گولی کھانے کیلئے ووٹ دینا ضروری نہیں ،،کشمیری طلبہ کا بھارتی الیکشن میں حصہ لینے سے انکار

گولی کھانے کیلئے ووٹ دینا ضروری نہیں ،،کشمیری طلبہ کا بھارتی الیکشن میں حصہ ...

                             نئی دہلی/ سری نگر(اے این این)بھارتی الیکشن کا ساتواں مرحلہ،مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کا پولنگ میں حصہ لینے سے صاف انکار،بھارتی حکومت کے رویے اور تعصب پسندی پر شدید تنقید۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مجموعی طور پر پارلیمانی انتخابات کے ساتویں مرحلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تاہم مقبوضہ کشمیر میں ملک کے باقی حصوں کے مقابلے یہ بہت کم ہے۔بارہ مولہ میں ایم ایس ایم کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں ایک بھی طالب علم ایسا نہیں تھا جس نے ووٹ ڈالنے میں دلچسپی دکھائی ہو۔بی بی سی کیمپس ہینگ آٹ پروگرام کے تحت کیا کشمیر کی آواز دہلی تک پہنچتی ہے کے موضوع پر گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی۔ پہلے سوال کے جواب میں ایک بھی ہاتھ نہیں اٹھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ آپ میں سے کتنے لوگ اس بار ووٹ دینے والے ہیں؟۔طلبہ و طالبات نے ووٹ نہ ڈالنے کی بہت سے جواز پیش کیے۔کالج میں موجود تقریبا ڈھائی سو طلبہ کا کہنا تھا: ہم کس کے لیے ووٹ دیں، گولی کھانے کے لیے؟ ہمیں یہاں کیا سہولیات ملی ہیں؟ ہم بھارت کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے۔ تقریبا سوا گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں طلبہ و طالبات کے غم و غصے، درد اور جھنجھلاہٹیں واضح تھیں۔ایک طالبہ انم نے ایک ہی سانس میں کہا: میں 21 سال کی ہوں اور میں ووٹ دینے نہیں جا رہی۔ اس کی وجہ بھی بتاتے ہوئے انھوں نے کہا: بھارت کہتا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ حصہ ہے مگر وہ ایسا مانتا نہیں ہے۔ دیکھیے ہمیں کتنی کم سہولیات میسر ہیں۔انم کا کہنا تھا: میں چار سال بعد ایک کمپیوٹر انجینئر بنوں گی تو یہاں میرے لیے روزگار کے مواقع ہی نہیں ہوں گے۔ مجھے تو ٹیچر بننا پڑے گا مگر ایسا میں نہیں چاہتی۔انھوں نے کہا کہ کشمیر میں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان پریشان ہے اور ووٹ کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔رابعہ نے بھی روزگار کا مسئلہ اٹھایا: ہم نے عمر عبداللہ کو وزیر اعلی بنایا، یہ سوچ کر کہ وہ نوجوان ہیں کچھ تبدیلی لائیں گے۔ مگر وہ کیا لائے -- زوبن مہتا۔ ہمیں زبن نہیں ڈیل اور وپرو چاہیے۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں موسیقی کے پروگرام کے لیے معروف موسیقار زوبن مہتا آئے تھے جبکہ ڈیل اور وپرو کمپیوٹرز کی معروف کمپنیاں ہیں۔کشمیر میں فوج کی موجودگی پر بھی سوال اٹھے۔ مگر سوال کو ایک واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔جنید نے کہا: ہم صرف اپنا حق چاہتے ہیں۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملے ہونے کے بعد وہاں سڑکوں پر فوج نہیں گھومتی، تو یہاں حملے کے بعد فوج کیوں ہر جگہ آ جاتی ہے۔ ہم کشمیر سے باہر جائیں تو ہمیں ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ایک دوسری طالبہ ہدی نے کہا: میں ووٹ نہیں ڈالوں گی۔ میں ان کے لیے ووٹ کیوں ڈالوں جنھوں نے میرے بھائیوں کو گولی مار دی، میری بہنوں کی عصمت دری کی۔ گاو¿ں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ بڑی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جو یا تو بیوہ ہیں یا انھیں بھی پتہ نہیں کہ ان کے شوہر کہاں ہیں۔ہدی کا کہنا تھا: ہمیں اپنے مستقبل کا علم ہی نہیں۔ دہلی میں گینگ ریپ کرنے والوں کو تو پھانسی ملی مگر یہاں جو فوج کے لوگ ریپ کرتے ہیں ان کا کیا؟۔

مزید : صفحہ اول