سیاست دانوں کے اثاثے اور پرویز رشید

سیاست دانوں کے اثاثے اور پرویز رشید
سیاست دانوں کے اثاثے اور پرویز رشید

  

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی کسی سیاست دان کو موقع ملا ہے اس نے اپنے آپ یا اپنے رشتہ داروں کو نہ صرف نوازا ہے،بلکہ پاکستان کے قوانین کو توڑ کر اپنے کاروبار کو بڑھاوا دیا ہے، لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نہ صرف ڈٹ کر اپنی بات کرتے ہیں، بلکہ چودھری نثار کی طرح ایک صاف سیاست دان بھی ہیں بعض اوقات غصے میں بہت کچھ بول دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بقول صحافی رؤف کلاسر ا کہ اس حکومت میں پرویز رشید جیسے وزیر بھی ہیں جنہوں نے نہ صرف سیکریٹ فنڈ کا خاتمہ کیا، بلکہ صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے سے احتراز کیا ہے او ر سہولیات ہونے کے باوجود ان معاملات سے اپنے آپ کو بہت دور رکھتے ہیں ۔پرویز رشید نے جیل کاٹی ہے اور پرویز مشرف دور میں انہیں ایسے حالات کا سامنا کرناپڑا کہ جیل کے اندر انہیں اتنی اذیتیں دی گئیں کہ رہائی کے بعد انہیں ڈاکٹروں نے علاج کے لئے لندن جانے کی ہدایت کی، انہیں جس طرح جسمانی تشدد کا سامنا رہا اِسی طرح جیل کے کھانوں سے اور ادویات بروقت نہ ملنے پر ان کے جسم کو جو نقصان پہنچا تھا اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا اور انہیں برطانیہ سے علاج کرنا پڑا اس کے بعد کئی سال تک سینیٹر رہے اور اب بھی سینیٹر اور وزیر اطلاعات ہیں۔ مخالفین بھی ان پر کرپشن کا الزام نہیں لگاتے ۔

اس امر کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جن سینیٹرز کے گوشوارے شائع کئے گئے ہیں اس میں پرویز رشید کے اثاثوں کی تمام تفصیلات بھی درج ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاست دانوں کے گوشوارے شائع کئے،جس میں سیاست دانوں نے اربوں روپے کے اثاثے ڈکلیئر کر دیئے ہیں۔ان میں ایسے سیاست دان بھی شامل ہیں، جن کے اثاثے گزشتہ حکومت کے بعد ڈبل ہو گئے ہیں۔انہوں نے سیاست کو منافع بخش کاروبار بنا یا ہوا ہے اور مُلک میں سیاست بدنام کر دی ہے ۔اصل میں سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے، جن سیاست دانوں نے سیاست کو کاروبار کے لئے استعمال کیا اور اربوں کمائے اور قومی اداروں کو تباہ کیا ان سیاست دانوں کو عوام نے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے جن سیاست دانوں کے اثاثے شائع کئے ہیں ان میں ایک نام وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا آرہا ہے، جن کے اثاثوں کی مالیت 13لاکھ روپے ہے ۔موجودہ حکومت میں اہم عہدے پر تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈھائی سال وزارت کے دوران بھی ان کے اثاثے نہیں بڑھے۔ آج کے دور میں 13لاکھ روپے سے زائد اثاثے ایک یونین کونسل کے ناظم کے بھی ہوتے ہیں۔ مُلک میں ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو سیاست کو کاروبار نہ بنائیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید وزارت اطلاعات میں میرٹ کی پالیسی پر قائم ہیں ۔

پاکستان براڈ کاسٹنگ میں تین سو سے زائد بھرتیاں میرٹ اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی ہیں۔اِسی طرح بیرون ممالک کے سفارتخانوں میں پریس اتاشی کی سیاسی بنیادوں پرتعیناتی کی جاتی تھی،لیکن مُلک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے مختلف اخبارات میں اشتہار شائع کئے اور پریس اتاشیوں کیلئے ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا ۔وفاقی وزیر اطلاعات 1978ء میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر رہے ہیں اور گزشتہ محمد نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان ٹیلی ویژن کے چیئرمین تھے اور پنجاب حکومت کے مشیر اطلاعات بھی رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن ،ریڈیو پاکستان ،اخبارات کے اربوں کے اشتہارات ہونے کے باوجود پرویز رشید کے خلاف ان کے مخالفین ہر قسم کے الزامات لگاتے ہیں انہیں وزیراعظم کے حوالے سے بھی کئی سخت سوالات کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ان کے مخالفین ان پر کرپشن کا الزام نہیں لگاتے یہی وجہ ہے کہ وہ محمد نواز شریف اور ان کی حکومت کا نہ صرف ہر میدان میں دفاع کرتے ہیں، بلکہ حکومتی معاملات میں وزیراعظم کو مشورہ دینے والوں میں بھی پرویز رشید کے مشوروں کو اہمیت حاصل ہے ۔پرویز رشید صحافتی حلقوں میں معروف ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں میں بھی معروف ہیں اور وہ تقریبات جن کا وزارت اطلاعات سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا ہے وزیر اطلاعات اس میں شرکت کرتے ہیں ۔وزیر اطلاعات کا اقلیتوں کے پروگرام میں شرکت بھی ان کا ایک منفرد اعزاز ہے یہی وجہ ہے کہ پرویز رشید کو ملک کی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل ہے ۔پرویز رشید نے اپنی سیاسی جدوجہد ایک طالب علم کی حیثیت سے شروع کی اور اپنے اصولی موقف پر آج تک قائم ہیں کہ سیاست کرپشن کے لئے نہیں، بلکہ خدمت کے لئے کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرویز رشید مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں میں ایک حیثیت رکھتے ہیں جب پرویز مشرف کے دور میں سارے لوگ مسلم لیگ (ن)کو چھوڑ کر (ق)میں شامل ہو گئے پرویز رشید بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے جیل جانا قبول کیا، لیکن مسلم لیگ (ق) میں شامل نہ ہو ئے ۔

مزید :

کالم -