ایسی بھی کیا جلدی؟

ایسی بھی کیا جلدی؟
ایسی بھی کیا جلدی؟

  

نادان ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو ایک ساتھ جمع کر کے چار برس کی قلیل مدت میں ہی فائرنگ سکواڈز اور گیس چیمبرز کے حوالے کر کے تاقیامت بدنامی کما لی۔ لگ بھگ چار برس کے دورانیے میں پول پوٹ نے بیس لاکھ سے زائد کمبوڈیائی طبقاتی دشمنوں کو گولیوں سے یا تھکا تھکا کے مار ڈالا اور تاریخ میں قصائی کا ٹائیٹل پایا۔ روانڈا کے ہوتوؤں کو اور بھی جلدی تھی۔

انہوں نے چند ماہ میں ہی آٹھ لاکھ تتسیوں کو بھالوں اور تلواروں سے چھید کے بیسیویں صدی کے آخری عظیم نسل کشوں میں خود کو رکھوا لیا۔ اپنے دشمنوں کو جلد جلد دوچار بڑی بڑی وارداتوں میں ٹھکانے لگانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خبر بہت زیادہ پھیل جاتی ہے ، سیاسی و بین الاقوامی ردِعمل اکثر شدید ہوتا ہے اور مورخ کی جلی کٹی الگ سننا پڑتی ہے۔

مگر سیکھنا چاہیں تو نادانی سے بڑا معلم کوئی نہیں۔مثلاً پچھلے ایک عشرے کے دوران بھارت میں دو دو چار چار کر کے مخالف مذہب ، سیاسی نظریے اور ذات کے جتنے لوگوں کو مارا گیا اگر یہ تعداد جمع کی جائے تو ریاست گجرات میں فروری مارچ دو ہزار دو میں مرنے والوں سے زیادہ نکلے گی، لیکن کئی برس پر پھیلی مارا ماری ہونے کے سبب گجرات بن کے کم ازکم ہمارے سر پر تو نہیں ٹوٹے گی۔

مشرقی پاکستان میں نو ماہ کے عرصے میں بہت لوگ مارے گئے۔ متحدہ پاکستان کی تاریخ تا قیامت انیس سو اکہتر کی صفائیاں پیش کرتی رہے گی۔ سوچئے اگر پچاس ہزار کشمیری اٹھائیس برس کے بجائے اٹھائیس دن میں مارے جاتے تو دنیا میں بھارت قومی ساکھ کے پائیدان پر کہاں کھڑا ہوتا ؟ کالعدم تحریکِ طالبانِ پاکستان کو کیا فوری ضرورت تھی آرمی پبلک سکول پشاور میں ایک ساتھ ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کو قتل کرنے کی؟ نتیجتاً اپنے لئے فائدہ مند "ایک بھٹکا ہوا بھائی " ہونے کا قومی تاثر بھی اپنے ہاتھوں قتل کردیا۔

مگر باقیوں نے اپنی خطاؤں سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا اور اب وہ اکثریتی غصہ جگائے بغیر ٹارگٹ حاصل کر رہے ہیں۔ جیسے اب کرسچن بستیوں کو گھیر کے نہیں جلایا جاتا ، مکینوں کو الزام کی تلوار سے اڑایا جاتا ہے۔ مئی دو ہزار دس میں لاہور میں دو احمدی عبادت گاہوں پر حملوں میں سو کے لگ بھگ اجتماعی ہلاکتوں سے یہ سیکھا گیا کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں۔چنانچہ تکنیک بدل گئی اور لاہوری واردات کے بعد سے اب تک ایک ایک دو دو کی شکل میں اتنے ہی احمدی ٹارگٹ کلنگز میں ہلاک ہوئے اور چیختی چنگھاڑتی سرخیوں کی خوراک بھی نہیں بنے۔

پچھلے پندرہ برس میں کوئٹہ کے ڈیڑھ ہزار سے زائد شیعہ ہزارہ مارے گئے۔ بیچ میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ عجلتی قاتلوں نے سو سو کو ایک ساتھ ٹھکانے لگایا، مگر اس طرح کے عمل نے بہت سے ان لوگوں کو بھی کچھ عرصے کے لئے متنفر کر دیا جو قاتلوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

جب کالعدم تنظیم کا چولا پہن کر دو دو چار چار کر کے تمام ہزاروں کو اگلے پندرہ بیس برس میں آرام سے ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے تو مفت میں اضافی بدنامی کمانے کی کیا ضرورت؟ اس معاملے میں کراچی کا تجربہ قاتلوں کی اگلی نسل کے کام آ رہا ہے۔سن اسی کے عشرے میں کچھ بستیوں اور برادریوں کو اجتماعی طور پر ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

پھر کراچی ٹارگٹ کلنگ کی کامیاب لیبارٹری بن گیا اور اگلے بیس برس کے دوران پندرہ سے بیس ہزار شہریوں کو ایک دو پانچ دس کر کے ٹپکا دیا گیا۔ کام بھی اتر گیا ، بوریاں بھی بک گئیں اور باقی پاکستان کی ہڈیاں بھی نہیں سنسنائیں۔

اس کارِ خیر میں صرف نان سٹیٹ ایکٹرز ہی کیا۔اپنے راؤ انوار سابق ایس ایس پی کو ہی دیکھ لیں۔پچھلے پندرہ برس کے دوران دھشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران شبہ ہے کہ ایک راؤ انوار کے پولیس سکواڈ نے ہی چار سو سے زائد مبینہ ملک دشمنوں کو پولیس مقابلوں میں ٹھکانے لگایا۔ یہی چار سو ایک ماہ میں مرتے تو اب تک شاید راؤ صاحب کی تصویر پر بھی پھولوں کی مالا چڑھ چکی ہوتی،مگر وہ جو کہتے ہیں کہ

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ( کلیم عاجز )

نقیب اللہ محسود جیسوں کی راؤ انواروں کے ہاتھوں ہلاکت گلے کا ہار ہو جانا محض اتفاق ہے۔اس سے دیگر سٹیٹ یا نان سیٹ ماہرین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بھلا کون آپ کا ہاتھ روک رہا ہے ؟ ٹھنڈا ٹھنڈا کر کے کھائیں اور سب ناپسندیدہ کمزوروں کو ٹھنڈا کرتے جائیں۔

مزید : رائے /کالم