دھرنوں،کنٹینروں، رکاوٹوں سے راستے روکنا عوام کے لئے اذیت و عذاب

دھرنوں،کنٹینروں، رکاوٹوں سے راستے روکنا عوام کے لئے اذیت و عذاب
 دھرنوں،کنٹینروں، رکاوٹوں سے راستے روکنا عوام کے لئے اذیت و عذاب

  


حالیہ چند برسوں میں ملک میں پریشر گروپوں کی تشکیل سے حکومتی اداروں پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کی روش میں اضافہ ہو گیا ہے۔بعض گروہ جب چاہتے ہیں، وہ سڑکوں، چوراہوں اور راستوں میں بیٹھ کر یا رکاوٹیں کھڑی کر کے آمدورفت کا معمول متاثر یا بند کر دیتے ہیں،اس طرح عوام گویا اپنی ضروریات کے حضول کے لئے سخت تگ و دو اور پریشان حالی کی اذیت سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

ایسے حالات میں ذرائع آمدورفت اور سامانِ تجارت کی منتقلی عملی طور پر تقریباً مفلوج اور ناممکن سی ہو جاتی ہے۔جب کوئی شخص اپنے گھر سے دفتر، دکان، فیکٹری، سکول، کالج، ہسپتال اور مارکیٹ جانے سے بھی معذور ہو جائے تو پھر وہ محض اپنے مکان یا دیگر کسی مقام پر محدود ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس طرح کوئی ادارہ، سرکاری، پرائیویٹ یا صنعتی اپنی روزمرہ کی کارکردگی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دھرنوں پر بیٹھنے اور سڑکوں و راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی روش بتدریج بڑھنے کی اطلاعات دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہیں۔ لوگوں کی مشکلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری اس نئی سیاسی چال بازی سے نبرد آما ہونے کے لئے تاحال ناکام چلی آ رہی ہے۔

راولپنڈی میں فیض آباد، ماضی قریب میں اسلام آباد اور لاہور میں داتا دربار کے سامنے سڑک پر ڈیرہ ڈال کر سینکڑوں یا چند ہزار افراد کا مسلسل بیٹھنا اس نوعیت کی تازہ مثالیں ہیں، جبکہ وہ اپنے مطالبات یا مسائل متعلقہ حکومت یا حکام کو مروجہ عام انداز سے بھی پیش کر سکتے ہیں، لیکن ان کی منظوری، آئین اور قانون کے تحت ہونے سے ہو سکتی ہے،لیکن دھرنوں کے تسلسل اور عوام کی آمدورفت کی مشکلات کی بنا پر دھرنا کار جماعت یا گروہ اپنے بعض ایسے مطالبات اور مفادات بھی حاصل کر لیتے ہیں، جو قانون و انصاف کے اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی، بلکہ کھلی پامالی پر مبنی ہوتے ہیں۔

قابلِ غور امر یہ ہے کہ یہ دھرنے، عام لوگوں کے استعمال کی خاطر تعمیر کی گئی سڑکوں اور راستوں پر مسلسل کئی دن جاری رکھے گئے۔اس عرصے کے دوران وہاں سے اکثر گزرنے والے حضرات اور خواتین کو جو اذیت اور عذاب برداشت کرنا پڑا، اس کو شاید الفاظ میں بیان کرنا اور اصل حالات اور حقائق کی عکاسی کرنا، کسی ادیب، دانشور اور شاعر کے لئے بھی آسان نہ ہو۔

نیز تاجر حضرات کے ضخیم اور وزنی سامان کی نقل و حمل بھی بلاشبہ، ان راستوں کے ذریعے وقوع پذیر نہ ہو سکی۔ہم لوگ ماشاء اللہ آفاقی اور دائمی دینِ حق، اسلام کے نام لیوا ہیں، تو پھر سب اہلِ وطن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں۔

کسی شخص، طبقے اور حلقے کو بلا جواز کسی تعصب، تنگ نظری اور ذاتی مفاد کو ترجیح دے کر تکلیف اور پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے۔اگر دھرنے پر بیٹھنے والے حضرات کسی دینی جماعت اور اتحاد کے حامی اور پیروکار ہیں تو پھر ان کی ذمہ داری تو عام گنہگار اور دنیا دار لوگوں سے بھی کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بیرونی ممالک میں بیشتر امور میں لوگوں کی زندگی آسان بنانے کے لئے سخت محنت، مہارت، دیانت اور ذہانت پر زور دیا جا رہا ہے،لیکن ستم یہ ہے کہ تاحال ہم اپنے باہمی فروعی اختلافات کو قائم رکھنے کے ساتھ اَنا اور ناک اونچی رکھنے کی دیرینہ اور جاہلانہ روایات پر عمل کرنے کی ڈگر پر چلنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر بعض لوگ اپنے مقاصد اور مفادات کا حصول چاہتے ہیں تو وہ متعلقہ اداروں اور حکام سے آئین و قانون کے مطابق رجوع کر کے کوشش کریں،لیکن کھلی سڑکوں اور راستوں پر بیٹھ کر راستے بند کرنے سے تو عوام و خواص کو مشکلات میں ڈالا جاتا ہے۔ان کا بھلا کیا قصور اور جرم ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...