پولیس کی رائفل نہیں چلتی، سیاستدانوں کے پاس جدید اسلحہ کی بھرمار

پولیس کی رائفل نہیں چلتی، سیاستدانوں کے پاس جدید اسلحہ کی بھرمار
پولیس کی رائفل نہیں چلتی، سیاستدانوں کے پاس جدید اسلحہ کی بھرمار

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) 13سال سے جاری دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کاکردار ادا کرنے والے پاکستان میں جہاں پولیس انتہائی پرانے اور ناقص اسلحے کے ساتھ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف براہ راست نبرد آزما ہے وہیں ملک کے محفوظ ترین ایوانوں میں بیٹھے سیاستدانوں کا جدید ترین فوجی اسلحہ رکھنا نیا سٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ قوانین میں نرمی کرکے فوج کے زیر استعمال اسلحہ کی خریداری کیلئے 239 سیاستدانوں کو این او سی جاری کرتے ہوئے جدید ہتھیار فراہم کردئیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق روس کی مشہور زمانہ ایجاد Ak-47 کا جنون اب سیاستدانوں میں ختم ہورہا ہے کیونکہ اب وہ فوج سے جدید ترین مشین گنیں، سب مشین گنیں اور جدید ترین رائفلز خرید رہے ہیں اور جواز پاکستان میں لاقانونیت کو پیش کیا گیا ہے۔ پاکستانی مرد سیاستدانوںکے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز نے بھی بڑی تعداد میں فوجی اسلحہ وی آئی پی کیٹیگری میں خریدا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پچھلے پانچ برس میں کل 239 سیاستدانون کو یہ جدید اسلحہ دیا گیا اور انہیں یہ اسلحہ دینے کا جواز پیش کرنے کے لیے انہیں VIP کیٹیگری کا درجہ دے کر وزیراعظم کی طرف سے منظوری دی گئی۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے جو جدید ترین فوجی اسلحہ سیاستدانوں کو دیا گیا ہے وہ اسلحہ پولیس کے بھی زیر استعمال نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ 2009ئ سے2014ئ تک وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے سیاستدانوں کو اسلحہ خریداری کیلئے این او سی جاری کرنے کیلئے کل 256 ڈائریکٹوز جاری کئے گئے جس کے بعد انہوں نے وہ اسلحہ آرڈیننس فیکٹری سے خریدا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 17 ایسے سیاستدان بھی ہیں جنہیں اب تک جدید فوجی اسلحہ نہیں مل سکا۔ جن سیاستدانوں کو اب تک این او سی نہیں ملے ان میں سابق وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، شاہد حسین بھٹو، ایم پی اے رائے محمد کھرل، سعید احمد پڈھیار، سید طیب حسین ایم این اے، سینیٹر روزی خان، داﺅد خان اچکزئی، سابق وزیر مولا بخش چانڈیو، سابق وزیر خزانہ سلیم مانڈوی والا، سینیٹر محمد زاہد خان اور مخدوم احمد محمود سابق گورنر پنجاب بھی شامل ہیں۔ جن 239 سیاستدانوں کو فوجی اسلحہ فراہم کیا گیا ہے ان میں سابق وزیر ارباب عالمگیر اور ان کی بیگم عاصمہ ارباب، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ذوالفقار مرزا، نواب اسلم رئیسانی، سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی، راجہ پرویز اشرف، ندیم افضل چن، روبینہ عرفان، سردار ثنائ اللہ زہری، سابق صدر آزاد کشمیر، راجہ ذوالقرنین، عابد شیر علی، جمشید دستی، سینیٹر اعظم ہوتی، میر منور تالپور، نواب غنی تالپور، اسفند یارولی، ڈاکٹر سمیرا، تسنیم صدیقی اور دیگر شامل ہیں۔

مزید : قومی