مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا انتخابی ڈرامہ پھر ناکام!

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا انتخابی ڈرامہ پھر ناکام!
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا انتخابی ڈرامہ پھر ناکام!

  

تجزیہ :۔چودھری خادم حسین

مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادی کی حامی جماعتوں کا المیہ اور دکھ یہ بھی ہے کہ وہ عوام کی بہت بھاری اکثریت کی مکمل حمایت کے باوجود اصولی طور پر بھارتی حکومت اور الیکشن کمیشن کے تحت کرائے گئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں، کیونکہ وہ بھارتی آئین کی ان شقوں سے اختلاف رکھتی ہیں جو مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بناتی ہیں اگر یہ صورت نہ ہو اور یہ جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں اگر دھاندلی نہ ہو تو یہ سو فیصد نشستیں جیت سکتی ہیں۔موجودہ حالات میں اگر کوئی ایسا فیصلہ ہو تو اس پر عمل درآمد مشکل ہے کہ پہلے ہی نیشنل کانفرنس سے ان جماعتوں کی کھلی دشمنی ہے جو انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔یہ کشمیری عوام کی حمایت ہے کہ بھارتی حکومت دس لاکھ سے زائد فوجی رکھنے کے باوجود انتخابات کے انعقاد کے لئے کرفیو کا سہارا لیتی ہے اس کے باوجود بائیکاٹ کا توڑ نہیں ہوتا اور واضح ہو جاتا ہے کہ ان انتخابات کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔ایسا ہی حالیہ انتخابات میں ہوا، مقبوضہ کشمیر میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں گزشتہ روز کرفیو بھی لگایا گیا اور حریت کانفرنسوں کے علاوہ دوسری بھارت مخالف جماعتوں کے پانچ سے زیادہ راہنماﺅں کو بھی پکڑ لیا گیا اور یوں یہ ڈھونگ رچایا گیا۔

بھارت میں انتخابات کا سلسلہ اب مئی میں ختم ہونا ہے جو 12مئی تک جاری رہے گا اور 16مئی کوانتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ مکمل ہوگا، حقیقی طور پر مقابلہ بی جے پی اور کانگرس کے درمیان ہے، اس الیکشن میں بی جے پی کے امیدوار برائے وزارت عظمیٰ نریندر مودی نے اپنی تمام انتخابی مہم پاکستان مخالف بے بنیاد پروپیگنڈہ پر رکھی کہ انتہا پسند ہندوﺅں کے ووٹ حاصل کر سکیں، اسی لئے وہ نت نئے بیان بھی سامنے لاتے رہتے ہین، اب وہ نیا شوشہ لے کرآئے کہ جیت گئے تو داﺅد ابراہیم کو پاکستان سے لے کر آئیں گے۔وزیرداخلہ چودھری نثار کا جواب بروقت ہے کہ نریندر مودی پہلے اپنی معلومات درست کرلیں کہ مطلوبہ شخص کہاں ہے اور پھر دھمکیاں نہ دیں کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔چودھری نثار نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی پہلے گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کا تو حساب دے لیں۔

بھارت کا جہاں تک تعلق ہے تو وہاں بھی متعصب ہندوﺅں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں جو جنگوں کے مخالف اور امن کے حامی ہیں لیکن انتخابات میں یہ سب کوئی نہیں دیکھتا، بہرحال اب تک کی اطلاعات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی پوزیشن بہتر ہے لیکن کانگرس بھی کسی سے پیچھے نہیں، ویسے بھارت کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق اگرچہ مقابلہ دونوں جماعتوں میں نظر آتا ہے اور زیادہ نشستیں بھی انہی کو ملیں گی، لیکن کوئی بھی جماعت واحد اکثریتی پارٹی نہیں ہوگی، بلکہ علاقائی جماعتیں اہم کردار ادا کریں گی اور حکومت پھر بھی مخلوط ہی ہوگی۔نریندر مودی وزیراعظم بنا تو پاکستان کو حکمت عملی میں تبدیلی لانا پڑے گی۔اس لئے آنے والے دن بہت اہم ہوں گے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے صرف یہی نہیں، دوسرے ہمسائے افغانستان کا چیلنج بھی درپیش ہے اور ملک کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو بھی روکنا ہے اس کے ساتھ ہی ترقی کے لئے بلوچستان اور کراچی میں بھی امن کی ضرورت ہے۔بعض بھارتی صحافیوں کا خیال اور تجزیہ ہے کہ اگر بی جے پی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ مستحکم نہیں ہوگی اور اسے پاکستان کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات کے لئے بعض متنازعہ امور طے کرنے اور باقی کے لئے مذاکرات کاآغاز کرنا ہوگا، اگرچہ بی جے پی پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرکے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ان صحافیوں کا جن کی اکثریت کا تعلق شعبہ رپورٹنگ سے ہے یہ خیال ہے کہ انتخابی بخار اترنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آ جائے گی کہ خطے میں امن سب ہی کے لئے ضروری ہے۔ اب جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی پالیسی پہلے ہی ہمسایوں سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے فارمولے پر مبنی ہے۔اس لئے چودھری نثار کا جوابی بیان بروقت ہونے کے ساتھ ہی محتاط بھی ہے کہ اس میں اپنے دفاع کی بات کی گئی ہے، ادھر وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے لندن جا کر آئر لینڈ کے پس منظر کے ساتھ طالبان سے مذاکرات کا ذکر کر دیا اور اپنی نیک نیتی بیان کی ہے۔برطانوی دارالحکومت میں یہی بیان مناسب تھا اور ہے لیکن زمینی حقائق اب کچھ اور ہی بتا رہے اور کسی دوسری طرف جا رہے ہیں ایسے میں دعا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ طالبان کو معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید : تجزیہ