سندھ: کسانوں کوبھی حقوق مل گئے

سندھ: کسانوں کوبھی حقوق مل گئے
 سندھ: کسانوں کوبھی حقوق مل گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (نیوزڈیسک)پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صوبہ سندھ میں کسانوں کی یونین رجسٹرڈ کر دی گئی ہے۔ کسانوں کو بھی مزدور تسلیم کرنے کے بعد یہ یونین سندھ ایگری کلچر ورکرز جنرل یونین کے نام سے سوشل ویلفیئر اور لیبر ڈپارٹمنٹ کے پاس رجسٹرڈ کر دی گئی ہے۔  اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت چاروں صوبوں نے اپنے صنعتی ریلیشنز قوانین بنانے تھے۔ سندھ اور پنجاب نے گذشتہ سال یہ قانون سازی کر لی تھی جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تاحال یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں کسانوں کو قانونی طور پر مزدور کی حیثیت دی گئی ہے۔پاکستان نیشنل ٹریڈ یونین کے رہنما ناصر منصور کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے بعد کسانوں کو یونین کے تحت لین دین کا حق دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے جس طرح فیکٹری مزدور مالکان کے ساتھ لین دین کرتے ہیں اس طرح اب کسان بھی زمیندار سے کر سکے گا اور اپنی یونین بنا سکے گا۔  مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسان کو بطور مزدور تسلیم کرنے کے بعد اس پر مزدوروں سے متعلق تمام ملکی قوانین اور بین الاقوامی کنویشنوں کا اطلاق ہوگااور یہ ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔  ناصر منصور نے کہا کہ کسان بھی سوشل سکیورٹی کے اداروں سے رجسٹرڈ ہوجائیں گے، ان کی اپنی اور خاندان کی ہیلتھ انشورنس ہو سکے گی، اگر کسی وجہ سے موت واقع ہوجاتی ہے یا چوٹ لگتی ہے تو اس کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔  ان کا کہنا ہے کہ ان حقوق کے تحفظ کے لیے اب کھیت مزدوروں کی یونین سازی کی جا رہی ہے، اور اس وقت تک یونین میں 52 زرعی فارم کے پانچ ہزار کے قریب کسان شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔  پاکستان میں عام لوگوں کی ایک بڑی اکثریت زرعی شعبے سے وابستہ ہے، جو اس وقت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ سرویز کے مطابق اناج اگانے والوں ہی میں سب سے زیادہ خوراک کی کمی دیکھی گئی ہے۔  ملک میں کئی تنظیمیں زرعی اصلاحات اور کسانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر کسان کو مالکانہ حقوق مل جائیں تو کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔  

مزید : انسانی حقوق