ایک ہی خاندان کے 5بچے زندہ جل گئے

ایک ہی خاندان کے 5بچے زندہ جل گئے
ایک ہی خاندان کے 5بچے زندہ جل گئے

  

چنیوٹ (نیوز ڈیسک) سال رواں کے دوران ہولناک آتشزدگی کے اس قدر واقعات رونما ہوئے کہ جنہوں نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے، بیشتر سانحات ایسے تھے جن میں کئی جانیں بھسم ہوگئی، جن میں خواتین اور معصوم بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے اگرچہ ریسکیو 1122 کے قیام کے بعد آگ پر قابو پانے میں زیادہ وقت صرف نہیں ہورہا تاہم آگ لگنے کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی انسانی جانیں بچانے کا کوئی عمل کارگر ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ روز چنیوٹ کے ایک گھر میں ہونے والی خونی آتشزدگی کے دوران دو بھائیوں کے 5 معصوم بچے آگ کی نظر ہوگئے۔ معلوم ہوا ہے کہ تاج دین نامی اپنے بھائی احمد دین اور دیگر اہلخانہ کے ساتھ چنیوٹ کی نواحی بستی میں رہائش پذیر ہے۔ گزشتہ رات گھر والے معمول کے مطابق سوگئے، اس دوران بجلی بند تھی رات اچانک لائٹ آئی تو بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث تاروں سے چنگاریاں نکلیں اور پوری وائرنگ میں آگ بھڑک اٹھی پھر اہلخانہ ہڑبڑا کر اٹھے اور ہلچل مچ گئی۔ اس دوران تین خواتین اور دونوں صاحبِ خانہ بھائی بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن دونوں بھائیوں کے 5 معصوم بچوں کو باہر نہ نکالا جاسکا اور محلے داروں کے پہنچنے سے پہلے شہزاد، نومی، حسیب، منا اور صغراں آگ میں جل کر راکھ بن گئے۔ کافی دیر بعد فائربریگیڈ پہنچا تو آگ پر قابو پایا تاہم معصوم بچوں کی لاشیں کوئلے کی شکل میں ہی نکالی جاسکیں۔ اس دل خراش واقع کے بعد پورے علاقے میں کہرام برپا ہوگیا اور علاقہ سوگ میں ڈوبا رہا۔

مزید : فیصل آباد