل رہا‘ آپ کی ناک کے نیچے سے بندے لے گئے‘ آپ کو پتہ ہی نہیں چل سکا‘ تکلیف کا احساس اسے ہوتا ہے جس کا کوئی اپنا کھو جاتا ہے‘ آپ کو اس سے کیا‘ رزاق اے مرزا نے عدالت کو بتایا ہے کہ معاملہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے روبرو زیر سماعت ہے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ تو کرلیا گیا ہے مگر کمیشن نے اس پر ابھی تک کوئی فائنڈنگ نہیں دی ہے کچھ وقت دے دیں۔ انہوں نے یہ استدعاءچیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے دو رکنی بنچ کے روبرو بدھ کے روز کی ہے تاہم عدالت نے انہیں پندررہ روز کی مہلت دیتے ہوئے دونوں لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس واقعہ کے اتنے سارے گواہ ہیں اس کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل منیر بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ جیسے یہ واقعہ ہوا ہم نے تمام فورمز پر درخواستیں دیں مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ اس پر عدالت نے رزاق اے مرزا سے کہا کہ کیا وہ اتنے بے حس ہیں کہ ابھی تک اس معاملے کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں لاسکے ہیں اس پر لاءافسر نے بتایا کہ معاملہ کمیشن کے روبرو زیر سماعت ہے اور انہوں نے ابھی تک کوئی فائنڈنگ بھی نہیں دی ہے اس حوالے سے مہلت دی جائے اس پر عدالت نے سماعت پندرہ روز کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مہلت دے دی ہے۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر