دن مزدوروں کا،،چھٹی افسروں کی

دن مزدوروں کا،،چھٹی افسروں کی
دن مزدوروں کا،،چھٹی افسروں کی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(حافظ محمد عمرا ن شاہد)مزدوروں کے دن بھی افسروں نے ہی چھٹی منائی جبکہ مزدور اپنے حقوق سے بے خبر دو وقت روٹی کی تلاش میں رہے۔شکاگو کے مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے آج پاکستان سمیت دنیا بھرمیں یوم مزدور(لیبرزڈے) منایاگیا۔دنیا کابھی ایک عجیب دستور ہے کہ 100کلو اناج کی بوری جو شخص اٹھاتا ہے وہ خرید نہیں سکتا اور جو قیمت ادا کر کے خریدلیتا ہے وہ تو خود اٹھا بھی نہیں سکتا۔اسی دستور کے تحت آج جب دنیا بھرمیں یوم مزدور منایاجا رہاتھا تو بیچارہ مزدور اس سوچ میں تھا کہ اگر آج کام نہ کیا تو شام کو وہ اور اس کے گھر والے اپنا پیٹ  کہاں سے بھریں گے۔ بقول ایک شاعر”ہے مزدور کی یہ خواہش کہ جلدی ہوسانسیں پوری،کہیں زندگی کی کشمکش میں کفن مہنگا نہ ہو جائے“۔یہ حقیقت ہے کہ مزدور کے لئے سب سے غمگین دن وہ ہوتا ہے جس دن اس کی’دیہاڑی‘ٹوٹ جاتی ہے۔ مزدور نے تو آج بھی محنت کی لیکن اس کے نام پر لیبر یونینزکے عہدیداران اور افسران نے خوب چھٹی منائی کہیں تقریبات کی آڑ میں کھانے اڑائے گئے توکہیں سیمینارز میں دوستوں کے ساتھ خوب انجوائے کیا گیا۔لیبرڈے پربلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کام کرنے والے جب ایک شخص سے پوچھاگیا کہ آج آپ نے چھٹی نہیں کی تو اس نے برے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ کس چیز کی چھٹی اگر کام نہ کیا تو دووقت کی رو ٹی کہاں سے خریدوں گا۔یوم مزدور پربیان جاری کرنے والے نام نہاد حکمران اب تک اپنی مقرر کردہ مزدور کی کم ازکم تنخواہ 10ہزار پر عملدرآمدنہ کراسکے۔چلیں اگر مان بھی لیا جائے کہ ایساہو جائے گا تو کیا اس رقم سے کسی بھی طریقے پر ایک ماہ کا بجٹ بنایا جاسکتاہے۔ویسے بھی بجٹ کی آمد آمد ہے تو دیکھنا ہے کہ یہ بجٹ مزدورکو کچھ دے گا یاپھر اس سے بہت کچھ چھینے گا۔حیرانگی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر 128سال قبل شروع ہونے والی تحریک کے باوجود مزدور کا استحصال نہ صرف پاکستان میں بلکہ ترقی پذیر مما لک میں ابھی بھی جاری ہے۔آ ج ترکی میں مزدوروں کی پر امن ریلی پرپولیس نے شیلنگ اورہوائی فائرنگ کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزدوروں کے حقوق ادا کرناتودور کی بات انہیں تسلیم بھی نہیں کیا جا تا۔ حالانکہ سورج سوا نیزے پر ہو یا پھر یخ بستہ ہوائیں موسم کی سختی تو مزدور نے ہی برداشت کرنی ہوتی ہیں۔اندھیری کان ہو یا بھٹے پرجلنے والی جہنم کی آگ پسینہ تومزدورکا ہی نکلتاہے۔ہمیں ضرورکچھ سوچنا ہوگا اورمزدورکے اس سوال کا جواب دینا ہوگا”میں خون بیچ کرروٹی خریدلایاہوں،امیر شہر بتا یہ حلال ہے یانہیں“۔

مزید : بلاگ