اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل ہو گیا

اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل ہو گیا
اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل ہو گیا

  

ایمسٹرڈیم (بیورورپورٹ) اہرام مصر کا شمار دنیا کے ساتھ عجوبوں میں نمایاں ترین عجوبوں میں ہوتا ہے۔ ان کی عظمت و ہیت نے صدیوں سے انسان کو حیرانی میں مبتلا کررکھا ہے۔ ان عجیب و غریب عمارات کے متعلق سب سے حیرت زدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ اس قدر قدیم دور میں اتنی بڑی عمارت کیسے تعمیر کی گئیں۔ اہرام مصر کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر ناقابل یقین حد تک بڑے سائز کے ہیں کہ جن کو کسی جدید طاقتور کرین سے ہی ہلایا جاسکتا ہے۔ تو اتنے بڑے پتھر یہاں کیسے پہنچے؟ اس سوال کا ایک ممکنہ جواب یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے سائنسدانوں نے ڈھونڈ لیا ہے۔ ان سائنسدانوں کا خیال ہے کہ قدیم مصر کے لوگوں نے ان بڑے بڑے پتھروں کو لکڑی کے چوکھٹوں پر رکھ کر گیلی ریت پر کھینچ کر موجودہ جگہ پر پہنچایا۔ اس مقصد کیلئے فزکس کے ماہرین نے قدیم طرز کے لکڑی کے چوکھٹے بناکر انہیں مخصوص حد تک گیلی ریت پر وزن کھینچنے کیلئے استعمال کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہی وہ طریقہ ہے کہ جس سے فرعونوں کے یہ عظیم الشان مقبرے تعمیر کرنے کیلئے ناقابل یقین حد تک بھاری اور بڑے پتھر یہاں لائے گئے۔ واضح رہے کہ ان مقبروں سے ایسی تصاویر بھی دریافت ہوئیں ہیں کہ جن میں مزدور بھاری پتھروں یا دیگر وزنی مجسموں کو کھینچنے کے دوران اس بھاری وزن کے آگے آگے ریت گیلی کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس