مینار پاکستان کا نوحہ

مینار پاکستان کا نوحہ
مینار پاکستان کا نوحہ

  


مینار پاکستان میری پسندیدہ جگہ ہے۔ یہاں آ کے مجھے روحانی خوشی ہوتی ہے۔ میں کبھی کبھی اپنی فیملی کے ساتھ بھی یہاں آتا ہوں۔مجھے مینار پاکستان کے سائے میں بیٹھ کے بہت لطف آتا ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں تحریک پاکستان کے نامور اور گمنام شہیدوں اور غازیوں کے سائے میں ہوں اور ان سے گفتگو کر رہا ہوں۔ میں یہ سوچ کے بہت لذت محسوس کرتا ہوں کہ یہاں بابائے قوم بڑی شخصیات بھی قدم رکھ چکی ہیں۔

یہاں بیٹھ کے انہوں نے ایک علیحدہ ملک پاکستان کے خواب دیکھے اور پھر اس خواب کی تعبیر کے لئے جدوجہد کی۔ دنیا بھر میں ایسے مقامات کو بہت احترام دیا جاتا ہے اور لوگ اپنے سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لئے نہیں بلکہ روحانی تربیت کے لئے جاتے ہیں، وہ اپنی آنکھوں میں آنسو بھی بھرتے ہیں اور اپنے جسم میں ایک نئی طاقت اور امنگ بھی دیکھتے ہیں، وہ اپنے بزرگوں کے حوصلے اور جدوجہد کو اپنی آئندہ کی سوچ میں شامل کرتے ہیں۔ ہمیں بھی ایسی سوچ کے ساتھ مینار پاکستان کے سائے میں جانا چاہیے اور اس مقام کے احترام کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، مگر بدقسمتی سے اب مینار پاکستان ایک ’’اکھاڑے‘‘ میں بدل گیا ہے۔ بہت سے سیاستدان اس جگہ کو ایک ’’اکھاڑہ‘‘ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

ہمارے عمران خان نے تو اب اسے ’’کھیل کود‘‘ کا میدان بھی بنا دیا ہے۔ گزشتہ رات بھی انہوں نے اسے ’اکھاڑہ‘ بنائے رکھا۔ بظاہر وہ یہاں اپنا پیغام سنانے آتے ہیں،مگر درحقیقت وہ اس جگہ کو اپنی سیاسی قوت کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔نجانے کس ’’ذہین دماغ‘‘ نے انہیں یہ سمجھایا ہے کہ اگر وہ ’’مینار پاکستان‘‘ کے گراؤنڈ کو انسانوں سے بھر دیں۔

تو وزیراعظم بن سکتے ہیں، سو وہ اپنی اسی خواہش کے ساتھ مینار پاکستان پر سیاسی لشکر کشی کرتے ہیں اور اس کے میدان کو بھرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسرے سیاستدانوں کو بھی چیلنج کرتے ہیں کہ اگر ان میں جرأت ہے تو وہ اس میدان کو بھر کے دکھائیں۔ گویا وہ اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اس مقام کو ’’اکھاڑہ‘‘ بنائیں۔

لاہور جو ایک کروڑ سے زائد لوگوں کا شہر ہے، اس میں سے اگر دو لاکھ یا تین لاکھ کے قریب لوگ مینار پاکستان پہنچ بھی جائیں تو اس کا مطلب یہ کہاں نکلتا ہے کہ پورا لاہور سیاسی طور پر آپ کی مٹھی میں آ گیا ہے۔ یہ ایک خام خیالی ہے اور عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں بھی اس ’’خام خیالی‘‘ کو اپنے ذہن پر سوار کر لیا۔۔۔ اور یہ سمجھ لیا کہ لاہور ان کی گرفت میں آ گیا ہے، لیکن الیکشن کے نتائج نے انہیں بہت رنجیدہ کر دیا،مگر کسی نے ان کے ’’کان‘‘ میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے ساتھ ’’دھاندلی‘‘ ہوئی ہے، سو انہوں نے اپنے پورے پانچ سال اسی ’’خام خیال‘‘ کے ساتھ سڑکوں پر گزار دیئے اور ابھی تک روڈ ماسٹر ہیں میں آج صبح بطور خاص مینار پاکستان گیا۔

میں جاننا چاہتا تھا کہ گزشتہ دو روز سے مینار پاکستان کے سینے پر جو رقص ہوتے رہے ہیں جو نعرے لگائے جاتے رہے ہیں، جو چوڑیاں چھنکائی جاتی رہی ہیں جو ترانے گائے جاتے رہے ہیں۔ مختلف مقررین جو خطابات فرماتے رہے ہیں اور فرماتے رہے ہیں کہ وہ ایک عظیم پاکستان بنائیں گے اور خوشحالی لائیں گے، انصاف دلائیں گے۔ قوم کو ابھاریں گے، ملک کو سنواریں گے۔

یہ سب کچھ سن کر مینار پاکستان کی کیا کیفیت ہے، وہ اپنے سینے رقص کرنے والے اپنے بچوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ کیا وہ خوش ہے کہ قوم کے چند لیڈر اسے ایک ’’اکھاڑے‘‘ میں بدل رہے ہیں، کیا وہ خوش ہے کہ اس کے سینے پر دھمالیں ڈالی جا رہی ہیں۔

کیا وہ خوش ہے کہ اسے ’’سیاسی طاقت‘‘ کے اظہار کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بھی دیکھنا تھا کہ حکومت نے جو بہت کوشش کرکے اسے ایک خوبصورت مقام بنانے میں محنت کی ہے،سرمایہ خرچ کیا ہے، پی ٹی آئی کے جلسے نے اس کی خوبصورتی میں کس قدر اضافہ کیا ہے۔

کتنے نئے پھول اگائے ہیں، کتنے نئے پودے لگائے ہیں۔ عمران خان تو ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے بہت جذباتی ہے، اس نے تو کے پی کے میں ایک کروڑ درخت لگانے کا نعرہ لگایا ہوا ہے تو یہاں کے پھولوں اور پودوں کو محفوظ بنانے کے لئے اس نے اپنے کارکنوں کی کیا تربیت کی ہے؟۔

افسوس کے مجھے ایک بدلا ہوا مینار پاکستان نظر آیا۔ کل تک جو پھول مہک رہے تھے وہ مرجھا چکے تھے۔ تا حد نگاہ پانی کی خالی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ، سگریٹ کے ٹوٹے۔ جنریٹروں سے نکلنے والے دھوئیں کی بدبو عارضی چولہوں کے نشان، سبز پری کی خالی بوتلیں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، لپ اسٹیک کے خول، ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور جلی ہوئی گھاس مینار پاکستان ایک اجڑے ہوئے میدان کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ رات کو کوئی ظالم بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ آیا۔۔۔ اور مینار پاکستان کے ایک ایک چپے پر اپنی ظلمت کے نشان چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ کوئی بادشاہ عزت کمانے آیا اور مینار پاکستان کی حرمت لوٹ کے لے گیا۔۔۔

حیرانی کے عالم میں میں مینار پاکستان کے پاس چلا گیا، میں در اصل پوچھنا چاہتا تھا مینار پاکستان سے کہ گزشتہ دو راتوں میں جو تجھ پر گزری کیا تو اس پر خوش ہے۔ مگر مینار پاکستان خاموش تھا۔۔۔ میں خاموشی سے اس کے سائے میں بیٹھ گیا۔۔۔ اچانک، اچانک دو قطرے میرے جسم پر گرے میں سمجھا۔۔۔ شاید پسینے کے قطرے ہیں مگر تھوڑی دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ پسینے کے نہیں مینار پاکستان کے آنسو ہیں۔۔۔ مجھے خیال آیا کہ گزشتہ رات ایک عظیم سیاستدان نے لاکھوں لوگ اکٹھے کر کے جو عزت اس مقام کو دی ہے، شاید خوشی کے آنسو ہیں، مگر یہ میری غلط فہمی تھی۔۔۔ یہ خوشی کے نہیں رونے کے آنسو تھے اور میرے مینار پاکستان کے آنسو تھے۔ یہ احتجاج کے آنسو تھے، مینار پاکستان اب مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’یہ میرے ارمان کے آنسو ہیں۔ سن اے قلم کار دنیا میں اگر پاکستانیوں کے لئے کوئی دنیاوی طور پر احترام کی جگہ ہے تو وہ یہی مینار پاکستان ہے یا مزار قائد ہے۔ پاکستان سب سے پہلے یہاں بنا تھا، یہ جگہ پاکستان کی بنیاد ہے یہ ایک پاکیزہ مقام ہے اور مقام کی ایک شان ہے احترام ہے۔

یہاں تو آنے والی نسلوں کے لئے ایک پیغام ہے یہاں تو علم و دانش کی محفلیں سجنی چاہئیں، یہاں تو بابا ئے قوم کے افکار و کردار پر لیکچر ہونے چاہیں یہاں تو تحریک پاکستان سے لے کر قیام پاکستان تک کی یادیں دہرانی چاہئیں یہاں تو تحریک پاکستان کے شہیدوں اور غازیوں کے قصے سننے اور سنانے چاہیں۔ یہاں تو دی جانے والی قربانیوں کا ذکر ہونا چاہئے، کیا یہ جگہ ناچ گانے اور بھنگڑے ڈالنے کی ہے کیا یہ جگہ اس لئے ہے کہ تم لوگ ڈھول باجے بجاؤ کیا یہ جگہ رقص و سرور کی محفلیں سجانے کے لئے ہے۔ کیا یہ جگہ اپنی مصنوعی طاقت دکھانے کی ہے کیا یہ جگہ مرنے اور مارنے کے نعرے لگانے کی جگہ ہے کیا یہ جگہ اس لئے ہے کہ تم اسے بھرنے کے دعوے کرتے ہوئے اپنی طاقت کا اظہار بناؤ، کیا یہ جگہ محض سیاسی اجتماع کے لئے رہ گئی ہے۔

تم جانتے ہو!

شہدا کی ارواح گزشتہ رات بابائے قوم کی قیادت میں یہاں موجود تھیں۔۔۔ وہ سارے تماشے دیکھتی رہیں اور روتی رہیں سب حیران تھے کہ ہم نے جس جگہ کو پاکستان کے قیام کا ’ایمان‘ بنایا یہ کون لوگ ہیں جو اسے ’’اکھاڑہ‘‘ بنائے پھرتے ہیں۔

مینار پاکستان بہت جذباتی ہو رہا تھا، میں نے پوچھا تو کیا یہاں جلسے نہیں ہونا چاہئیں؟

جواب آیا۔

اگر یہاں جلسہ نہ کیا جائے تو کیا قیامت آ جائے گی؟

یہ تو سیاسی مسجد ہے اس کا احترام ہونا چاہیے۔ یہاں تو ہر طرح کی قیادت کو باوضو ہوکے آنا چاہیے۔ یہ کھیل تماشے، گانے بجانے، گالی گلوچ، رقص و سرور، الزام تراشی کی جگہ نہیں ہے اور سنو قلم کار۔۔۔ پیغام دے دو، اپنے ملک کی ہر ایک قیادت کو، کہ اگر انہوں نے مینار پاکستان کو عزت نہ دی اور اسے صرف کرسی کے لئے استعمال کیا تو پھر یاد رکھو کرسی آگے آگے ہوگی اور تم پیچھے اور سنو یہ مینار پاکستان کا نہیں ہزاروں شہیدوں اور غازیوں کا پیغام ہے ہر اس قیادت کے لئے جو اس مقام کو اکھاڑہ بنانا چاہتی ہے، واپسی پر میں نے سبز پری کی ایک خالی بوتل اٹھائی اور کچھ دور کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی۔

مزید : رائے /کالم


loading...