پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی :تمام آپریشن تھیٹروں میں جان لیوا جراثیموں کی تصدیق

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی :تمام آپریشن تھیٹروں میں جان لیوا جراثیموں کی ...
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی :تمام آپریشن تھیٹروں میں جان لیوا جراثیموں کی تصدیق

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی سی میں دل کے مریضوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے۔ آپریشن تھیٹرز میں جان لیوا جراثیم کی موجودگی کاانکشاف ہوا ہے ۔ ہارٹ لنگ اور انستھیز یا مشینیں، آپریشن ٹیبل بھی بیکٹیریا کی لپیٹ میں ہیں۔ لیبارٹری کی رپورٹ نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔تفصیلات کے مطابق پی آئی سی میں دل کے مریضوں کی زندگیوں کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دل کی سرجری کیلئے ہسپتال میں موجود تمام آپریشن تھیٹرز میں مہلک جراثیم کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ پی آئی سی میں 9 آپریشن تھیٹرز ہیں جن میں جراثیم کی موجودگی کا سراغ لگانے کیلئے ہسپتال کی پتھالوجی لیب نے کلچر ٹیسٹ کیا جس کی رپورٹ کے مطابق پی آئی سی کے تمام آپریشن تھیٹرز کی فضا میں جراثیم، فنگس کی موجودگی کےع لاوہ ہارغ لنگ مشین، انستھیزیا مشین اور آپریشن ٹیبلز میں بھی سوڈومناس، سٹیف اور بیسی لیس نامی بیکٹیریا کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ آپریشن تھیٹرزمیں جراثیم کی موجودگی کے باعث کارڈیک سرجری کے بعد ایک درجن سے زائد مریض مہلک انفیکشن کا شکار ہونے کی وجہ سے کئی ہفتوں سے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں اور مہنگی ترین اینٹی بائیوٹیک ادویات استعمال کرنا پڑررہی ہیں۔ 21 اپریل کو پی آئی سی کے آپریشن تھیٹرز میں جراثیم کی موجودگی کی لیبارٹری رپورٹ انتظامیہ اور شعبہ کارڈیک سرجری کو موصول ہوگئی اس کے باوجود آپریشن تھیٹرز بدستور فعال ہیں اور مہلک جراثیم سے آلودہ تھیٹرز میں آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے ۔دوسری جانب پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات اور سروسز پر عدم اعتماد کر دیا ہے اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہآپریشن تھیٹروں میں خطرناک وائرس انفیکشن کی موجودگی سے مریضوں کے بائی پاس آپریشن خراب ہو رہے ہیں اور علاج کے لیے آنے والا مریض انفیکیشن لے کر واپس جا رہے ہیں، انسپکشن کمیشن نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو 15میں سے ”زیرو“ نمبر دیئے ہیں ۔ٹیم نے اپنی رپورٹ کمیشن کے چیئرمین کو پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”پی آئی سی“ میں غریب مریضوں سے انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ہسپتال کی سربراہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے معیار پر پوری نہیں اترتی جن کے پاس ایڈمنسٹریشن کے لیے تعلیمی قابلیت نہیں ہے ۔ دوسری طرف کمیشن کی طرف سے ہسپتال کو لائسنس دینے والی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی آئی سی میں پیڈز کارڈیک سرجری کے لیے کوئی قابل ذکر ڈاکٹر موجود نہیں ہے ،پیڈز کارڈیک سرجن کی سیٹ سمیت دیگر سیٹیں بھی خالی پڑی ہیں۔کمر عمر ایسے بچے جنہیں دل کے بائی پاس یا کسی اور مرض کی سرجری کے لیے فوری ضرورت ہوتی ہے ان کے آپریشن نہیں کئے جا رہے اور عام طور پر چھوٹے بچوں کے آپریشن عام کارڈیک سرجن سے کرائے جا رہے ہیں جو ٹرک یا کنٹینرز کے میکینک سے مرسڈیز کا انجن ٹھیک کرانے کے مترادف ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ ہسپتال کے تمام پروفیسرز اس وقت تک غریب مریض کے دل کا بائی پاس، انجیو گرافی یا انجیو پلاسٹر ی نہیں کرتے جب تک غریب انہیں زندگی بچانے کے لیے کیٹگری ”Poor“ سے ”Paying“ نہیں کرا لیتے ورنہ علاج کی باری کے لیے غریب مریض کو کئی سال انتظار کی تاریخ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی سی“ میں پروفیسر ز اور سینئر ڈاکٹروں میں گروپ بندی عروج پر ہے جس کے باعث ہسپتال”سیاست“ کے اکھاڑے میں تبدیل ہو چکا ہے ، رپورٹ جلد وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں 100ایسے کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پروفیسرز کی طرف سے Poorکیٹگری کو تبدیل کر کے Payingکہا گیا ہے اور ایسا کرانے پر غریب مریضوں کو پروفیسرز کی توجہ مل سکی اور اس کے لیے غریب مریضوں نے اپنی زندگی بچانے اور پروفیسرز کو فیس ادا کرنے کے لئے اپنے گھر کی چیزیں فروخت کیں ۔رپورٹ میں ہسپتال میں بد انتظامی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالات چیف ایگزیکٹو اور ایم ایس کے ”قابو“ میں نہیں ہیں جس کا خمیازہ غریب مریضوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔

مزید : تعلیم و صحت /اہم خبریں