حضرت زیدؒ بن امام علی زین العابدین ؓ (2)

حضرت زیدؒ بن امام علی زین العابدین ؓ (2)

  

 حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے فتویٰ کے الفاظ یہ تھے،’’حضرت زید بن علیؒ کا اس وقت کھڑے ہونا رسول اﷲؐ کی بدر میں تشریف بری کے مشابہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہواکہ جس طرح رسول اﷲؐ کا قریش کے مقابلہ میں صف آرا ہوناایک غیر مشتبہ فیصلہ تھا بالکل اسی طرح اس وقت بنی امیہ کی حکومت کے خلاف حضرت زیدؒ کا اُٹھ کھڑے ہونااور حکومت کو الٹ دینے کی کوشش کرناایمان و اسلام کے لئے ضروری ہے، گو کہ اس وقت کفار کی بجائے وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‘‘ اس فتویٰ کے ذریعے جناب امام ابوحنیفہؒ نے حضرت زید بن علیؒ کے جہاد کی شرعی حیثیت واضح فرمائی۔ خود اس جہاد سے متعلق حضرت زید بن علیؒ فرماتے ہیں:’’شکر ہے اس خدا کاجس نے مجھے اپنے دین کو حد کمال تک پہنچانے کا اس وقت موقع دیاجب کہ میں رسول اﷲؐسے سخت شرمندہ تھاکہ ان کی امت کومعروف کا حکم کیوں نہیں دیااور منکر سے کیوں نہیں روکا۔ خدا کی قسم مجھے یہ چیز سخت ناگوار تھی کہ میں محمد رسول اﷲؐ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ ان کی امت کونہ معروف کا حکم دیا ہوتااور نہ منکر سے روکے ہوتا۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اﷲکی کتاب اور رسول اﷲؐکی سنت کو جب مَیں نے درست کرلیاتو اس کے بعد مجھے قطعاً پروا نہیں ہے کہ میرے لئے آگ جلائی جائے اور مجھے اس میں جھونک دیا جائے‘‘ والی عراق یوسف بن عمر کو جب ان تیاریوں کا علم ہواتو اس نے حضرت زیدؒ اور آپ کے ساتھیوں پر کڑی نگرانی رکھنے کے لئے اپنے جاسوس ہر سو پھیلا دیئے۔ جناب زیدؒ کے طرف داربھانپ گئے کہ ان کی جاسوسی کی جارہی ہے ۔وہ ڈر گئے اور حسب روایت اہلِ کوفہ ان کا ساتھ چھوڑنے اور بیعت توڑنے کی حیلہ سازی کرنے لگے ۔ان کے سربرآدردہ لوگوں کی ایک جماعت جناب زید بن علیؒ کے پاس آئی اور ان سے پوچھاکہ شیخین یعنی حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓکے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ جناب زیدؒ نے فرمایا، اﷲتعالیٰ ان پر اپنا رحم کرے اور ان کومغفرت دے، میں نے اپنے کسی خاندان والے کو ان سے اپنی برأت کا اظہار کرتے نہیں سنااور نہ کوئی شخص ان کے متعلق کبھی برے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ان لوگوں نے کہا، آپ اہل بیت کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اسی لئے طالب ہوئے ہیں کہ یہ دونوں آپ کی حکومت کے درمیان کود پڑے اور آپ کے ہاتھوں سے اسے نکال لیا۔ جناب زیدؒ نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں سخت سے سخت بات جومیں کہہ سکتا ہوں وہ صرف اتنی ہے کہ رسول اﷲؐ کے بعدان کی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہم تھے، مگر قوم نے دوسروں کو ہم پر ترجیح دی اور ہمیں اس سے ہٹا دیا، مگر اس بنا پر وہ ہمارے نزدیک کفر کے درجہ تک نہیں پہنچے۔ یہ دونوں حضرات امیر المومنین ہوئے تو انہوں نے لوگوں میں انصاف کیا، کتاب اﷲاور سنت رسولؐ پر کاربند رہے ۔ (حوالہ تاریخ طبری۔ حصہ ششم۔ باب 122 ہجری کے واقعات) یہ جواب سُن کر ان لوگوں نے جناب زیدؒ سے کہا کہ جب شیخینؓ نے آپ کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیاتو ان لوگوں نے بھی نہیں کیا۔ پھر آپ ہمیں کیوں ایسے لوگوں سے لڑنے کی دعوت دیتے ہیں جنہوں نے آپ پر ظلم نہیں کیا ہے۔ جناب زیدؒ نے کہاکہ نہیں یہ بات نہیں ہے ۔ یہ لوگ ان جیسے نہیں ہیں ، یہ ظالم ہیں نہ صرف میرے لئے بلکہ آپ لوگوں کے لئے اور خود اپنے لئے بھی ۔میں آپ کو کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲؐ کی طرف بلاتا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ کہ سنتؐ کا احیاء ہواور بدعات مٹائی جائیں۔ اگر آپ نے میری دعوت کو قبول کیا تو خود آپ کو اس کا فائدہ پہنچے گااور اگر انکار کردیا تو مَیں آپ پر حاکم تو ہوں نہیں۔ یہ سُن کر یہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے آئے اور اپنی بیعت توڑ دی ۔ آگے کے حالات بیان کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جناب امام باقرؓ کا ایک واقعہ بیان کردیا جائے جس سے جناب زیدؒ کی شیخین کے متعلق اپنے خاندان کے اچھے خیالات کی تصدیق ہوتی ہے اور مقصود یہ بھی ہے کہ جو لوگ نادانی میں شیخین کوبرا کہتے ہیں وہ جناب زیدؒ اور جناب امام باقرؓ کے فرمان کے مطابق باز آئیں، احتیاط کریں یا خاموش رہیں تاکہ دوسرے لوگوں کی دل آزاری نہ ہو اور امت کے اتحاد کی کوئی سبیل بنے۔ جناب امام محمد الباقرؓ ۔ آپ جناب زیدؒ کے سگے بھائی تھے اور آپ نے جناب زیدؒ سے آٹھ سال پہلے وفات پائی۔ آپ ان آئمہ امامیہ سے ہیں جنکی امامت پر اثناعشریہ اور اسمعٰیلیہ متفق ہیں ۔ انہوں نے چونکہ علم و فضل میں بہت زیادہ وسعت حاصل کرلی تھی اس لئے یہ باقر کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ ایک مرتبہ ان کی مجلس میں بعض عراقیوں نے خلفائے ثلاثہ کی شان میں کچھ گستاخی کی تو اس پر جناب امام باقر ؓ بہت برہم ہوئے اور تہدید آمیز لہجے میں فرمایا، ’’کیا تم ان مہاجرین میں سے ہوجو اپنے دیس سے نکالے گئے اور جن کا مال چھین لیا گیا؟‘‘ انہوں نے کہا،’’نہیں‘‘ جناب امام باقرؓ نے دوبارہ دریافت فرمایا، ’’پھر کیا تم ان لوگوں میں سے ہو، جنہوں نے مہاجرین اور اہل ایمان کو پناہ دی تھی‘‘ اس کا بھی عراقیوں نے جواب نفی میں دیا۔ پھر جناب امام باقرؓ نے فرمایا، ’’تم ان لوگوں میں سے بھی نہیں ہو جو ان دونوں گروہوں کے بعد آئے اور وہ اﷲتعالیٰ سے اپنے بھائیوں کے حق میں دُعائے مغفرت کرتے ہیں، جنہوں نے ایمان میں ان سے سبقت کی اور گزر گئے۔ جاؤ میرے پاس سے چلے جاؤ۔ اﷲتعالیٰ تم سے دور رکھے۔ تم اسلام کا زبانی اعتراف کرتے ہو مگر اہل اسلام میں سے نہیں ہو‘‘ (حوالہ کتاب امام ابوحنیفہؒ ۔ تصنیف محمد ابوزہرہ مصری۔ ترجمہ سید رئیس احمد جعفری۔ صفحہ نمبر 128۔ پبلشر شیخ غلام علی اینڈ سنز)(جاری ہے)          اہلِ کوفہ کی بڑی تعداد کے الگ ہونے کے بعد حضرت زیدؒ کے لئے مقررہ دن سے پہلے ہی خروج ضروری ہوگیا۔ انہوں نے اپنے باقی طرف داروں جو کہ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے سے مل کربدھ یکم صفر 122 ہجری کی شب خروج کے لئے مقرر کی ۔یوسف بن عمر کو علم ہوا تو اس نے منادی کرادی کہ تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں جمع ہوجائیں جو مسجد سے باہر پایا گیا،مارا جائے گا۔ جناب زیدؒ کے طرف داروں کی بڑی تعداد( جو حسب روایت میدان چھوڑنے کے بہانہ کی تاک میں تھے ) جامع مسجد میں محصور کر لی گئی ۔دوسری جانب صبح کے وقت جناب زیدؒ کے ہمراہ کل دو سو اٹھارہ آدمی تھے جبکہ ان کے ہاتھوں پر جن لوگوں نے بیعت کی تھی انکی تعداد اسی ہزار سے زائد تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر جناب زیدؒ نے پوچھا ،’’خدا کی شان! اور لوگ کہاں ہیں؟ ‘‘ کہا گیا کہ وہ مسجد اعظم میں محصور ہیں ۔ جناب زیدؒ نے کہا کہ جن لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے لئے یہ کوئی معقول عذر نہیں ہے ۔جناب زیدؒ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے تھے ، ’’اے کوفہ والو معلوم ہوتا ہے کہ داؤد بن علی تم سے بہت اچھی طرح واقف تھے ، انہوں نے مجھے پہلے ہی آگاہ کردیا تھاکہ تم لوگ میرا ساتھ چھوڑ دو گے، مگر مَیں نے ان کی بات نہ سنی‘‘ ایک طرف 218 اور دوسری طرف ہزاروں۔ کربلا کی تاریخ ایک بار پھر دہرائی گئی اور حضرت زید شہیدبن علیؓ نے اپنے اجداد کی سیرت و سنت پر عمل کرتے ہوئے امر بالمعروف و نہی المنکر کی بقاکی خاطر ظلم و جور کی استبدادی قوتوں سے مقابلہ کیا اور میدان کارزار میں جام شہادت نوش فرماکر اپنے دادا حضرت امام حسینؓ کی طرح زندہ جاوید بن گئے۔شہادت کے بعد آپ کے ساتھیوں نے آپ کی میت مبارک کو دشمن سے چھپانے کے لئے بڑی مشکل سے نہر کاپانی روک کر اس کے بطن میں قبر کھودی اور ان ہی کپڑوں میں جو وہ پہنے ہوئے تھے ، دفن کرکے اوپر نہر کاپانی جاری کر دیا،لیکن آپ ہی کے ایک ساتھی کی مخبری پرمیت ڈھونڈ لی گئی۔ سر کو الگ کرکے بدن کو سولی پر لٹکا دیا گیااور سر کو ہشام کے پاس بھیج دیا گیا جسے اس لعین کے حکم پر دمشق کے دروازہ پر نصب کرادیاگیا۔ ہشام کی زندگی بھر جناب زیدؒ کی میت سولی پر لٹکی رہی ، ہشام کے مرنے کے بعد اسکے جانشین ولید نے اسے اتروا کر جلا دیا۔ دُنیا مکافات عمل ہے ۔ بنو عباس اقتدار میں آئے تو تمام خلفائے بنو امیہ کی قبریں کھود ڈالی گئیں ۔ ہشام کی لاش صحیح حالت میں پائی گئی ۔ لوگوں نے اسے نکال کر کوڑوں سے پیٹا، لاش کو سولی دی اور بعد میں جلا کر خاک اڑا دی ۔جناب زیدؒ کے بیٹے یحییٰ بھی باپ کے ہمراہ تھے ۔ وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ جان بچا کر خراسان نکل گئے ۔وہاں یہ بھی شہید کئے گئے اور ان کے جسدِ خاکی کو بھی سولی پر لٹکایا گیا،جس کا اثر اہلِ خراسان پر بہت برا پڑا اور اس کا فائدہ اُٹھا کر ابومسلم خراسانی نے بنو امیہ کا تحتہ الٹ کر بنو عباس کی حکومت قائم کردی ۔ یہ حقیقت ہے کہ بنو امیہ کی حکومت گرانے میں جناب زیدؒ اور جناب یحییٰ بن زیدؒ کے خون ناحق کا مرکزی کردار ہے۔ باپ بیٹے کی شہادت کے بعد ایک فرقہ زیدیہ کی بنیاد پڑی ۔ دور جدید میں یہی زیدیہ اپنے ایک لیڈر کی مناسبت سے حوثی کہلاتے ہیں ۔اخبارات میں حوثیوں کو زیدی کہا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں یہ تصیح ضروری ہے کہ ان کو زیدی نہیں،بلکہ زیدیہ کہا جانا چاہئے ۔ زیدی سادات وطن عزیز میں بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ زیدی سادات وہ لوگ ہیں جو حضرت زید شہیدبن علیؓ کی اولاد ہیںیعنی جن کا سلسلہ نسب جناب حضرت زید شہیدبن علیؓ کے تین بیٹوں، یعنی حسین ذوالدمہ، عیسیٰ موتم الاشبال اور ابوجعفرمحمد میں سے کسی بھی بیٹے کے توسل سے حضرت زید شہیدبن علیؓتک پہنچتا ہو،جبکہ زیدیہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کوفہ میں حضرت زید شہیدبن علیؓ کی بیعت کی ۔ ان میں سے کثیر تعداد نے آپ کا ساتھ چھوڑا لیکن آپ کی شہادت کے بعد توابین کی طرح نادم ہوئے ۔ آپ کو حضرت امام زین العابدینؓ کے بعد اپناامام تسلیم کیا۔ اپنے آپ کو حضرت زید شہیدؒ سے نسبت دے کرفرقہ زیدیہ کی بنیاد ڈالی ۔ آپ کا نام استعمال کرکے اور آپ کی شہادت کے طفیل اتنی طاقت حاصل کرلی کہ بعد ازاں یمن میں اپنی حکومت قائم کرلی ۔ زیدیہ یا موجودہ حوثی لوگ مختلف قبائل پر مشتمل ایک مذہبی فرقہ ہے جو کہنے کی حد تک شیعہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ اس فرقہ کے لوگ فقہ حنفیہ پر کاربند ہیں ۔ ان کے ہاں امام کا تصور بھی بالکل جداگانہ ہے جو نہ اثناعشری شیعوں سے مطابقت رکھتا ہے نہ اہلِ سنت جماعت سے ۔ اس مضمون کا راقم کے نزدیک ایک مقصد تو یہ ہے کہ اُمت کو بتایا جائے کہ یمن ایران سعودی تنازعہ کوئی فرقہ پرستی کی جنگ نہیں بلکہ یہ سیاسی بالادستی کا معاملہ ہے جس کو بڑی طاقتیں شیعہ سنی تنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ 1962ء میں جب صدر ناصر نے یمن میں مداخلت کی تھی تواسی سعودی حکومت نے حوشیوں کی کھل کر حمایت اور امداد کی تھی۔ سیاسی حالات کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور بدلتے حالات کے ساتھ کل کے دشمن آج دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بن جاتے ہیں ۔دوسرا مقصد اس مضمون کا اسی بہانے جناب زید بن علیؒ کو یاد کرنا تھا۔حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کی قربانیوں کا سلسلہ ان کے بعد بھی انکی اولاوں نے جاری رکھا۔ جناب امام حسنؓ کے سگے پوتے جناب عبداﷲمحض بھی اسی طرح مظلوم شہید ہوئے ۔ جناب عبداﷲمحض کے بعد ان کے بیٹے جناب محمد نفس ذکیہ بھی شہید ہوئے ۔ جناب نفس ذکیہ کے بعد ان کے بھائی جناب ابراہیم بھی شہید ہوئے ۔ ان سب کی قربانیوں کا مقصد امت کا اتحاد ہی ہے نہ کہ ان کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے جائیں ۔ دُعا کریں کہ شیعہ ہوں یا سنی ان پاک روحوں کی قربانی کے طفیل اور ان پاک روحوں کی خوشی کی خاطر سب بھائی بھائی بن کر رہیں۔ (آمین)

مزید :

کالم -