سچ تو یہ بھی ہے

سچ تو یہ بھی ہے
سچ تو یہ بھی ہے

  

پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے آج تک اس ملک کے ساتھ کہاں کہاں اور کب کب کھلواڑ ہوتا رہا اور کس کس نے اپنی ذاتی انا کے لئے اس ملک سے کھیل کھیلے اس کا اظہار تاریخ کی جملہ کتب کے صفحات پر نقش ہے جنہیں پڑھکر بندہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ ملک بیگانا ہے یا اس پر پنجہ استبداد غیروں کا رہا ہے۔ پاکستان میں زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شہاب نامہ کا بہت چرچہ ہے اس کتاب میں پاکستان کے ابتدائی دور کے احوال جان کر پھر آگے چل کر پاکستان کا ٹوٹنا سمجھ میں آجاتا ہے شہاب نامہ میں ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ ایک وقت پر کراچی کی سڑکوں پر لوگ پاکستانی پرچم لئے کھڑے پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد کو علاج کی خاطر بیرون ملک جانے کے لئے الوداع کر رہے تھے گورنر جنرل کی لیموزین گاڑی ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں تھی، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت غلام محمد صاحب گاڑی میں نہیں، بلکہ گرفتار ہو چکے تھے۔ شہاب نامہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مداخلت اسی زمانے میں کہاں تک پہنچ چکی تھی۔

اس ملک کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے سمجھنا انتہائی مشکل ہے

بقول محسن نقوی

’’ بجْھی ھْوئی آنکھوں کی ، تیرگی کی قسم

تجھے پڑھْوں تو ، ستارہ شناس ھو جاؤں

خوشی ملی تو ، کئی درد مجھ سے رْوٹھ گئے

دْعا کرو کہ میں پھر سے ، اْداس ہو جاؤں‘‘

آج کل ہمارے چودھری شجاعت حسین کی کتاب " سچ تو یہ ہے" کے چرچے ہر سو پھیلے ہوئے ہیں پاکستان کے نامور لکھاری چودھری صاحب کی خود نوشت پر طبع آزمائی کر رہے ہیں(اب اس خاک نشین کے لئے یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ کمال چودھری شجاعت صاحب میں ہے یا ان کی خود نوشت میں) بہر کیف سچ تو یہی ہے کہ اس کتاب کا ذکر پڑھنے والوں کی حد تک زبان زد عام ہے۔

لہٰذا یہ طالب علم بھی کیسے پیچھے رہتا میں بھی چودھری صاحب کی کتاب انہی کے شہر گجرات سے خرید تو لایا ،تاہم ابھی مکمل نہیں کر سکا۔ مگر جتنی پڑھی ہے اس پر تبصرہ ضروری جانا۔

اس کتاب میں چودھری صاحب کے خاندان کے کارناموں کا ذکر تو 1958 سے ان کے کاروبار کا ذکر اس سے بھی پہلے سے ہے ،تاہم پاکستان کی تاریخ یا سیاست کے بیشتر واقعات کا تعلق ضیاء الحق کے دور سے شروع ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں موجودہ پاکستان کی تاریخ کی جھلکیاں ملتی ہیں۔

میں نے ابھی تک جتنی کتاب پڑھی ہے اس سے جو کچھ میں سمجھا ہوں وہ یہی ہے کہ اس ملک کو ہر کسی نے اپنی خالہ جی کا ویہڑہ (صحن) ہی سمجھ رکھا ہے دوسری بات یہ کہ اس ملک پر جمہوریت کا صرف میک اپ کیا جاتا ہے بیشتر فیصلے آمرانہ ہی ہوتے ہیں اداروں کی کوئی حیثیت نہیں شخصیات اہم ہوتی ہیں۔ دوہرا معیار اور منافقت ویسے تو ہر دور کی کہانی میں موجود ہے لیکن اس کی معراج ضیاء الحق کا دور ہے۔

چودھری شجاعت صاحب کی کتاب میں جہاں چودھری صاحب کی شجاعت کے واقعات ہیں وہیں ان کی سادگی اور وضع داری کی عکاسی بھی ہوتی ہے چودھری شجاعت صاحب معاملہ فہمی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ عہد اور ساتھ نبھانے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، تاہم پاکستان کے قومی فیصلوں سے لیکر خانہ کعبہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر کی زیارت تک ان کی سوچ گاؤں کے چودھری کی سوچ سے آگے نہیں گئی۔ ہر کسی کی سفارش کرنے کو ہی اللہ کی خوشنودی سمجھتے ہیں۔ " کر بھلا ہو بھلا"

ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ پرویز مشرف صاحب کے ساتھ جب عمرے کی سعادت حاصل کر رہے تھے تو ان کے وفد کے لئے خصوصی طور پر خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا گیا اور انہوں نے خانہ خدا کے اندر نوافل ادا کیے ان پر رقت آمیز کیفیت طاری ہو گئی پرویز مشرف صاحب نے ان کو سہارہ دیا اور کرنل عاصم کو کہا کہ چودھری صاحب کو خود باہر لے جاو جب وہ باہر نکلے تو دیکھا کچھ خواتین کھڑی تھیں انہوں نے مجھے بتایا کہ جس جہاز میں آپکا وفد آیا تھا ہم اس جہاز کی ائیر ہوسٹس ہیں ہمیں اندر جانے کی اجازت لے دیں تو میں نے سیکیورٹی والوں سے کہا کہ یہ خواتین ہمارے وفد میں شامل ہیں انہیں اندر جانے دیا جائے۔ تو انہوں نے ان خواتین کو اندر جانے دیا۔

ہمارے ملک میں کرپشن کی مختلف اور متفرق شکلیں ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ اپنے اقتدار میں کئی لوگوں کے کام کروا کر انہیں اپنا ممنون کر لیتے ہیں اور ان سے ذاتی مراسم قائم کر کے کبھی بھی ان کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں چودھری صاحب نے کئی شخصیات سے اپنے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کیا ہے جو یا تو کھانا کھلانے کی وجہ سے تھے یا پھر اپنے اقتدار کے وقت ان لوگوں کی کسی موقع پر مدد کی وجہ تھی۔

کتاب کے باب نمبر دس میں جنرل آصف نواز کے ساتھ اپنے اچھے مراسم کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آصف نواز جنجوعہ ایک پیشہ ور فوجی اور نڈر انسان تھے میرے اور چودھری پرویز الٰہی سے ان کے بہت اچھے مراسم تھے۔ چودھری پرویز الٰہی نے بطور وزیر بلدیات پنجاب ان کے گاؤں چکری میں بہت کام کروایا تھا۔

جب بھٹو صاحب کو مری ریسٹ ہاوس سے رہا کیا گیا تو پنجاب حکومت کی طرف سے ڈی سی راولپنڈی اور دوسرے انتظامیہ کے افسران کو ہدایت جاری کی گئی کہ بھٹو صاحب کی دوسرے نقل و حرکت کنٹرول میں رکھنی ہے کہیں بھی وہ لوگوں کو جمع کر سکیں نہ خطاب کریں۔ اس وقت کے راولپنڈی کے ڈی سی صاحب نے لکھا تھا کہ جب بھٹو صاحب کا قافلہ ہماری نگرانی میں راولپنڈی جی ایچ کیو کے سامنے پہنچا تو بھٹو صاحب نے اپنی گاڑی رکوا لی جب دریافت کیا گیا تو انہوں نے جنرل ضیاء سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو ہم نے جنرل تک پیغام بھیجا تو انہوں نے بھٹو صاحب کو اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھانے کا کہا اور تھوڑی دیر میں خود بھی آگئے اور دونوں میں ملاقات شروع ہوئی تھوڑی دیر بعد ڈی سی صاحب کو اندر بلوا کر ضیاء الحق نے ڈانٹ کر کہا کہ آپ جانتے ہیں یہ کون ہیں تو ڈی سی صاحب نے کہا جی یہ ہمارے وزیراعظم تھے ضیاء نے کہا تھے نہیں ہوں گے بھی یعنی اگلے وزیراعظم بھی بھٹو صاحب ہی ہوں گے اور ساتھ اپنے بیجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کے بعد بھٹو صاحب ہی ہیں جنہوں نے مجھے ان بیجز کا اعزاز بخشا۔ آپ ان کی نقل و حرکت پر قدغن نہیں لگا سکتے یہ جہاں چاہیں جائیں اور جو چاہیں کریں اس کے بعد مجھے باہر بھیج دیا گیا۔ بعد میں ضیاء الحق بھٹو صاحب کے ساتھ باہر آئے اور بھٹو صاحب کی گاڑی کا دروازہ خود کھول کر بھٹو صاحب کو بٹھایا اور الوداع کیا۔ اس کے بعد راہ داری میں کھڑے ڈی سی صاحب نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت نے تو ہمیں سختی سے حکم جاری کر رکھا ہے کہ بھٹو صاحب پر کنٹرول رکھنا ہے تو ضیاء نے کہا میری باتوں کو بھول جاؤ جو پنجاب حکومت کا حکم ہے اس کے مطابق کام کرو۔

باب نمبر آٹھ میں محمد خان جونیجو کی بطور وزیر اعظم نامزدگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔

بائیس مارچ سے ایک دن پہلے، جب وزیراعظم کے نام کا اعلان کیا جانا تھا، ضیاء الحق نے ڈاکٹر بشارت الٰہی، پرویز الٰہی اور مجھے بلوایا اور کہا کہ آپ لوگ ابھی جاکر الٰہی بخش سومرو صاحب کو بتا دیں کہ کل انہی کو وزیراعظم نامزد کیا جا رہا ہے ہم تینوں ایوان صدر سے نکل کر سیدھے سندھ ہاوس پہنچے۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ الٰہی بخش صوفے پر نیم دراز تھے جب ہم نے ان کو یہ خوشخبری سنائی تو وہ انتہائی مسرور ہوئے اور اس خوشی میں ہمیں مٹھائی کھلائی۔

اگلے روز صبح ہم ایوان صدر پہنچے۔ ہمارے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا کہ وزرات عظمی کا ہما کس کے سر پر بیٹھ رہا ہے۔ الٰہی بخش سومرو مطمئن نظر آرہے تھے لیکن جیسے ہی ضیاء الحق نے خطاب کے دوران اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے کہا کہ میں موجودہ حالات میں محمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کرتا ہوں۔ تو وہاں موجود سب لوگ ششدر رہ گئے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ اس وقت تقریب میں موجود لوگوں میں سے شاید ہی کسی کو علم ہوگا کہ محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے۔

کتاب میں چودھری شجاعت صاحب نے میاں نواز شریف سے پہلی ملاقات کا احوال بتایا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کس طرح لوگ سیاسی میدان میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔

آگے واقعہ چودھری شجاعت صاحب کے قلم سے۔

میاں نواز شریف سے ہماری پہلی ملاقات 1977ء میں اس وقت ہوئی جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نوے روز میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔ میرے والد لاہور میں بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے۔

ایک روز انتخابی مہم کی تیاری کے سلسلہ میں اپنے گھر کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک ملازم نے آکر بتایا کہ باہر کوئی نوجوان آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس نے چودھری ظہور الہی صاحب سے ملنا ہے۔

والد صاحب چونکہ میٹنگ میں مصروف تھے، انہوں نے پرویز الٰہی سے کہا کہ وہ اس نوجوان سے جاکر مل لیں۔

پرویز الٰہی باہر آئے تو ایک گورا چٹا کشمیری نوجوان برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس نے پرویز الٰہی کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کے والد میاں محمد شریف نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ وہ چودھری ظہور الٰہی کی الیکشن مہم میں فنڈز دینا چاہتے ہیں۔ پرویز الٰہی نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ الیکشن مہم کے لئے ہم کسی سے فنڈ نہیں لیتے۔ اور یوں یہ سرسری ملاقات ختم ہو گئی۔

مزید : رائے /کالم