عمران خان کا جلسہ اور گیارہ نکاتی ایجنڈا

عمران خان کا جلسہ اور گیارہ نکاتی ایجنڈا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں اپنی پارٹی کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی بہتری کے لئے وہ کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، گیارہ نکاتی ایجنڈے میں ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم، صحت کے شعبے میں بہتری، ٹیکس سسٹم میں اصلاحات، نیب پر اعتراضات کا خاتمہ، سرمایہ کاری کے لئے ترغیبات، بے روزگاری ختم کرنے کے لئے اقدامات، سیاحت کا فروغ، زرعی ایمرجنسی کا نفاذ، مضبوط وفاق، جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ، فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام، ماحولیاتی نظام میں بہتری، پولیس اور عدلیہ کے لئے اصلاحات کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ ایجنڈا اس وقت پیش کیا گیا ہے، جب ملک میں اگلے عام انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں، اور سیاسی جماعتیں رابطہ عوام مہم شروع کرکے اپنے سیاسی مورچوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں، ان مراحل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوششیں تیز کردی جاتی ہیں، عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک مربوط کوشش کی ہے، ایک طرف انہوں نے لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو متحرک اور حریفوں کو متاثر کرنا چاہا اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی معاملات پر الیکشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے اپنا ایجنڈا متعارف بھی کروایا ہے۔

گیارہ نکاتی ایجنڈے کے ذریعے عمران خان نے جس عزم کا اظہار کیا ہے، اس کے ذریعے انہوں نے بعض بڑے بڑے وعدے کئے ہیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خیبر پختونخوا کو سبقت حاصل ہونے کے بارے میں وہ اکثر دعویٰ کرتے رہتے ہیں، انہوں نے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم لانے اور صحت کی بہترین سہولتیں مہیا کرنے کی بات کرتے ہوئے پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات لانے کا وعدہ بھی کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت آئیگا جب لوگ پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگایا کریں گے، ان کا یہ عزم اپنی جگہ، لیکن پچھلے پانچ سال میں وہ ان شعبوں میں مثالی بہتری کیوں نہیں لا سکے، کیونکہ پولیس تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن سے عمران خان کے دعوے سیاسی نعرے بازی لگتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے بھی ان شعبوں میں مثالی ترقی اور ماحول کے بارے میں سوالات کئے تھے۔ ایجنڈے میں ماحولیات کو بہتر بنانے اور پورے ملک میں دس ارب درخت لگانے کا پروگرام پیش کیا ہے، آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ دس ارب درخت لگائے جاسکیں گے یا نہیں، لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عمران خان نے صوبے میں دو ارب درخت لگانے کا دعویٰ کیا تھا اور مخالف حلقے یہ سوال کرتے ہیں کہ دو ارب درخت کہاں لگائے گئے ہیں، جہاں شجر کاری کی گئی وہ بمشکل دو کروڑ پودے بھی نہیں تھے۔

ایسے سوالات دیگر شعبوں سے متعلق بھی گردش کرتے رہے ہیں، پچاس لاکھ سستے گھر تعمیر کرکے دینے اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں اصلاحات لانے کے ایجنڈے پر ان کے مخالفین سب سے پہلا سوال یہی کریں گے کہ صوبے میں پچھلے پانچ برسوں میں یہ کام کتنا ہوا ہے، ایک سال میں مقدمات کے فیصلے کرنے کا وعدہ خوش کن ہے مگر پچھلے پانچ سال میں اس کے لئے کوئی تیاری کی گئی؟ اسی طرح ٹیکس اکٹھا کرنے کے پروگرام میں آٹھ ہزار ارب کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس پر بھی یہ پوچھا جائیگا کہ صوبائی سطح پر ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے کیا کوششیں کرچکے ہیں۔ شوگر ملز مافیا کی لوٹ مار روکنے کا وعدہ کیا گیا ہے، پنجاب اور سندھ میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، چنانچہ اعلیٰ عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑی، عمران نے اب تک اس معاملے کو بہتر بنانے کے لئے کیا کوششیں کی ہیں؟

جہاں تک جنوبی پنجاب میں صوبہ بنانے کی بات ہے اس سے پہلے ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاول پور ڈویژنوں میں صوبہ بہاول پور اور سرائیکی صوبے کے لئے آواز بلند کی جاتی رہی ہے، بہاولپور صوبے کا مطالبہ تو 1970ء میں کیا گیا، تحریک بھی چلی لیکن یہ مطالبہ بعد میں سیاسی نعرے کے طور پر استعمال ہوا، اب جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگایا گیا ہے، عام خیال یہ ہے کہ جنرل الیکشن کے بعد یہ نعرہ بھی سیاست اور سیاسی مفاد کی نذر ہوسکتا ہے، عمران خان اور ان کی پارٹی اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرے گی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، صوبہ بناؤ کے حوالے سے ہزارہ صوبہ، ہند کو صوبہ، کراچی صوبہ اور ایسے ہی دیگر مطالبات بھی ہوتے رہے ہیں، صوبہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو کئی مقامات سے آوازیں اٹھیں گی اور سیاسی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے بروقت اور صحیح فیصلہ بہت مشکل ہوگا، جہاں تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی بات ہے تو یہ بھی ایک متنازعہ معاملہ ہے، اس کے لئے اصلاحات لا کر انتظامی تقاضوں کو پہلے پورا کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی اس معاملے پر پیش رفت مفید ہوگی۔ سیاحت کے فروغ پر توجہ دینے کی بات بہت اچھی ہے لیکن خیبر پختونخوا، سیاحت کے حوالے سے مالامال صوبہ ہے۔ سوال پھر وہی سامنے آئیگا، اب تک عمران خان یا ان کی جماعت نے اس صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کیا اقدامات کئے اور اگر کوششیں کی گئیں تو کامیابی کیوں نہیں ہوئی؟ اب تو دہشت گردی پر بھی کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔

سرمایہ کاری کی فضا قائم کرنے کے لئے حکومتوں کو بڑے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، دہشت گردی اور سیاسی بحرانوں کی وجہ سے پچھلے چار سال کے دوران سرمایہ کاری برائے نام ہوسکی، سی پیک کے حوالے سے چین نے 56 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرکے فضا کو بہتر بنانے کا آغاز کیا مگر نواز شریف کی نا اہلی سے جب سیاسی بحران شروع ہوا تو ایک اطلاع کے مطابق 19 ملکوں کے سرمایہ کار اپنا کئی ارب ڈالر سرمایہ نکال کر واپس لے جا چکے ہیں، اب چین نے اپنے مرکزی بینک کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کروایا ہے جس کے تحت ایک ارب ڈالر مہیا کئے جائیں گے اور پاکستان کے زر مبادلہ میں جو کمی ہوئی تھی اسے پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ عمران خان نے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو لانے کی بات کی ہے، یہ بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا، اس چیلنج کو قبول کیا گیا تو پھر اس کے لئے ایک سے زیادہ ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہوگی، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے سوا باصلاحیت اور بااعتماد تیسرا یا چوتھا قریبی ساتھی عمران خان کے پاس نہیں، بلاشبہ انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ایسا ہی ایک مشکل مرحلہ اور چیلنج عالمی معیار کا بلدیاتی نظام لانے کے حوالے سے درپیش ہوگا، ہمیں چھ عشروں سے روائتی بلدیاتی سسٹم سے واسطہ رہا ہے، اس میں بہت سی خامیاں ہیں، فوجی ادوار میں ہر حاکم وقت نے اپنی سہولت کے مطابق کچھ تبدیلیاں ضرور کیں، لیکن انہیں اصلاحات نہیں کہا جاسکتا، اب عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہ کام کریں گے تو محض اونچی چھلانگ اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ والی بات نہ ہو۔

بنیادی بات تو یہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں کیا عمران خان کو کامیابی حاصل ہوسکے گی۔ اب تک محض سیاسی نعرے کے طور پر انہیں وزیراعظم عمران خان کہا جارہا ہے، ان کی جماعت کا یہ خیال ہے کہ اگلے الیکشن میں کامیابی کے بعد عمران خان وزیراعظم بنیں گے۔ ’’ہزاروں لغزشیں ہیں لبوں تک جام آنے میں‘‘ ابھی کئی مراحل باقی ہیں، جن کے بعد صورت حال واضح ہوگی، جہاں تک نئے الیکشن کی بات ہے، اس پر بھی بعض حلقے مایوسی کی باتیں کرکے متنازعہ موقف پیش کرتے چلے آرہے ہیں، یعنی یہ حلقے برملا کہتے ہیں کہ انہیں نئے الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنانے کے مشورے دئے جاتے ہیں، نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ شاید وقت پر الیکشن نہ ہوسکیں، جب الیکشن بخیر و خوبی ہوں گے تو اس کے بعد ہی عمران خان کے اقتدار میں آنے کا معاملہ واضح ہوگا، لہٰذا فی الحال عمران خان کے گیارہ نکاتی ایجنڈے کو محض سیاسی نعرہ بازی کہا جاسکتا ہے، اگر انہیں اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو پھر ان کی آزمائش کا مرحلہ شروع ہوگا، اور وقت بتائے گا کہ وہ اس ایجنڈے پر کس حد تک عملدرآمد میں کامیاب ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...