نواز شریف کا د ورہ برطانیہ، پاکستان کی دوستی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہوگئی

نواز شریف کا د ورہ برطانیہ، پاکستان کی دوستی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ...
نواز شریف کا د ورہ برطانیہ، پاکستان کی دوستی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہوگئی

  

 لندن سے خصوصی تجزیہ،سہیل چودھری

وزیراعظم محمد نوازشریف کے پہلے باضابطہ سرکاری دورہ برطانیہ کے موقع پر لندن میں موسم نہایت خوشگوار ہے ،درجہ حرارت دس سنٹی گریڈ سے لے کر 16ڈگری سینٹی گریڈ کے مابین رہتاہے جبکہ دن روشن ہیں اور بادلوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں سورج سے آنکھ مچولی جاری رکھتی ہیں ،ایسے شاعرانہ موسم میں وزیراعظم میاں نوازشریف کا گزشتہ روز 10ڈاﺅننگ سٹریٹ کا دورہ اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر اپنے وفد کے ہمراہ ظہرانہ پاکستان اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحا ل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،اگر یہ کہا جائے کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ برطانیہ کا گزشتہ روز نہ صرف مصروف ترین دن تھا بلکہ نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے نقطہ عروج تھا ،وزیراعظم محمد نوازشریف اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے مابین ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک طرف پاکستان کے ہمسایہ ممالک اہم ترین سیاسی و سٹریٹجک تبدیلیوں سے دوچار ہیں جن کے اثرات پاکستان پر مرتب ہونا لازم اور فطری ہیں ،اس دورہ کی اہمیت اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ پاکستان میں جمہورت از سر نو کی گاڑی کو پٹری پر چڑھانے میں برطانیہ کا کلیدی کردار ہے ،آمریت سے جمہوریت کو انتقال اقتدار اور پھر پاکستان میں جمہوریت کے پر امن انتقال اقتدار کے عمل کو یقینی بنانے میں برطانیہ نے غیر معمولی تعاﺅن کا مظاہرہ کیا ،کیونکہ پاکستان کے ساتھ برطانیہ کے تاریخی تعلقات ،برطانیہ میں 12لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی موجودگی اور دو طرفہ تعلقات میں ان شہریوں کی اہمیت اور بالخصوص خطے میں نیٹو فورسز کے انخلا کے حوالے سے برطانیہ کے مفادات نہایت بنیادی اور کلیدی نوعیت کے ہیں ،ان عوامل کی بناءپر برطانیہ پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط اور توانا دیکھنا چاہتاہے ،جبکہ اس کی خواہش ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے اقتصادی وژن پایہ تکمیل تک پہنچے ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنی حکومت کے قیام کے فوری بعد اقتصادی سفارت کاری کے سفر کا آغاز کردیا تھا ،اس تناظر میں وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ برطانیہ کے ساتھ پاکستان کی دوستی اب اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہوگئی ہے اس کی گونج وزیراعظم نوازشریف کی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد بھی سنائی دی ،اسی بناءپر دونوں وزرائے اعظم کی ون آن ون اور وفود کے ساتھ ملاقاتوں میں غیر معمولی گرمجوشی اور ولولہ دکھائی دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،چونکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح میں بہتری آرہی ہے ،اور اقتصادی اعشاریے پہلے سال ہی میں مثبت نظر آرہے ہیں ،اس بناءپر وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ کے موقع پر ان کی باڈی لینگویج نہایت پر اعتماد نظر آرہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوریت مکمل طورپر جڑ پکڑ گئی تو پاکستان اب برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک ے ساتھ باوقار انداز میں تعلقات کو وسعت دے پائے گا ،گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کارکمپنیوں اور اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا اورانہیں بتایا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے موزوں ملک ہے ،ایسا لگ رہاہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کا دورہ برطانیہ نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ برطانیہ کے مستقبل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور برطانیہ اور پاکستان مشترکہ طور پر خطے میں چیلنجز سے نبر د آزما ہونگے ،کیونکہ ہندوستان اور افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے برطانیہ اور پاکستان کے بہت سے چیلنجز مشترکہ ہیں وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے اہم ترین تاثر سادگی اور وقار ہے ،اگرچہ ان کا وفد وسطی لندن میں واقع چرچل ہوٹل میں قیام پذیر ہے لیکن وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف اپنی ذاتی رہائشگاہ پر مقیم ہیں ،وزیراعظم محمد نوازشریف گزشتہ روز صبح اپنی رہائشگاہ پارک لین سے پیدل چل کر چرچل ہوٹل پہنچ گئے ان کی رہائشگاہ سے ہوٹل سے تقریبا 15،20منٹ کی واک پرہے جبکہ 10ڈاﺅننگ سٹریٹ جانے کے لئے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف برطانوی حکومت اور نہ ہی پاکستانی سفارت خانہ کی کار استعمال کی بلکہ اپنے صاحبزادے حسن شریف کی سرخ رنگ کی کار میں سرکاری پروٹوکول میں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ پہنچے ان کے ڈرائیور نے بتایا کہ یہ کار 7سال سے حسن شریف کے زیر تصرف ہے ،وزیراعظم محمد نوازشریف کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈاروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک ،مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاﺅن خصوصی طارق فاطمی کے ہمراہ الگ الگ کاروں میں ایک جلوس کی شکل میں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ پہنچے جس کی قیادت برطانوی پولیس کے موٹر سائیکل سوار کررہے تھے ،وزیراعظم میاں محمد نوازشریف جب 10ڈاﺅننگ پہنچے تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے باہر آکر سڑک پر ہی انکا پرتپاک استقبال کیا ،وزیراعظم نوازشریف تقریبا2گھنٹے سے زائد وقت 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میںبرطانوی وزیراعظم کے ہمراہ رہے جہاں انہیں سب سے پہلے ظہرانہ دیا گیا ،پھر دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے ملک کے وفود کی سربراہی کرتے ہوئے بات چیت کی تاہم اس کے بعد ون آن ون ملاقات ہوئی ،جو تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی وفود کی ملاقاتوں میں برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ ولیم ہیگ ،اور پاکستانی نژاد برطانوی وزیرمملکت برائے خارجہ سعیدہ وارثی بھی تھیں تاہم جب دوونوں سربراہان کے مابین ون آن ون ملاقات شروع ہوئی تو سعیدہ وارثی اسحق ڈار اوردونوں وزرائے اعلیٰ کو 10ڈاﺅننگ سٹریٹ کے بغلی دروازہ سے پیدل باہر لے جاکر ملحقہ وزارت خارجہ کے اپنے دفتر میں لے گئیں ،وزیراعظم نوازشریف جب ملاقات کے بعد باہر آئے تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون انہیں باہر تک الوداع کرنے آئے جبکہ دونوں وزرائے اعظم خوشگوار موڈ میں نظر آرہے تھے ،وزیراعظم نوازشریف نے 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میں واضح پیغام دیا کہ وہ پاکستان سے دہشتگردوں کو ختم کرکے دم لیں گے اور افغانستان سمیت دنیا میں کہیں بھی عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے کار بند رہے گا ،اسکا مطلب یہی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی اقتصادی ترقی کی طرف توجہ مرکوز کئے رکھنا چاہتے ہیں ،وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے ہمراہ حکام نے بتایا کہ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی اورپاکستان کی توقعات کے حوالے سے نتیجہ خیز تھی،بعد ازاں وزیراعظم نوازشریف نے سرمایہ کاری کانفرنس سے چرچل ہوٹل میں ہی خطاب کیا جبکہ دن کے آغاز پر ہی برطانوی وزیر دفاع نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے چرچل ہوٹل آکر ملاقات کی تھی ،وزیراعظم نوازشریف اوران کے وفد 10ڈاﺅننگ سٹریٹ آتے جاتے ہوئے بغیر رکے ہوئے پروٹوکول کیساتھ پہنچایا گیا جبکہ جہاں جہاں سے انکا قافلہ گزرتا تھا چند لمحوں کےلئے پیدل چلنے والوں کو بھی روک لیا جاتا تاہم جب انہیں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ سے ہوٹل واپس لایا گیا تو اس وقت ان کے قافلے نقل و حرکت کی وجہ سے وسطی لندن کے بعض علاقوں میں ٹریفک جام رہی کیونکہ لندن میں ٹیوب کے ملازمین کی ہڑتال ہے جس کی وجہ سے 80فیصد مقامات پرٹیوب دستیاب نہیں تھی اور شہر میں نقل و حرکت کےلئے زیادہ تر لوگ بسوں اورکاروں کو استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے لندن شہر کی سڑکوں پر غیرمعمولی رش دیکھنے میں آرہا تھا وزیراعظم نوازشریف کا دورہ برطانیہ پاکستان کو نہ صرف معاشی و سیاسی استحکام کےلئے ایک سنگ میل ہوگا بلکہ پاکستان کے خطے میں کردار کے حوالے سے بھی ایک نیا باب رقم کرسکے جس میں پاکستان کو خطے کے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے تحت رہنے میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔

 لندن سے خصوصی تجزیہ،سہیل چودھری

نواز شریف کا د ورہ برطانیہ، پاکستان کی دوستی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہوگئی

وزیراعظم محمد نوازشریف کے پہلے باضابطہ سرکاری دورہ برطانیہ کے موقع پر لندن میں موسم نہایت خوشگوار ہے ،درجہ حرارت دس سنٹی گریڈ سے لے کر 16ڈگری سینٹی گریڈ کے مابین رہتاہے جبکہ دن روشن ہیں اور بادلوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں سورج سے آنکھ مچولی جاری رکھتی ہیں ،ایسے شاعرانہ موسم میں وزیراعظم میاں نوازشریف کا گزشتہ روز 10ڈاﺅننگ سٹریٹ کا دورہ اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر اپنے وفد کے ہمراہ ظہرانہ پاکستان اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحا ل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،اگر یہ کہا جائے کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ برطانیہ کا گزشتہ روز نہ صرف مصروف ترین دن تھا بلکہ نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے نقطہ عروج تھا ،وزیراعظم محمد نوازشریف اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے مابین ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک طرف پاکستان کے ہمسایہ ممالک اہم ترین سیاسی و سٹریٹجک تبدیلیوں سے دوچار ہیں جن کے اثرات پاکستان پر مرتب ہونا لازم اور فطری ہیں ،اس دورہ کی اہمیت اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ پاکستان میں جمہورت از سر نو کی گاڑی کو پٹری پر چڑھانے میں برطانیہ کا کلیدی کردار ہے ،آمریت سے جمہوریت کو انتقال اقتدار اور پھر پاکستان میں جمہوریت کے پر امن انتقال اقتدار کے عمل کو یقینی بنانے میں برطانیہ نے غیر معمولی تعاﺅن کا مظاہرہ کیا ،کیونکہ پاکستان کے ساتھ برطانیہ کے تاریخی تعلقات ،برطانیہ میں 12لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی موجودگی اور دو طرفہ تعلقات میں ان شہریوں کی اہمیت اور بالخصوص خطے میں نیٹو فورسز کے انخلا کے حوالے سے برطانیہ کے مفادات نہایت بنیادی اور کلیدی نوعیت کے ہیں ،ان عوامل کی بناءپر برطانیہ پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط اور توانا دیکھنا چاہتاہے ،جبکہ اس کی خواہش ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے اقتصادی وژن پایہ تکمیل تک پہنچے ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنی حکومت کے قیام کے فوری بعد اقتصادی سفارت کاری کے سفر کا آغاز کردیا تھا ،اس تناظر میں وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ برطانیہ کے ساتھ پاکستان کی دوستی اب اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہوگئی ہے اس کی گونج وزیراعظم نوازشریف کی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد بھی سنائی دی ،اسی بناءپر دونوں وزرائے اعظم کی ون آن ون اور وفود کے ساتھ ملاقاتوں میں غیر معمولی گرمجوشی اور ولولہ دکھائی دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،چونکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح میں بہتری آرہی ہے ،اور اقتصادی اعشاریے پہلے سال ہی میں مثبت نظر آرہے ہیں ،اس بناءپر وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ کے موقع پر ان کی باڈی لینگویج نہایت پر اعتماد نظر آرہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوریت مکمل طورپر جڑ پکڑ گئی تو پاکستان اب برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک ے ساتھ باوقار انداز میں تعلقات کو وسعت دے پائے گا ،گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کارکمپنیوں اور اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا اورانہیں بتایا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے موزوں ملک ہے ،ایسا لگ رہاہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کا دورہ برطانیہ نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ برطانیہ کے مستقبل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور برطانیہ اور پاکستان مشترکہ طور پر خطے میں چیلنجز سے نبر د آزما ہونگے ،کیونکہ ہندوستان اور افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے برطانیہ اور پاکستان کے بہت سے چیلنجز مشترکہ ہیں وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے اہم ترین تاثر سادگی اور وقار ہے ،اگرچہ ان کا وفد وسطی لندن میں واقع چرچل ہوٹل میں قیام پذیر ہے لیکن وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف اپنی ذاتی رہائشگاہ پر مقیم ہیں ،وزیراعظم محمد نوازشریف گزشتہ روز صبح اپنی رہائشگاہ پارک لین سے پیدل چل کر چرچل ہوٹل پہنچ گئے ان کی رہائشگاہ سے ہوٹل سے تقریبا 15،20منٹ کی واک پرہے جبکہ 10ڈاﺅننگ سٹریٹ جانے کے لئے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف برطانوی حکومت اور نہ ہی پاکستانی سفارت خانہ کی کار استعمال کی بلکہ اپنے صاحبزادے حسن شریف کی سرخ رنگ کی کار میں سرکاری پروٹوکول میں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ پہنچے ان کے ڈرائیور نے بتایا کہ یہ کار 7سال سے حسن شریف کے زیر تصرف ہے ،وزیراعظم محمد نوازشریف کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈاروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک ،مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاﺅن خصوصی طارق فاطمی کے ہمراہ الگ الگ کاروں میں ایک جلوس کی شکل میں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ پہنچے جس کی قیادت برطانوی پولیس کے موٹر سائیکل سوار کررہے تھے ،وزیراعظم میاں محمد نوازشریف جب 10ڈاﺅننگ پہنچے تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے باہر آکر سڑک پر ہی انکا پرتپاک استقبال کیا ،وزیراعظم نوازشریف تقریبا2گھنٹے سے زائد وقت 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میںبرطانوی وزیراعظم کے ہمراہ رہے جہاں انہیں سب سے پہلے ظہرانہ دیا گیا ،پھر دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے ملک کے وفود کی سربراہی کرتے ہوئے بات چیت کی تاہم اس کے بعد ون آن ون ملاقات ہوئی ،جو تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی وفود کی ملاقاتوں میں برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ ولیم ہیگ ،اور پاکستانی نژاد برطانوی وزیرمملکت برائے خارجہ سعیدہ وارثی بھی تھیں تاہم جب دوونوں سربراہان کے مابین ون آن ون ملاقات شروع ہوئی تو سعیدہ وارثی اسحق ڈار اوردونوں وزرائے اعلیٰ کو 10ڈاﺅننگ سٹریٹ کے بغلی دروازہ سے پیدل باہر لے جاکر ملحقہ وزارت خارجہ کے اپنے دفتر میں لے گئیں ،وزیراعظم نوازشریف جب ملاقات کے بعد باہر آئے تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون انہیں باہر تک الوداع کرنے آئے جبکہ دونوں وزرائے اعظم خوشگوار موڈ میں نظر آرہے تھے ،وزیراعظم نوازشریف نے 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میں واضح پیغام دیا کہ وہ پاکستان سے دہشتگردوں کو ختم کرکے دم لیں گے اور افغانستان سمیت دنیا میں کہیں بھی عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے کار بند رہے گا ،اسکا مطلب یہی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی اقتصادی ترقی کی طرف توجہ مرکوز کئے رکھنا چاہتے ہیں ،وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے ہمراہ حکام نے بتایا کہ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی اورپاکستان کی توقعات کے حوالے سے نتیجہ خیز تھی،بعد ازاں وزیراعظم نوازشریف نے سرمایہ کاری کانفرنس سے چرچل ہوٹل میں ہی خطاب کیا جبکہ دن کے آغاز پر ہی برطانوی وزیر دفاع نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے چرچل ہوٹل آکر ملاقات کی تھی ،وزیراعظم نوازشریف اوران کے وفد 10ڈاﺅننگ سٹریٹ آتے جاتے ہوئے بغیر رکے ہوئے پروٹوکول کیساتھ پہنچایا گیا جبکہ جہاں جہاں سے انکا قافلہ گزرتا تھا چند لمحوں کےلئے پیدل چلنے والوں کو بھی روک لیا جاتا تاہم جب انہیں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ سے ہوٹل واپس لایا گیا تو اس وقت ان کے قافلے نقل و حرکت کی وجہ سے وسطی لندن کے بعض علاقوں میں ٹریفک جام رہی کیونکہ لندن میں ٹیوب کے ملازمین کی ہڑتال ہے جس کی وجہ سے 80فیصد مقامات پرٹیوب دستیاب نہیں تھی اور شہر میں نقل و حرکت کےلئے زیادہ تر لوگ بسوں اورکاروں کو استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے لندن شہر کی سڑکوں پر غیرمعمولی رش دیکھنے میں آرہا تھا وزیراعظم نوازشریف کا دورہ برطانیہ پاکستان کو نہ صرف معاشی و سیاسی استحکام کےلئے ایک سنگ میل ہوگا بلکہ پاکستان کے خطے میں کردار کے حوالے سے بھی ایک نیا باب رقم کرسکے جس میں پاکستان کو خطے کے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے تحت رہنے میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔

مزید : تجزیہ