لیبر پین اور مزدور

لیبر پین اور مزدور
لیبر پین اور مزدور

  

ایک مزدور اور اس کی بیوی پریشان بیٹھے تھے ۔ بیوی نے پوچھا’’ تم کیوں پریشان ہو ؟ ‘‘

مزدور بولا : "میں جن صاحب کی کوٹھی پر مزدوری کر رہا ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے۔ جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے ، وہ کوٹھی پر آ کر ایک ایک انچ کا جائزہ لیتے ہیں ، کوئی نقص نکل آئے تو ٹھیکیدار ہم مزدوروں کے پیسے کاٹ لیتا ہے ۔ بس یہی پریشانی ہے ۔ ۔ ۔ اور تم بتا ؤتم کیوں پریشان ہو ؟‘‘

بیوی بولی : "جن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں کام کرتی ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے ۔ جس دن ان کی چھٹی ہو اس دن سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتی ہیں ۔ کہتی ہیں کہ ایک ایک tile میں تمہاری شکل نظر آنی چاہیے ۔ پتہ نہیں کل کس بات کی چھٹی ہے ‘‘

ان کا چھوٹا بیٹا بولا :" میں بتاتا ہوں ، کل یومِ مزدور ہے ۔ اس لئے سب بڑے صاحب چھٹی کریں گے۔‘‘

مزدور اور اس کی بیوی نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا :"تمہیں کیسے پتہ ؟"

بیٹا بولا : "آج استاد کہہ رہا تھا کہ صبح 7 بجے سروس سٹیشن پہنچ جانا ۔ 7 بجے سے دیر ہوئی تو پسلیاں توڑ دوں گا ۔ کل یومِ مزدور ہے اور صاحب لوگوں کی چھٹی ہے ، گاڑیوں کا زیادہ رش ہو گا ۔ ۔ ۔ "

یوم مئی کا دن مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ دن شکاگو میں مارے جانے والے مزدروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس پورے واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ مزدور تحریک بنیادی طور پر 1860 سے شروع ہو چکی تھی جو مختلف جوروستم کے مراحل طے کرتے ہوئے 1886 کو اسٹارک ہارویسٹر کے 80 ہزار مزدوروں نے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ فیکٹریوں میں دوران کام مزدور محنت طلب کام کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تھے اور مزدوروں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ ان مطالبات کے سلسلے میں دوسرے روز یکم مئی 1886 کو بھی شکاگو کے سارے کارخانوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ 3 مئی کو ہڑتالی مزدوروں نے بہت بڑا جلسہ کیا جس میں سرمایہ دار نے اپنا رنگ دکھایا، اس جلسے میں پولیس نے بلاوجہ فائرگ کی جس میں 5 مزدور ہلاک ہو گئے۔

آج پاکستان میں کچھ صاحب لوگوں کو لیبر پین labour painسٹارٹ ہو گا اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار رکھے جائیں گے تقاریر کی جائیں گی ۔ایسی ایسی تقاریر جن کو سن کے اکثر لوگ آبدیدہ ہو جائیں گے ۔پھر فوٹو سیشن ہو گا ۔موم بتیاں جلائی جائیں گی لیکن مزدور کو کبھی نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ آج بھی مزدوری کے لیے کسی چوک میں بیٹھا ہو گی۔اسکو مزدوری نہیں ملی ہو گی ۔لیکن یہ لیبر پین والیے ہزاروں روپی خرچ کر دیں گے مزدور کا دن منانے پر پھر بھی مزدور بھوکا ہی سو جائے گا ۔آج پاکستان میں 8 گھنٹے پر تو عمل ہو رہا ہے لیکن ساری زندگی محنت کرنے والے مزدور کا چولہا ہمیشہ ہی ٹھنڈا رہا۔و جہ مزدوری کم ہونا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے آپ نے پنجاب کے ایک سیکورٹی گارڈ کا واقعہ سنا ہو گا جس نے اپنی جان دیکر ڈکیتی بچائی اور سیکورٹی کمپنی نے 50 ہزار کا وعدہ اسی وقت کیا اور چند گھنٹوں بعد 10 ہزار پر ٹرکھانے کی کوشش کی گھر والوں نے لینے سے انکار کیا -

کیا ان 13ہزار میں 12 گھنٹے کام کرانے والوں کو سرکار نے کبھی ان کی انشورنس کے لیے کمپنیوں کو پابند کیا ۔نہیں۔ یہ سب کرنے کے لیے اسلامی انقلابی حکومت اور غیرتمند حکمرانوں کی اشد ضرورت ہے ۔انشااللہ وہ وقت بھی آئے گا ۔بس قوم جاگنے میں دیر کر رہی ہے۔ کاش قوم کو ملک دشمن عوام دشمن اور اسلام دشمن سیاستدانوں کی سمجھ آئے تو اس دن ھر غریب کو انصاف اس کی دھلیز پر ملے گا انشااللہ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -