مذاکرات کیلئے حکومت جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کرے ،طالبان شوریٰ

مذاکرات کیلئے حکومت جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کرے ،طالبان شوریٰ

                      پشاور/اسلام آباد(اے این این)کالعدم تحریک طالبان کی سیاسی شوریٰ نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے لئے حکومت جنگ بندی کا یک طرفہ اعلان کرے،طالبان آپریشن کے باوجود مذاکرات کے لئے تیار ہیں مگر اب بال سرکار کے کورٹ میں ہے،تصفیے کے لئے چٹائی بچھانے کا بندوبست حکومت نے کرنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کاعدم تحریک طالبان کی سیاسی شوریٰ کے رکن مولانا اعظم طارق نے طالبان کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ سے رابطہ کر کے جنوبی وزیر ستان کے علاقے بوبڑ اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے بوبڑ میں دو روز سے طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جب طالبان مذاکرات کےلئے سنجیدگی دکھاتے ہیں تو طالبان کے خلاف کارروائیاں شروع کردی جاتی ہیں۔ مذاکرات میں سنجیدگی کےلئے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا جائے ۔ اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے ، تصفیے کےلئے بیٹھنے کی چٹائی بچھانے کا بندوبست حکومت نے ہی کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کو بامقصد بنانا چاہتے ہیں۔طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے مولانا اعظم طارق اور یوسف شاہ کے درمیان رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو حکومتی رویے پر تحفظات ہیں آپریشن اور دیگر کارروائیوں کے باوجود طالبان مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر تیار ہیں ۔ جنگ بندی کی توسیع کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔ پروفیسر ابراہیم نے فریقین سے کہا ہے کہ فوج آپریشن بند کرے اور طالبان سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کرے۔ امن کے قیام کےلئے مذاکراتی عمل آگے بڑھنا چاہیے ۔ قیدیوں کے حوالے سے حکومت اور فوج کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے لگتا ہے کہ دونوں کی لائن مختلف ہے امید ہے آئندہ چند روز میں معاملات آگے بڑھیں گے ۔انھوں نے کہا کہ ہم مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔

مزید : صفحہ اول